افغانستان کی نئی صورتحال اور پاکستان کی بے چینی
حالانکہ اس مرحلےمیں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کیا ہوگا یا مستقبل قریب میں کس کی طرف سے کیا قدم اٹھایا جانے والا ہے لیکن ایک بات صاف نظر آ رہی ہے کہ پاکستان کی بے چینی صدر ٹرمپ کی جانب سے اچانک امن مذاکرات کا سلسلہ منسوخ کئے جانے کے بعد کافی بڑھ گئی ہے۔اس کی وجہ بھی سمجھ میں آئی ہے ۔ در اصل امریکی اور طالبانی نمائندوں کے مابین امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد اس خطے میں سب سے زیادہ اطمینان پاکستان کو ہوا تھا۔اسکے اطمینان اور خوشی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مذاکرات کے ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملے بھی جاری تھے لیکن ایسا لگتا تھا کہ انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یعنی تاثر یہ ابھر رہا تھا کہ امریکی انتظامیہ کو صرف افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی جلدی ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ صرف طالبان سے یہ گارنٹی مل جائے کہ امریکی فوجوں کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے نیز یہ کہ افغانستان غیر ملکی دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہ کاکام نہیں کرےگا۔ جیسے جیسے مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے سمجھوتے کے امکانات کی امید بھی بڑھ رہی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملے بھی بڑھ رہے تھے۔ افغان حکومت کا اس بات چیت سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔یہ تمام باتیں پاکستان کی خوشی کو دو بالا کر رہی تھیں۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ لگنے لگا کہ اب سمجھوتے کی تفصیلات منظر عام پر آنے والی ہیں۔ اسی درمیان یہ بھی سننے میں آیا کہ ڈیل کو قطعی شکل دینے سے پہلے صدر ٹرمپ اور طالبان کے نمائندوں نیز افغان صدر اشرف غنی کے مابین کیمپ ڈیوڈ میں ‘خفیہ ملاقات’ ہونے والی ہے لیکن اسی دوران طالبان نے ایک خود کش حملے کے ذریعہ ایک امریکی فوجی سمیت 12افراد کو ہلاک کر دیا ۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی انہوں نے لی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹس کے ذریعہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف طالبان سے مجوزہ خفیہ ملاقات کو کینسل کر دیابلکہ امن مذاکرات کے مہینوں پر محیط پورے عمل کو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ طالبان اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے لئے بھی مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ غیر متوقع ضرور تھا۔ کیونکہ ڈیل کی تفصیلات کے سامنے آنے سے قبل ہی طالبان اپنی فتح کا نہ صرف ڈنکا بجانے لگے تھے بلکہ پورے جوش و خروش کے ساتھ جشن منانے کی تیاریاں بھی کرنے لگے۔ ادھر پاکستان میں بالخصوص وہاں کے فوجی ٹولے اور خفیہ ایجنسیوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ سب کچھ ان کے پروگرام اور مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔ ان کی خوشی کے دو پہلو تھے۔ ایک تو یہ کہ ڈیل مکمل ہو جانے کے بعد افغانستان میں طالبان کو بہر حال بالا دستی حاصل ہو جائے گی اور پاکستان اپنی مغربی سرحد سے بے فکر ہو جائے گا اور اس کا سارا زور مشرقی سرحد پر ہوگا ۔ یعنی ہندوستان کے لئے وہ مشکلات پیدا کر ے گا اور کشمیر میں دہشت گردی اور دراندازی پر نہ صرف پوری توجہ صرف کرے گا بلکہ لائن آف کنٹرول پر متعدد نوعیت کی دیگر سر گرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔
لیکن فی الحال ان تمام باتوں پر روک لگ گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور طالبان ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ ان کا برا حال کریں گے ایک طرف طالبان کو یہ زعم کے افغانستان امریکہ کی قبر ثابت ہوگا تو دوسری طرف ٹرمپ کاکہنا ہے کہ امریکہ طالبان کو ایسا سبق سکھائے گا جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
اسی درمیان افغان حکومت کی جانب سے بھی پر عزم باتیں سنائی دینے لگی ہیں۔ امن مذاکرات کے دوران ان کی آواز دھیمی سنائی دے رہی تھی لیکن اب ایک نیا لہجہ اور نیا ولولہ بھی دکھائی دینے لگا ہے ۔ افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی کا ایک تازہ بیان جاری ہوا ہے کہ طالبان سے اگر کسی طرح کے مذاکرات ہوں گے تو وہ صدارتی الیکشن کے بعد ہی ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسی ماہ کی 18 تاریخ کو صدارتی الیکشن ہونے والا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صدارتی الیکشن وقت پر ہو کر رہے گا اور افغانستان میں آئینی طور پر حکومت بنے گی ۔ اس کے بعد ہی قیام امن سے متعلق کوئی بات چیت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ طالبان کو مذکرات کی منسوخی کے بعد دھکا لگا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد طالبان کی مذاکراتی ٹیم نے روس کا دورہ کیا جہاں اس نے صدر پوتن کے خصوصی سفیر برائے افغانستان ضمیر کا بلوف سے تبادلہ خیال کیا۔ افغان حکومت کے ترجمان صادق صدیقی کا دعویٰ ہے کہ طالبان کو اپنی سیاسی نا کامی کا احساس ہو گیا ہے ۔یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ پاکستان اس بات کی اندر ہی اندر بھر پور سفارتی کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے۔ صورت حال بہر حال اب بھی غیر واضح ہے اور افغانستان کے بارے میں صرف الجھن اور کنفیوزن کا ماحول ہے۔
*****
Comments
Post a Comment