ایغور مسلمانوں پر ڈھائےجارہے ظلم وستم پر عالمی برادری کو توجہ دینے کی ضرورت
دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی نے اپنے زیرقبضہ یوروپ میں تقریبا ساٹھ لاکھ یہودیوں کاقتل عام کرکے یوروپ کے دوتہائی یہودیوں کا صفایا کردیا تھا کیوں کہ جرمنی کا ڈکٹیٹر اڑولف ہٹلر انہیں کم تر درجے والی نسل کا سمجھتا تھا۔ کچھ اسی طرح سے آج کل چین کے شمال-مغربی صوبے شنجیانگ میں بھی ہورہا ہے جہاں لاکھوں ایغور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھ کر ان پر ظلم وستم ڈھائے جارہے ہیں۔ ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت مٹائی جارہی ہے۔ ان کے بچوں کو بورڈنگ اسکولوں میں رکھ کر نہ صرف چینی زبان کا درس دیا جارہا ہےبلکہ وہ سب کچھ سکھایا جارہا ہے جو وہاں کی کمیونسٹ حکومت سکھانا چاہتی ہے۔ کیمپوں میں جبری نسبندی کرائی جاتی ہے۔ خبروں کے مطابق پیئر اَپ اینڈ بی کم اے فیملی پروگرام کے تحت جن لوگوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے ان کے گھروں پر نگرانی رکھنے کے لیے چینی شہریوں کو رکھا جاتا ہے۔ ان کی مسجدوں اور دوسرے مقدس مقامات کو مسمار کیا جارہا ہے تاکہ ان کی شناخت ہی پوری طرح سے ختم ہوجائے۔مقامی لوگوں کو اندیشہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب ایغور مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوجائےگا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم کی داستان سامنے آنے کے بعد بھی بین الاقوامی برادری کا ویسا رد عمل سامنے نہیں آیاجیسا کہ آنا چاہیے۔
شنجیانگ صوبہ باہری دنیا سے بالکل کٹاہوا ہے۔ وہاں کسی غیرملکی شہری کے جانے کی اجازت نہیں لہذا وہاں کی اصل صورت حال سے لوگ آگاہ نہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایغور مسلمانوں کی حالت تیزی کے ساتھ بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔
برطانیہ سمیت دنیا کی دوسری طاقتوں کو چین کی ضرورت ہے شاید اسی وجہ سے وہ ایغور، تبت اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی جیسے مسئلوں پر لب کشائی نہیں کرتیں۔
چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ آنے والے دور کے لیے ایک دردناک مثال قائم کرے گا۔ چین ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کافی آگے ہے۔ اس نے شنجیانگ میں جدید ترین کیمروں کا جال بچھا رکھاہے جس سے وہاں کے ہر شہری پر نظر رکھی جارہی ہے۔ماضی میں مصر، ملیشیا اور پاکستان جیسے مسلم ملکوں سمیت غیرملکی حکومتوں پر دباؤ ڈالاگیا کہ وہ ایغور طلباء کو چین واپس بھیجیں اور ان ملکوں سے واپس آنے کے بعد ان میں سے کچھ کو دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں کسی کو کچھ نہیں معلوم۔
اس ماہ کے اوائل میں صرف برطانیہ اورترکی وہ دو ممالک تھے جنہوں نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں ایغور مسلمانوں پر ہورہے ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان دونوں ملکوں کے وزراء کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیجنگ دوروں کے دوران اور دوسرے مواقع پر بھی چین کے اپنے ہم منصب سے بات چیت کے دوران بھی یہ معاملہ اٹھایا لیکن سرکاری تقریروں اور تبصروں میں یہ موضوع بالکل غائب رہتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے جولائی 2018 میں جب چین کا دورہ کیا تو وہ بھی اس موضوع پر خاموش رہے شاید چین کے ساتھ تجارت کا معاملہ ان کے ذہن میں رہا ہوگا اور انہوں نے سوچا ہوگا کہ ایغور مسلمانوں کا ذکر کرنے سے تجارتی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کے بعد جب ایملی تھارنبیری کارگزار وزیر خارجہ بنیں تو انہوں نے بھی لندن میں رہنے والے ایغور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ہمیں اس مسئلہ کے بارے میں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ یہ بہت دنوں تک جاری نہیں رہ سکتا۔
چین میں بودھ مذہب کے ماننے والے اور عیسائی بھی ہیں اور یہ سب اقلیتی فرقہ کے لوگ ہیں لیکن ان کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کیا جاتا جیسا کہ ایغور مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ عیسائیوں اور بودھ مذہب کے ماننے والوں کے ہمدرد اور بہی خواہ ساری دنیا ہے لیکن ایغور مسلمانوں کا درد بانٹنے والے شاید ہی کوئی ہو۔صرف ترکی ہی ایسا ملک ہے جس نے چین کے ظلم وجور کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ورنہ مشرق وسطی کے مسلم ممالک بھی چین کے ڈر سے اس مسئلہ پر خاموش رہتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اورہیومن رائٹس واچ سمیت حقوق انسانی کی بہت سی تنظیموں نے پچھلے ہفتے یوروپی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ پر چین کی جم کر تنقید کریں۔ اس سے پہلے امریکہ نے حقوق انسانی کے اپنے سالانہ جائزے میں بیجنگ کی سخت الفاظ میں تنقید کی تھی۔
لیکن صرف تنقید کرنا ہی شاید کافی نہیں ہے بلکہ چین کے ان اہلکاروں پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے جو ایغور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان حراستی کیمپوں میں اب تک کتنے لوگ فوت ہوچکے ہیں۔ کیوں کہ ان کیمپوں سے خبریں باہرنکل کے آنا شاید ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر ملکوں کے ذریعہ اس کی جانچ پڑتال بہت ضروری ہے۔ بیجنگ میں مسند اقتدار پر بیٹھے لوگ اگر سمجھتے ہیں کہ وہ بغیر روک ٹوک ایغور مسلمانوں پر اپنا ظلم جاری رکھ سکتے ہیں تو وہ یقینا ایسا کرتے رہیں گے کیوں کہ بین الاقوامی برادری اس معاملہ پر خاموش ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں ظلم کی انتہا قتل عام کی شکل اختیار کرلے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایغور مسلمانوں کی باتیں کرنے سے چین کے ساتھ رشتے خراب ہوسکتے ہیں۔ اب چوں کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اس لیے یہ طاقتیں اس موضوع پر زیادہ کچھ نہیں بولتیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسا نہ کرنے سے صورت حال خطرناک حد تک پہنچ جائے گی اور تب اس پر قابو پانا مشکل ہوجائےگا۔
Comments
Post a Comment