مقبوضہ  کشمیر میں پاکستانی فوج کے ساتھ چین کی نئی مہم جوئی

شروع شروع میں بیشتر ممالک کا یہی خیال تھا کہ اندو پیسفک علاقے میں چین کو جو تھوڑی بالادستی حاصل ہو رہی ہے وہ کوئی تشویش کی بات نہیں ہے کیونکہ عام تاثر یہی تھا کہ چین کے استحکام سے بین الاقوامی ضابطوں اور تجارت سے مشرقی ایشیائی ممالک کی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا لیکن اب رفتہ رفتہ یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ چین کے ارادے نیک نہیں ہیں اور وہ بے لگام توسیع پسندی کی طرف مائل ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم کرے اور سیکورٹی سے متعلق اپنے طور پر نئے ضابطے وضع کرے۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کے باعث بیک وقت متعدد ملکوں میں چین کے تئیں بیزاری بڑھتی جا رہی ہے۔ شاید چینی قیادت محسوس کرنے لگی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا دبدبہ قائم کر کے قریبی پڑوسیوں کو اپنا ہمنوا بنا لے گی اور اس طرح اسٹریٹیجک اعتبار سے فائدہ حاصل کرے گی۔ اسی مقصد کے تحت چین ساؤتھ چائنا سی میں دوسرے ملکوں کے آبی علاقوں میں ماہی گیری والی کشتیاں لانے اور ڈبونے لگا ہے۔

غرضیکہ پوری دنیا میں اس کی بد نیتی طشت از بام ہو چکی ہےاور متعدد ملکوں کو اس سے شکایت پیدا ہو گئی ہے۔ چند روز قبل جاپان کی راجدھانی ٹوکیو میں کواڈ گروپ میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ساؤتھ اور ایسٹ چائنا سی میں چین کی قابل اعتراض سرگرمیوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو نےساؤتھ اور ایسٹ چائنا سی، تائیوان، میکانگ اور ہمالیہ کے علاقے میں چین کی سر گرمیوں کی مذمت کی جبکہ دوسرے وزرائے خارجہ نے اس بات پر کافی زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی بالادستی قائم کرنے اور تمام ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ آزادانہ جہازرانی اور ہوائی سروس کی بحالی کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ دراصل ایشیا پیسفک علاقے میں چین کی بےجا دخل اندازیوں کی وجہ سے کواڈ ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے اور اب وہ مشترکہ مفاد کے تحفظ کے لئے اس علاقے میں چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کواڈ گروپنگ میں امریکہ، جاپان ، ہندوستان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔

چین نے حالیہ دنوں میں ایسے کئی قدم اٹھائے جن کے تحت تبت، تائیوان اور ہانگ کانگ کا تو اس نے ایک طرح سے سیاسی نقشہ ہی بدل دیا۔ سنکیانگ صوبے میں اس نے ایغور نسل کے مسلمانوں کے انسانی حقوق کو جس بے دردی سے پامال کیا ہے وہ انتہائی شرمناک فعل ہے۔ اقوام متحدہ میں درجنوں ممالک نے اس کی ان حرکتوں کی مذمت کی البتہ اس کا صدابہار دوست پاکستان اس کا دفاع کرنے میں پیش پیش رہتا ہے، ظاہر ہے یہ اس کی مجبوری بھی ہے۔ چین ہی کے سہارے پاکستان اپنی متعدد تخریب کارانہ سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق چین پاک مقبوضہ کشمیر میں ایسے کئی علاقے تلاش کر لئےگئے ہیں جہاں میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کئےگئے ہیں اور انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات بطور خاص محسوس کی گئی ہے کہ ہند چین کا سرحدی تنازع مشرقی لداخ میں شروع ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں چین کی فضائی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ٹھکانے تلاش کرنے میں پاکستانی فوج کی مدد چینی فوج کر رہی ہے اور ایسے میزائل نصب کئے جا رہے ہیں جو زمین سے فضا میں حملہ کر سکیں۔ چینی اور پاکستانی فوجیں مشترکہ طور پر ان علاقوں میں گشت بھی کر رہی ہیں۔ خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا واضح طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب سے ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد کے معاملے میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے تب سے چین اور پاکستان کے درمیان فوجی اور اقتصادی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل آر۔کے۔ایس بھدوریا نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں یہ بتایا کہ بہرحال ان دونوں ملکوں کی یہ مشق کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے ہمیں کوئی خطرہ ہو لیکن یہ بات البتہ محسوس کی گئی ہے کہ چینی اور پاکستانی فوجوں کی مشترکہ مشقیں بڑھ گئی ہیں۔ ایئرمارشل بھدوریا کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان ان دنوں اشتراک و تعاون کافی بڑھ گیا ہے لیکن اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر کوئی مہم جوئی شروع کریں گے۔ تاہم آس پاس کا جو منظرنامہ ہے اور اس سے آگے بھی بعض جگہ کشیدگی کا ماحول ہے، اس پس منظر میں اگر کچھ ایسا واقعہ ہوتا ہے تو بھی ہندوستان کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ حالات سے بخوبی نمٹ سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ