پاکستانی فوج ہی ہے پاکستان کے مسائل کی جڑ
پڑوسی ملک پاکستان میں اس وقت بظاہر ایک سویلین حکومت قائم ہے، لیکن اس کے قیام سے لے کر اب تک کے عرصہ میں وہاں نصف سے زائد مدت تک فوج براہ راست اقتدار پر قابض رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منتخب حکومت کے دوران بھی پاکستانی فوج کا سلامتی اور خارجہ پالیسی میں پورا دخل رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انتخابات کے دوران بھی انتخابی عمل اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پاکستانی فوج گہری نظر رکھتی ہے۔ اس عرصے میں پاکستان میں خاص طور پر چار فوجی حکمرانوں نے حکمرانی کی۔ جن میں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کےنام قابل ذکر ہیں۔ جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک فوجی حکمرانی کا سبب سویلین حکومت کی نااہلی، بد عنوانی اور ملک کو لاحق خطرات کو ہی بتایا جاتا رہا۔
موجودہ وقت میں اگر چہ کرکٹر سے سیاستداں بنے عمران خان وزیر اعظم ہیں، لیکن ان کے انتخاب لڑنے سے لے کر ان کی کامیابی اور پھر وزیر اعظم بننے تک کے سفر میں بھی فوج کا کردار سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی مضبوطی کے ساتھ پروان نہیں چڑھ سکی یہی وجہ ہے کہ مختلف سطحوں پر پاکستان اور وہاں کی افواج کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔
حال ہی میں سابقہ اور موجودہ ممبران پارلیمنٹ سمیت مختلف لوگوں نے ایک بار پھر عمران خان کی حکومت کو فوج کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بتایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ فوج کی وجہ سے نہ تو ملک میں استحکام قائم ہو سکا ہے اور نہ ہی لوگوں میں تحفظ ک احساس پیدا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ پڑوسیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی اہلیت بھی پاکستانی فوج نہیں رکھتی ہے۔ سینیٹ کے سابق ممبر اور پشتون رہنما افراسیاب خٹک ،امریکہ میں پاکستان کےسفیررہ چکےحسین حقانی اورامریکہ میں مقیم کالم نویس ڈاکٹرمحمدتقی اور دوسرے شرکأ نے ساؤتھ ایشین اگینسٹ ٹیررازم اینڈ ہیومن رائٹس (ایچ اے اے ٹی ایچ )کی پانچویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے۔ اس گروپ میں سیاستدان ، صحافی ، بلاگر ، سوشل میڈیا کارکن اور سول سوسائٹی کے ممبران شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے مختلف ممالک میں رہنے پر مجبور ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ صرف پاکستان سے باہر ہی پاکستانی فوج کی تنقید کی جاتی ہے۔اس سے قبل افراسیاب خٹک نے پاکستان میں ہی منعقد ایک تقریب میں کہا تھا کہ یہ پاکستان کا سب سے خطرناک مارشل لاء ہے ،کیونکہ اس نے آئینی اداروں کو کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی حکومت سیاسی اداروں کو کنٹرول کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، حکومت قانون سازی ، تحفظ دینے اور قاتلوں کا محاسبہ نہ کرنے میں ناکام رہی ، پاکستان میں بنیادی خرابی مارشل لاء سے پیدا ہوئی، آئین کو روند دیا گیا، بدقسمتی سے ہم غیر اعلانیہ مارشل لاء میں رہ رہے ہیں۔
پاکستانی فوج بھلے ہی وہاں کے سیاستدانوں اور سویلین حکومت کو بد عنوانی کا ذمہ دار قرار دیتی ہو، لیکن بدعنوانی کے سنگین الزمات خود فوج پر بھی لگتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی بحریہ پر سوال اٹھائے ہیں ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بحریہ فاؤنڈیشن جیسے ریاستی اداروں کے تحت چلنے والی کمپنیاں کس قانون کے تحت تعمیراتی اور دوسری کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہیں اور کیا ان کے مالی معاملات کا آڈٹ ہوتا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ ‘ایسی (نیول فاؤنڈیشن جیسی) کمپنیوں کو مالی نقصان کی صورت میں عوام کا پیسہ ڈوب جائے گا اور کیا ایسی صورت میں اس ریاستی ادارے کے سربراہ کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے گا؟’
اب ان واقعات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے داخلی و خارجی مسائل اور وہاں پھیلی بد عنوانی کے لئے پاکستانی فوج کس حد ذمہ دار ہے۔ظاہر ہے کہ جب تک پاکستانی اداروں میں فوجی مذاخلت جاری رہے گی، اس کے مسائل کا تدارک نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے صرف نے ساؤتھ ایشین اگینسٹ ٹیررازم اینڈ ہیومن رائٹس جیسی ایک دو تنظیمیں ہی نہیں، وہاں کے تمام سیاستدان اگر ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو انھیں پختہ عزم کرنا ہوگا اور اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔ ورنہ پاکستانی فوج یوں ہی ملک کے لئے مسائل کھڑی کرتی رہے گی۔
موجودہ وقت میں اگر چہ کرکٹر سے سیاستداں بنے عمران خان وزیر اعظم ہیں، لیکن ان کے انتخاب لڑنے سے لے کر ان کی کامیابی اور پھر وزیر اعظم بننے تک کے سفر میں بھی فوج کا کردار سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی مضبوطی کے ساتھ پروان نہیں چڑھ سکی یہی وجہ ہے کہ مختلف سطحوں پر پاکستان اور وہاں کی افواج کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔
حال ہی میں سابقہ اور موجودہ ممبران پارلیمنٹ سمیت مختلف لوگوں نے ایک بار پھر عمران خان کی حکومت کو فوج کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بتایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ فوج کی وجہ سے نہ تو ملک میں استحکام قائم ہو سکا ہے اور نہ ہی لوگوں میں تحفظ ک احساس پیدا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ پڑوسیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی اہلیت بھی پاکستانی فوج نہیں رکھتی ہے۔ سینیٹ کے سابق ممبر اور پشتون رہنما افراسیاب خٹک ،امریکہ میں پاکستان کےسفیررہ چکےحسین حقانی اورامریکہ میں مقیم کالم نویس ڈاکٹرمحمدتقی اور دوسرے شرکأ نے ساؤتھ ایشین اگینسٹ ٹیررازم اینڈ ہیومن رائٹس (ایچ اے اے ٹی ایچ )کی پانچویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے۔ اس گروپ میں سیاستدان ، صحافی ، بلاگر ، سوشل میڈیا کارکن اور سول سوسائٹی کے ممبران شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے مختلف ممالک میں رہنے پر مجبور ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ صرف پاکستان سے باہر ہی پاکستانی فوج کی تنقید کی جاتی ہے۔اس سے قبل افراسیاب خٹک نے پاکستان میں ہی منعقد ایک تقریب میں کہا تھا کہ یہ پاکستان کا سب سے خطرناک مارشل لاء ہے ،کیونکہ اس نے آئینی اداروں کو کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی حکومت سیاسی اداروں کو کنٹرول کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، حکومت قانون سازی ، تحفظ دینے اور قاتلوں کا محاسبہ نہ کرنے میں ناکام رہی ، پاکستان میں بنیادی خرابی مارشل لاء سے پیدا ہوئی، آئین کو روند دیا گیا، بدقسمتی سے ہم غیر اعلانیہ مارشل لاء میں رہ رہے ہیں۔
پاکستانی فوج بھلے ہی وہاں کے سیاستدانوں اور سویلین حکومت کو بد عنوانی کا ذمہ دار قرار دیتی ہو، لیکن بدعنوانی کے سنگین الزمات خود فوج پر بھی لگتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی بحریہ پر سوال اٹھائے ہیں ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بحریہ فاؤنڈیشن جیسے ریاستی اداروں کے تحت چلنے والی کمپنیاں کس قانون کے تحت تعمیراتی اور دوسری کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہیں اور کیا ان کے مالی معاملات کا آڈٹ ہوتا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ ‘ایسی (نیول فاؤنڈیشن جیسی) کمپنیوں کو مالی نقصان کی صورت میں عوام کا پیسہ ڈوب جائے گا اور کیا ایسی صورت میں اس ریاستی ادارے کے سربراہ کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے گا؟’
اب ان واقعات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے داخلی و خارجی مسائل اور وہاں پھیلی بد عنوانی کے لئے پاکستانی فوج کس حد ذمہ دار ہے۔ظاہر ہے کہ جب تک پاکستانی اداروں میں فوجی مذاخلت جاری رہے گی، اس کے مسائل کا تدارک نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے صرف نے ساؤتھ ایشین اگینسٹ ٹیررازم اینڈ ہیومن رائٹس جیسی ایک دو تنظیمیں ہی نہیں، وہاں کے تمام سیاستدان اگر ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو انھیں پختہ عزم کرنا ہوگا اور اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔ ورنہ پاکستانی فوج یوں ہی ملک کے لئے مسائل کھڑی کرتی رہے گی۔
Comments
Post a Comment