کامن ویلتھ کی میٹنگ میں پاکستان خود اپنی زبان درازی کا نشانہ
کبھی کبھی اندھی دشمنی کے جوش میں کچھ لوگ خود اپنی ہی زبان درازی یا اوٹ پٹانگ باتوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ چند روز قبل کامن ویلتھ ممالک کی وزرائے خارجہ کی ورچوئل میٹنگ میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہندوستان کے خلاف بیان داغتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کہہ گئے جو خود پاکستان پر صادق آتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے بارے میں یہ کہنا چاہا تھا کہ ہندوستان اپنی مذہبی اقلیتوں کے خلاف برے سلوک کررہاہے۔ اور بھی انہوں نے ہندوستان کا نام لیے بغیر بہت کچھ کہا۔ مثلاً دہشت گردی پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ہندوستان کے لیے جنوبی ایشیا کا ایک ملک کہا۔
اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغرب) وکاس سوروپ نے کہا کہ حیرت ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ ملک خود اپنے ہی ملک کی صورت حال کے بارے میں اس کثیر قومی پلیٹ فارم پر یہ باتیں بتارہا ہے! جہاں تک مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کا سوال ہے تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں پر کیا گزررہی ہے۔ وہاں ہندو، عیسائی اور سکھ اقلیتوں کو تو نشانہ بنایا ہی جاتا ہے لیکن احمدیوں کے ساتھ بھی کچھ کم زیادتیاں نہیں ہوتیں جنہیں خود پاکستان نے غیر مسلم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ خود مسلمانوں میں شیعہ فرقہ کے لوگ آئے دن نشانہ بنتے ہیں۔ ان کی مسجدوں اور عبادت گاہوں پر حملے ہوتے ہیں اور انہیں غیر مسلم تک قرار دینے کی مانگ کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کا پاکستان میں یہ حال ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بعض قوانین کا سہارا لے کر بھی انہیں پھنسایا جاتا ہے۔ مثلاً اہانت دین قانون کو، ویسے تو مسلم شہریوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف بطور خاص اس کا استعمال ہوتا ہے۔ ہندوستانی نمائندے نے پاکستان کو یہ بھی یاد دلایا کہ 1971 میں یعنی اب سے 49 سال قبل اسی نے اپنے ہی ملک کے ایک حصہ میں فوج کے ذریعہ قتل عام کرایا تھا۔ پاکستان کا وہ حصہ اس وقت مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا اور اب اس کا نام بنگلہ دیش ہے۔ دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کو یاد دلایا گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کی اتنی ساری تنظیموں اور افراد کو دہشت گرد قرار دیاگیا ہے کہ ان کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ پوری دنیا میں لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور اپنے پڑوسی ملکوں میں ان کے ذریعہ تخریب کاری کراتا ہے بلکہ متعدد غیرملکی دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہ بھی بنا ہوا ہے۔
دراصل پاکستان میں اس وقت اپوزیشن لیڈروں کے احتجاج کا ایک ہمہ گیر سلسلہ چل رہا ہے جس میں فوج کی سیاسی معاملات میں دخل اندازی کی بات کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ لہذا ایک طرف فوج گھبرائی ہوئی ہے کہ وہ براہ راست عوام کے غیظ وغضب کا نشانہ بن رہی ہے تو دوسری طرف فوج کی طرفدار اور مداح کی حیثیت سے عمران حکومت بوکھلائی ہوئی ہے۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ اس سیاسی طوفان کا کس طرح مقابلہ کریں۔ لہذا انہوں نے اپنی ساری طاقت اس بات پر لگادی ہے کہ ہندوستان کو بدنام کرکے اپنے گھریلو طوفان کو بڑھنے سے روکیں۔ اسی لیے وہ ہر بات کے لیے ہندوستان کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ابھی چند روز قبل ایک سنی لیڈر کا کراچی میں قتل ہوا۔ اس کے بعد خود وزیراعظم عمران خان نے براہ راست ہندوستان پر یہ الزام عائد کیا کہ اس قتل کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ پاکستان میں مسلکی تناؤ کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کچھ روز قبل ہندوستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگایا اور اب خود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کامن ویلتھ کی وزرائے خارجہ کی ورچوئل میٹنگ میں بے سر پیر کی بات کرکے ایک کثیرقومی فورم پر بد دلی اور بدمزگی پیدا کی۔ لیکن بوکھلاہٹ کے عالم میں انہیں یہ بھی یاد نہ رہا ہے کہ ‘‘جنوبی ایشیا’’ کے جس ملک کو ہندوستان سمجھ کر اس طرح کے الزامات لگارہے ہیں وہ ہندوستان نہیں خود پاکستان ہے جو پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور مذہبی اقلیتوں پرظلم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایک غریب عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو جسے خود پاکستان کے سپریم کورٹ نے اہانت دین قانون کے ایک معاملے میں بے قصور قرار دے کر رہائی کا حکم دیا تھا، پاکستان چھوڑکر دوسرے ملک میں پناہ لینی پڑی۔ کیونکہ رہائی کے بعد بھی اس پر موت کی تلوار لٹک رہی تھی۔
حکومت پاکستان کے نمائندوں کو اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے اور کم از کم بین الاقوامی یا کثیر قومی اداروں میں سفارتی اور بین الاقوامی آداب کا اتنا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ مذاق کاموضوع نہ بن جائیں۔
اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغرب) وکاس سوروپ نے کہا کہ حیرت ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ ملک خود اپنے ہی ملک کی صورت حال کے بارے میں اس کثیر قومی پلیٹ فارم پر یہ باتیں بتارہا ہے! جہاں تک مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کا سوال ہے تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں پر کیا گزررہی ہے۔ وہاں ہندو، عیسائی اور سکھ اقلیتوں کو تو نشانہ بنایا ہی جاتا ہے لیکن احمدیوں کے ساتھ بھی کچھ کم زیادتیاں نہیں ہوتیں جنہیں خود پاکستان نے غیر مسلم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ خود مسلمانوں میں شیعہ فرقہ کے لوگ آئے دن نشانہ بنتے ہیں۔ ان کی مسجدوں اور عبادت گاہوں پر حملے ہوتے ہیں اور انہیں غیر مسلم تک قرار دینے کی مانگ کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کا پاکستان میں یہ حال ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بعض قوانین کا سہارا لے کر بھی انہیں پھنسایا جاتا ہے۔ مثلاً اہانت دین قانون کو، ویسے تو مسلم شہریوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف بطور خاص اس کا استعمال ہوتا ہے۔ ہندوستانی نمائندے نے پاکستان کو یہ بھی یاد دلایا کہ 1971 میں یعنی اب سے 49 سال قبل اسی نے اپنے ہی ملک کے ایک حصہ میں فوج کے ذریعہ قتل عام کرایا تھا۔ پاکستان کا وہ حصہ اس وقت مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا اور اب اس کا نام بنگلہ دیش ہے۔ دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کو یاد دلایا گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کی اتنی ساری تنظیموں اور افراد کو دہشت گرد قرار دیاگیا ہے کہ ان کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ پوری دنیا میں لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور اپنے پڑوسی ملکوں میں ان کے ذریعہ تخریب کاری کراتا ہے بلکہ متعدد غیرملکی دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہ بھی بنا ہوا ہے۔
دراصل پاکستان میں اس وقت اپوزیشن لیڈروں کے احتجاج کا ایک ہمہ گیر سلسلہ چل رہا ہے جس میں فوج کی سیاسی معاملات میں دخل اندازی کی بات کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ لہذا ایک طرف فوج گھبرائی ہوئی ہے کہ وہ براہ راست عوام کے غیظ وغضب کا نشانہ بن رہی ہے تو دوسری طرف فوج کی طرفدار اور مداح کی حیثیت سے عمران حکومت بوکھلائی ہوئی ہے۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ اس سیاسی طوفان کا کس طرح مقابلہ کریں۔ لہذا انہوں نے اپنی ساری طاقت اس بات پر لگادی ہے کہ ہندوستان کو بدنام کرکے اپنے گھریلو طوفان کو بڑھنے سے روکیں۔ اسی لیے وہ ہر بات کے لیے ہندوستان کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ابھی چند روز قبل ایک سنی لیڈر کا کراچی میں قتل ہوا۔ اس کے بعد خود وزیراعظم عمران خان نے براہ راست ہندوستان پر یہ الزام عائد کیا کہ اس قتل کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ پاکستان میں مسلکی تناؤ کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کچھ روز قبل ہندوستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگایا اور اب خود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کامن ویلتھ کی وزرائے خارجہ کی ورچوئل میٹنگ میں بے سر پیر کی بات کرکے ایک کثیرقومی فورم پر بد دلی اور بدمزگی پیدا کی۔ لیکن بوکھلاہٹ کے عالم میں انہیں یہ بھی یاد نہ رہا ہے کہ ‘‘جنوبی ایشیا’’ کے جس ملک کو ہندوستان سمجھ کر اس طرح کے الزامات لگارہے ہیں وہ ہندوستان نہیں خود پاکستان ہے جو پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور مذہبی اقلیتوں پرظلم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایک غریب عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو جسے خود پاکستان کے سپریم کورٹ نے اہانت دین قانون کے ایک معاملے میں بے قصور قرار دے کر رہائی کا حکم دیا تھا، پاکستان چھوڑکر دوسرے ملک میں پناہ لینی پڑی۔ کیونکہ رہائی کے بعد بھی اس پر موت کی تلوار لٹک رہی تھی۔
حکومت پاکستان کے نمائندوں کو اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے اور کم از کم بین الاقوامی یا کثیر قومی اداروں میں سفارتی اور بین الاقوامی آداب کا اتنا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ مذاق کاموضوع نہ بن جائیں۔
Comments
Post a Comment