موضوع: تائیوان کے ساتھ تعلقات ہندوستان کیلئے کافی اہم


چین کی توسیع پسندانہ پالیسی اور اس کا جارحانہ رویہ دنیا کے اکثر ملکوں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے ۔ چین کے امریکہ اور ہندوستان کے ساتھ اس وقت جو تعقات ہیں اسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں تائیوان وہ ملک ہے جو چین کے بڑھتے قدموں کو روکنے یا اسے نشانہ بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 

تائیوان کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات چین کیلئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ کے متعدد سینئر حکام نے تائپئی کا دورہ کیا ہے۔ معاشی معاملات کے نائب وزیر کیتھ کریچ جس دن تائپئی کے دورے پر تھے اسی روز چین کے جنگی طیاروں نے تائیوان کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کی اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ امریکہ کے ساتھ تائیوان کے بڑھتے تعلقات اسے منظور نہیں۔ تائیوان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے چینی طیاروں کو روکنے کیلئے اپنے جنگی طیارے روانہ کر دیئے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بیجنگ نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ آبنائے تائیوان میں فوجی مشقیں شروع کررہا ہے۔ شاید اتنا کافی نہ تھا اس لئے چین کی فضائیہ نے ایک ویڈیو بھی جاری کیا جس میں دکھایا گیا کہ نیوکلیائی صلاحیت والے ایچ-6 طیارے امریکہ بحرالکاہل میں گووام جزیرے پر اینڈرسن ایئر فورس اڈے پر حملے کر رہے ہیں ۔ جناب کیتھ امریکی وزارت خارجہ کے سب سے سینئر اہلکار ہیں جنہوں نے پچھلے چالیس برسوں میں پہلی بار تائیوان کا دورہ کیا ہے۔ چینی روزنامہ گلوبل ٹائمز نے جناب کیتھ کے دورے کے حوالے سے تحریر کیا کہ تائیوان کی لیڈر سائی انگوین آگ سے کھیل رہی ہیں اور دھمکی دی کہ ان کی کسی بھی حرکت سے چین کے علیحدگی پسندی مخالف قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو جنگ چھڑ جائے گی جس میں سائی کا صفایا ہو جائے گا۔ ادھر چین کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ تائیوان اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔

تاہم چین کی اس حرکت کا صدر سائی انگوین پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اور انہوں نے امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے کا عہد کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن اور تائپئی ہند-بحرالکاہل میں امن و استحکام اور ترقی کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ تائیوان نے چین کو انتباہ بھی دیا کہ اسے اپنے دفاع کا پورا حق ہے اور یہ کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ 

ٹرمپ انتظامیہ ہر طرح سے تائیوان کی مدد کر رہا ہے اور حالیہ دنوں میں اس امداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ جناب کریچ کے دورے سے قبل وزیر صحت ایلکس آذرنے بھی ان خبروں کے درمیان تائپئی کا دورہ کیا تھا کہ امریکہ تائیوان کو بڑی تعداد میں اسلحے سپلائی کر رہا ہے ان میں لمبی دوری تک مار کرنے والی میزائلیں بھی شامل ہیں جو جنگ کی صورت میں چین کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ اس سے قبل پچھلے سال امریکہ نے تائیوان کو آٹھ ارب ڈالر مالیت کے 66 ایف -16 طیارے سپلائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

چین سے کورونا وائرس کی وبا شروع ہوئی تو بیجنگ نے اس پر پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کی جس کے لئے ساری دنیا نے اس کی مذمت کی لیکن وبا ءپھیلنے کے بعد تائیوان نے جس طرح اس پر قابو پایا اس کی تمام دنیا میں تعریف ہو رہی ہے۔ وباء سے لڑنے کیلئے اس کی تیاری کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے بھارت سمیت 80 سے زیادہ ملکوں کو دوائیں سپلائی کی۔ 

تائیوان کو ایک زمانے تک چین کے ڈر سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک وَن چائنا پالیسی کے مطابق کام کر رہے تھے۔ لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ اب دنیا کو تائیوان سے ہونے والے فائدے نظر آ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ 

ہندوستان نے بھی تائیوان کے ساتھ اپنے رشتوں کو ایک نئی سمت دنیا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان معاشی اور تجارتی تعلقات کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ اس سال مئی میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ صدر سائی کی حلف برداری کی تقریب میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے دو ارکان نے شرکت کی اور اس ملک میں قائم جمہوریت کی کافی تعریف کی۔ اس سے دنیا کو یہ پیغام مل گیا کہ مودی اور سائی حکومتوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ اس سال جولائی میں حکومت ہند نے تائیوان میں اپنا نیا سفیر مقرر کیا۔ ہند-بحرالکاہل میں چین کی توسیع پسندی اور بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی جنگ کے پس منظر میں ہندوستان کیلئے تائیوان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا اچھا موقع ہے۔ چین کی بدحال معاشی صورتحال کے پیش نظر تائیوان کے سرمایہ کار چین سے کافی مایوس نظر آ رہے ہیں۔ وہ دوسرے بازاروں کی تلاش میں ہیں اور ابھرتی ہوئی مضبوط معیشت کی حیثیت سے ہندوستان انہیں سرمایہ کاری کا اچھا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ تائیوان کی نئی صدر سائی اپنی نیو ساؤتھ باؤنڈ پالیسی کے تحت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء میں نئے پارٹنروں کی تلاش میں ہیں۔ ہندوستان کئی طرح سے تائیوان کا تجارتی پارٹنر بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں میں ہندوستان ہمیشہ چھوٹے اور کمزور ملکوں کیلئے آواز اٹھاتا رہا ہے اس لئے اسے تائیوان کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف چین کے باعث نہیں بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تائیوان ایک ایسا ملک ہے جس سے سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعلقات قائم کرنا ہندوستان کے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ