اقلیتوں کو جبری تبدیلیٔ مذہب سے تحفظ دینے میں حکومت پاکستان کی ناکامی
اسلام رواداری محبت اور خیر سگالی کا مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہر شخص اپنے مذہب اور دین پر قائم رہ سکتا ہے۔ کلام پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تمہارا دین تمہارے ساتھ اور ہمارا دین ہمارے ساتھ۔ ایک اور آیت کریمہ ہے جس کا مطلب ہے دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔
لہذا اسلامی نقطۂ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی پر زبردستی اپنے دین کو ترک کر کے اسلام میں داخل کرنا غلط ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور جسے اسلامی مملکت قرار دیا گیا وہاں غیر مسلموں کو جبریہ مسلمان بنانے کی ایک مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ یعنی اسلام کے پیروکار اسلامی تعلیم کی ہی نفی کر رہے ہیں۔ اس جبریہ تبدیلیٔ مذہب کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندو اور عیسائی برادری کی کمسن لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں مسلمان بنا کر شادی کر لی جاتی ہے اور لڑکی کے گھر خاندان والے جب قانون اور عدالت کی مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں تو عدالت میں لڑکی سے یہ کہلوا کر کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہے بات ختم کر دی جاتی ہے۔ بلکہ بعض موقعوں پر تو یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ لڑکیاں جو ابھی سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچیں ان کو بھی انصاف نہیں مل پاتا۔مثال کے طور پر ستمبر کے مہینے میں عبدالصبور نامی ایک شخص نے خیر پور کی ایک چودہ سالہ ہندو لڑکی پرشا کماری کواغوا کر کے شادی کرلی۔ تبدیلیٔ مذہب کے بیشتر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی لڑکی کے والدین نے عمر کی تصدیق کے لیے اسکول سر ٹیفیکٹ پیش کیا لیکن اغوا کنندہ نے جھوٹی سند پیش کی کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہے چنانچہ وہ اپنافیصلہ لینے کی مجاز ہے۔ جب سماج، حکومت، قانون اور انصاف سب مظلوم کے ہی خلاف ہوں تو نتیجہ معلوم۔ یہ کوئی ایک یا استثنائی واقعہ نہیں ہے۔ ہر تھوڑے تھوڑے دنوں میں مذہبی اقلیتوں کی بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف ایسے مظالم کی لرزہ خیز خبریں آتی رہتی ہیں ۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ برائے 2019 میں لکھا ہے کہ ہر سال کم از کم ایک ہزار غیر مسلم لڑکیوں کی جبریہ مذہبی تبدیلی کی جاتی ہے جن میں بیشتر معاملات صوبہ سندھ کے ہیں جہاں پاکستان کے تقریبا 80 لاکھ ہندو رہتے ہیں۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس جدید زمانے میں جبکہ بین اقوامی انسانی حقوق کے اعلامیہ میں صاف کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کا حق ہے یہ ظلم کھلے عام ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس اعلامیہ پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں ۔ لیکن شرم سے گڑ جانے کا مقام ہے کہ ایک طرف اسلام کے داعی ہونے کا دعویٰ اور دوسری طرف جدید سماج سے ہم آہنگ رہنے کا عہد لینے والے ملک پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے اور لگا تار ہو رہا ہے ۔ اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی برائے انسداد جبری تبدیلیٔ مذہب نے اس ماہ چھ سے نو تاریخ تک صوبہ سندھ کا دورہ کیا ۔ اور 19 تاریخ کو کمیٹی کے سر براہ جناب انوار الحق نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پاکستان مذہبی اقلیتوں کو جبری تبدیلی مذہب سے تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بری بات یہ ہے کہ لڑکی کے خاندان کو جو صدمہ پہنچتا ہے اور ان کی جیسی رسوائی ہوتی ہے اس پر بھی قانون اور عدلیہ توجہ نہیں دیتا۔ سندھ کے پانچ اضلاع سانگھڑ، گھوٹکی، سکھر، خیر پور اور میر پور خاص میں یہ برائی عام ہے ۔ انوارالحق صاحب نے لوگوں کے قول و فعل میں تضاد کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہندو برادری کی لڑکیوں کو باہر نکلنے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کی بات کرتے ہیں وہ اپنی بیٹیوں کے معا ملے میں اتنے روشن خیال نہیں ہوتے۔ انوارالحق ککڑ صاحب نے مزید کہا کہ اس برائی کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک جامع بل پیش کیا جائے گا۔ یہ ایک خوش آئند بات لگتی ہے لیکن ایسا قانون بن پائے گا اس کا بھی یقین نہیں۔ آپ جانیں کہ ابھی پچھلے ہی مہینے پاکستانی پارلیمان کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی نے اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق بل کو نا منظور کر دیا جس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق بھی ایک شق موجود تھی- بہر حال مجوزہ بل سے نیک امید رکھی جائے تو بھی قانون بنانے کا کام کوئی راتوں رات نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ فوری طور پر حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ اور سب سے بڑھ کر سماج اس بات کا عہد لے کہ وہ ان ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے جو اپنی وحشیانہ حرکتوں سےاسلام اور پاکستان کا نام بدنام کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی ایک کریہہ شکل دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
لہذا اسلامی نقطۂ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی پر زبردستی اپنے دین کو ترک کر کے اسلام میں داخل کرنا غلط ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور جسے اسلامی مملکت قرار دیا گیا وہاں غیر مسلموں کو جبریہ مسلمان بنانے کی ایک مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ یعنی اسلام کے پیروکار اسلامی تعلیم کی ہی نفی کر رہے ہیں۔ اس جبریہ تبدیلیٔ مذہب کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندو اور عیسائی برادری کی کمسن لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں مسلمان بنا کر شادی کر لی جاتی ہے اور لڑکی کے گھر خاندان والے جب قانون اور عدالت کی مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں تو عدالت میں لڑکی سے یہ کہلوا کر کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہے بات ختم کر دی جاتی ہے۔ بلکہ بعض موقعوں پر تو یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ لڑکیاں جو ابھی سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچیں ان کو بھی انصاف نہیں مل پاتا۔مثال کے طور پر ستمبر کے مہینے میں عبدالصبور نامی ایک شخص نے خیر پور کی ایک چودہ سالہ ہندو لڑکی پرشا کماری کواغوا کر کے شادی کرلی۔ تبدیلیٔ مذہب کے بیشتر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی لڑکی کے والدین نے عمر کی تصدیق کے لیے اسکول سر ٹیفیکٹ پیش کیا لیکن اغوا کنندہ نے جھوٹی سند پیش کی کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہے چنانچہ وہ اپنافیصلہ لینے کی مجاز ہے۔ جب سماج، حکومت، قانون اور انصاف سب مظلوم کے ہی خلاف ہوں تو نتیجہ معلوم۔ یہ کوئی ایک یا استثنائی واقعہ نہیں ہے۔ ہر تھوڑے تھوڑے دنوں میں مذہبی اقلیتوں کی بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف ایسے مظالم کی لرزہ خیز خبریں آتی رہتی ہیں ۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ برائے 2019 میں لکھا ہے کہ ہر سال کم از کم ایک ہزار غیر مسلم لڑکیوں کی جبریہ مذہبی تبدیلی کی جاتی ہے جن میں بیشتر معاملات صوبہ سندھ کے ہیں جہاں پاکستان کے تقریبا 80 لاکھ ہندو رہتے ہیں۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس جدید زمانے میں جبکہ بین اقوامی انسانی حقوق کے اعلامیہ میں صاف کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کا حق ہے یہ ظلم کھلے عام ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس اعلامیہ پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں ۔ لیکن شرم سے گڑ جانے کا مقام ہے کہ ایک طرف اسلام کے داعی ہونے کا دعویٰ اور دوسری طرف جدید سماج سے ہم آہنگ رہنے کا عہد لینے والے ملک پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے اور لگا تار ہو رہا ہے ۔ اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی برائے انسداد جبری تبدیلیٔ مذہب نے اس ماہ چھ سے نو تاریخ تک صوبہ سندھ کا دورہ کیا ۔ اور 19 تاریخ کو کمیٹی کے سر براہ جناب انوار الحق نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پاکستان مذہبی اقلیتوں کو جبری تبدیلی مذہب سے تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بری بات یہ ہے کہ لڑکی کے خاندان کو جو صدمہ پہنچتا ہے اور ان کی جیسی رسوائی ہوتی ہے اس پر بھی قانون اور عدلیہ توجہ نہیں دیتا۔ سندھ کے پانچ اضلاع سانگھڑ، گھوٹکی، سکھر، خیر پور اور میر پور خاص میں یہ برائی عام ہے ۔ انوارالحق صاحب نے لوگوں کے قول و فعل میں تضاد کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہندو برادری کی لڑکیوں کو باہر نکلنے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کی بات کرتے ہیں وہ اپنی بیٹیوں کے معا ملے میں اتنے روشن خیال نہیں ہوتے۔ انوارالحق ککڑ صاحب نے مزید کہا کہ اس برائی کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک جامع بل پیش کیا جائے گا۔ یہ ایک خوش آئند بات لگتی ہے لیکن ایسا قانون بن پائے گا اس کا بھی یقین نہیں۔ آپ جانیں کہ ابھی پچھلے ہی مہینے پاکستانی پارلیمان کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی نے اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق بل کو نا منظور کر دیا جس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق بھی ایک شق موجود تھی- بہر حال مجوزہ بل سے نیک امید رکھی جائے تو بھی قانون بنانے کا کام کوئی راتوں رات نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ فوری طور پر حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ اور سب سے بڑھ کر سماج اس بات کا عہد لے کہ وہ ان ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے جو اپنی وحشیانہ حرکتوں سےاسلام اور پاکستان کا نام بدنام کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی ایک کریہہ شکل دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment