پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر
پاکستان جوڑ توڑ کے ذریعے بھلے ہی ہر بار ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ جاتا ہو لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر بار دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور۔ پاکستانی حکومت کہتی ہے کہ اس نے مضبوط اقدامات کے ذریعہ دہشت گرد گروپوں پر قدغن لگانے کا کام کیا ہے۔ دہشت گردوں کے بینک اکاؤنٹس تک منجمد کئے گئے ہیں۔ اپنے دعوؤں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے، مطلوبہ دستاویز فراہم کرتے ہوئے عالمی نگرانوں کے سامنے حکومت واہ واہی لوٹنا چاہتی ہے جبکہ اصلیت یہ ہے کہ حکومت دوسری طرف دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست رشتہ قائم رکھے ہوئے ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان میں شیعہ مخالف مظاہرےہوئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں سپاہ صحابہ پاکستان جھنڈے لہرائے گئے تھے۔ یہ وہی سنی تنظیم ہے، جس پر سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی عائد کردی تھی۔یہ تنظیم دوبارہ حرکت میں آئی تو 2012 میں دوبارہ پابندی عائد کی گئی۔لیکن آج بھی یہ تنظیم دوبارہ مستحکم ہوکر اپنی کارکردگی انجام دے رہی ہے۔متعدد دوسری دہشت گرد تنظیموں کی طرح اس تنظیم کو بھی نفرت انگیز تقریر کرنے اور اپنے کارکنوں کو دوسرے گروہوں کے خلاف بھڑکانے کے ساتھ سیاسی عہدوں کے لیے انتخاب لڑنے کی بھی آزادی حاصل ہے۔
اسی طرح اے ایس ڈبلیو جے، جس پر پابندی لگادی گئی تھی اور دیگر شدت پسند تنظیمیں مسلسل مختلف ناموں سے پاکستان میں جلسے منعقد کرتی رہتی ہیں۔ اے ایس ڈبلیو جے کے رہنماؤں کو ریاستی پروٹو کول ملتا ہے جبکہ یہ تنظیمیں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت کی فضا بنانے کے لیے کام کرتی ہیں۔کالعدم اے ایس ڈبلیو جے کے رہنما اورنگ زیب فاروقی کے مطابق یہ صرف کاغذی پابندیا ں ہیں اور تقریبات کے انعقاد پر حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔کراچی میں شیعہ مخالف ایک گروپ تحریک لبیک پاکستان ہے، جو ایک بریلوی گروپ ہے اور اچانک سرگرم ہوکر انتہا پسند گروپوں کی صف میں داخل ہوگیا ہے۔تحریک لبیک پاکستان نے 2017 میں توہین رسالت کے نام پر پرتشدداحتجاج کیا تھا اور پاکستانی فوج نے اس گروپ کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔حکومتی سرپرستی نے ان گروپوں کو مزید تقویت بخش دی ہے اوریہ گروپ اقلیتوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کررہے ہیں۔ماہرین بتاتے ہیں کہ کشمیری عسکریت پسند اور پاکستانی طالبان بھی دوبارہ منظم ہورہے ہیں اور کچھ معاملات میں انہیں ریاستی سرپرستی بھی حاصل ہے۔لشکر طیبہ کی سیاسی سرگرمیاں بھی ان دنوں تیز ہیں اور یہ مانا جارہا ہے کہ اس لشکر کو بھی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔جے یو ڈی چیف حافظ سعید کے بیٹے حافظ طلحہ سعید کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیاں ملک بھر میں زور و شور ہیں۔پاکستان میں متعدد مساجد ابھی بھی جے یو ڈی سے وابستہ ہیں۔ان مساجد میں اشتعال انگیز اشتہارات تقسیم کیے جاتے ہیں اور جہاد کے تربیتی کو رس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسی طرح کووڈ۔ 19 کے دوران جیش محمد ایک بار پھر متحرک ہوگیا ہے۔ اس کے کئی رہنماؤں نے مذہبی کانفرنسوں میں حصہ لیا ہے۔ ان کی تقریریں سوشل ویب سائٹس پر اپلوڈ ہوتی ہیں اور جہاد کے لیے چندہ مانگتی ہیں۔
پاکستان میں عسکریت پسندوں کا دوبارہ فعال ہونا خطرناک ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کےلیے بھی یہ تنظیمیں بڑا خطرہ ہیں۔پاکستانی طالبان کے رشتے، پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے والی سرحد کے دوسری طرف افغان طالبان سے ان دنوں بہتر چل رہے ہیں۔ اور اس کا اثر پاکستان میں پاکستانی طالبان کے عروج کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ پاکستانی سیاستداں افرا سیاب خٹک کہتے ہیں، جیسے جیسے افغان طالبان اقتدار کے قریب پہنچتے جاتے ہیں، پاکستانی طالبان کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں شک نہیں کہ پاکستان ایک طرف ساری دنیا کو دکھانے کے لیے دہشت گردوں کی مخالفت کررہاہے، لیکن در پردہ دہشت گردوں کی حمایت میں سرگرداں ہے۔
یہ عوامل معاشرے پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کا اندازہ سلمان تاثیر کے قاتل کی گل پوشی اور ہجوم کے ہاتھوں اہانت دین کے ملزموں کے مارے جانے کے واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ معروف پاکستانی اخبار اْمّت، پیرس میں ایک استاد کا سر قلم کرنے والے چیچن نوجوان کی مدح سرائی کرتا ہے لیکن حکومت اخبار کے اس عمل سے چشم پوشی کرتی ہے جب کہ روشن خیال اور سیکولر کردار کی وکالت کرنے والے اخباروں اور اداروں کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنی غلطیوں سے سبق نہیں لیتا تو یہ صرف اْس کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔
اسی طرح اے ایس ڈبلیو جے، جس پر پابندی لگادی گئی تھی اور دیگر شدت پسند تنظیمیں مسلسل مختلف ناموں سے پاکستان میں جلسے منعقد کرتی رہتی ہیں۔ اے ایس ڈبلیو جے کے رہنماؤں کو ریاستی پروٹو کول ملتا ہے جبکہ یہ تنظیمیں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت کی فضا بنانے کے لیے کام کرتی ہیں۔کالعدم اے ایس ڈبلیو جے کے رہنما اورنگ زیب فاروقی کے مطابق یہ صرف کاغذی پابندیا ں ہیں اور تقریبات کے انعقاد پر حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔کراچی میں شیعہ مخالف ایک گروپ تحریک لبیک پاکستان ہے، جو ایک بریلوی گروپ ہے اور اچانک سرگرم ہوکر انتہا پسند گروپوں کی صف میں داخل ہوگیا ہے۔تحریک لبیک پاکستان نے 2017 میں توہین رسالت کے نام پر پرتشدداحتجاج کیا تھا اور پاکستانی فوج نے اس گروپ کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔حکومتی سرپرستی نے ان گروپوں کو مزید تقویت بخش دی ہے اوریہ گروپ اقلیتوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کررہے ہیں۔ماہرین بتاتے ہیں کہ کشمیری عسکریت پسند اور پاکستانی طالبان بھی دوبارہ منظم ہورہے ہیں اور کچھ معاملات میں انہیں ریاستی سرپرستی بھی حاصل ہے۔لشکر طیبہ کی سیاسی سرگرمیاں بھی ان دنوں تیز ہیں اور یہ مانا جارہا ہے کہ اس لشکر کو بھی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔جے یو ڈی چیف حافظ سعید کے بیٹے حافظ طلحہ سعید کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیاں ملک بھر میں زور و شور ہیں۔پاکستان میں متعدد مساجد ابھی بھی جے یو ڈی سے وابستہ ہیں۔ان مساجد میں اشتعال انگیز اشتہارات تقسیم کیے جاتے ہیں اور جہاد کے تربیتی کو رس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسی طرح کووڈ۔ 19 کے دوران جیش محمد ایک بار پھر متحرک ہوگیا ہے۔ اس کے کئی رہنماؤں نے مذہبی کانفرنسوں میں حصہ لیا ہے۔ ان کی تقریریں سوشل ویب سائٹس پر اپلوڈ ہوتی ہیں اور جہاد کے لیے چندہ مانگتی ہیں۔
پاکستان میں عسکریت پسندوں کا دوبارہ فعال ہونا خطرناک ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کےلیے بھی یہ تنظیمیں بڑا خطرہ ہیں۔پاکستانی طالبان کے رشتے، پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے والی سرحد کے دوسری طرف افغان طالبان سے ان دنوں بہتر چل رہے ہیں۔ اور اس کا اثر پاکستان میں پاکستانی طالبان کے عروج کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ پاکستانی سیاستداں افرا سیاب خٹک کہتے ہیں، جیسے جیسے افغان طالبان اقتدار کے قریب پہنچتے جاتے ہیں، پاکستانی طالبان کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں شک نہیں کہ پاکستان ایک طرف ساری دنیا کو دکھانے کے لیے دہشت گردوں کی مخالفت کررہاہے، لیکن در پردہ دہشت گردوں کی حمایت میں سرگرداں ہے۔
یہ عوامل معاشرے پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کا اندازہ سلمان تاثیر کے قاتل کی گل پوشی اور ہجوم کے ہاتھوں اہانت دین کے ملزموں کے مارے جانے کے واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ معروف پاکستانی اخبار اْمّت، پیرس میں ایک استاد کا سر قلم کرنے والے چیچن نوجوان کی مدح سرائی کرتا ہے لیکن حکومت اخبار کے اس عمل سے چشم پوشی کرتی ہے جب کہ روشن خیال اور سیکولر کردار کی وکالت کرنے والے اخباروں اور اداروں کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنی غلطیوں سے سبق نہیں لیتا تو یہ صرف اْس کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔
Comments
Post a Comment