موضوع: ہندوستان کا اندرونی معاملات پر اقوام متحدہ میں گفتگو نہ کرنے کا فیصلہ
ہندوستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ اقو ام متحدہ جنرل اسمبلی میں دفعہ تین سو ستر پر کوئی بات نہیں کرے گا کیوں کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ روانہ ہونے سے قبل ہندوستانی خارجہ سکریٹری وجے کیشو گوکھلے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقو ام متحدہ کی جنرل اسمبلی کثیر جہتی مسائل پر بات چیت کا پلیٹ فارم ہے اوروہاں دفعہ تین سو ستر پر بحث ہمارا ایجنڈا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے۔ ہندوستانی خارجہ سکریٹری نے واضح لفظوں میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اقو ام متحدہ اور امریکہ کے اپنے دورے میں کشمیر اور دفعہ 370 کے معاملہ کو کوئی توجہ نہیں دیں گے بلکہ وہ اپنی تقریر میں بدلتی ہوئی دنیا کے اہم امور بالخصوص کثیر جہتی عالمی نظام کے معاملات پر ہندوستان کی توقعات اور کردار کو نمایاں کریں گے۔اس میں دہشت گردی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کو کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی ہندوستانی آئین کے دفعہ تین سو ستر کوگذشتہ ماہ ختم کئے جانے بعد سے ہی پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر مختلف پلیٹ فارموں پر اٹھانے کی کوشش کررہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اقو ام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی وہ اس مسئلہ کو اٹھائے گا۔ حالانکہ عالمی برادری اس بات پر متفق نظرآرہی ہے کہ دفعہ 370کو ختم کرنے کا معاملہ واضح طور پر ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی دوسرے ملک کے مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔یوں بھی اقو ام متحدہ جنرل اسمبلی ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر بات چیت کی جاتی ہے۔اور ہندوستان عالمی سطح پر اپنے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نیز اپنی بین الاقوامی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے جنرل اسمبلی میں ان امور کواٹھاتاہے جن کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان مسائل میں دہشت گردی کا مسئلہ سب سے اہم ہے جس کی لعنت سے پوری دنیا پریشان ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان کے ایک پڑوسی ملک کو دنیا دہشت گردی کی پناہ گاہ سمجھتی ہے اور اس سے اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کامطالبہ کرتی رہی ہے لیکن اس ملک نے دہشت گردی کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنارکھا ہے۔
پاکستان موجودہ صورت حال میں ایک ذمہ دار ملک کی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہ صرف انکار کررہا ہے بلکہ اس کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں کچھ زیادہ ہی بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔اسے نہ تو اپنے امیج کی پرواہ ہے اور نہ اپنے وقار کا خیال۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر رہنما پچھلے چند ہفتوں سے کشمیر کے مسئلے کو جس شدت سے اٹھارہے ہیں اور جس طرح کے متنازع بیانات دے رہے ہیں اس سے ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ان کے پاس کشمیر کے متعلق کوئی ٹھوس نظریہ اور موقف نہیں ہے۔اس کے علاوہ وہ اس طرح کے بیانات دے کر پاکستان کی اقتصادی بد حالی کی طرف سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
پاکستان کوبوکھلاہٹ میں حالانکہ بار بار منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور اس کے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ پچھلے دنوں عوامی طورپر یہ تسلیم بھی کرچکے ہیں کہ کشمیر کے متعلق پاکستان کی کہانی پر دنیا یقین نہیں کررہی ہے۔اس کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہا ہے۔ اور ہندوستان پر جھوٹے الزامات عائد کرکے اصل مسائل سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔
پاکستان کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ آج ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ ہندوستان آج ان بڑی طاقتوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے جہاں اسے نظر انداز کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے۔جب کہ پاکستان اپنے قرضوں کو ادا کرنے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر ملکوں سے مدد کا طلب گار ہے۔ پاکستان کو موجودہ حالات کے مدنظر اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن فوج کی گرفت کی وجہ سے سیاسی رہنماوں کے لئے کچھ کرپانا شاید ممکن نہیں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ اقو ام متحدہ جنرل اسمبلی میں پوری دنیا کو اپنی حمایت میں کرلیں گے۔ لیکن یہ محض ایک خواب ہے۔ وہ حقیقت کو جتنا جلد سمجھ لیں یہ ان کے لئے اور پاکستان کے لئے اچھا ہوگا۔ آج دنیا میں طاقت کا محور بدل چکا ہے۔ پاکستان کو اب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ بند کردینا چاہئے۔ کیوں کہ اس کی بات سننے میں کسی کو بھی دلچسپی نہیں ہے۔
پاکستان موجودہ صورت حال میں ایک ذمہ دار ملک کی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہ صرف انکار کررہا ہے بلکہ اس کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں کچھ زیادہ ہی بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔اسے نہ تو اپنے امیج کی پرواہ ہے اور نہ اپنے وقار کا خیال۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر رہنما پچھلے چند ہفتوں سے کشمیر کے مسئلے کو جس شدت سے اٹھارہے ہیں اور جس طرح کے متنازع بیانات دے رہے ہیں اس سے ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ان کے پاس کشمیر کے متعلق کوئی ٹھوس نظریہ اور موقف نہیں ہے۔اس کے علاوہ وہ اس طرح کے بیانات دے کر پاکستان کی اقتصادی بد حالی کی طرف سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
پاکستان کوبوکھلاہٹ میں حالانکہ بار بار منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور اس کے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ پچھلے دنوں عوامی طورپر یہ تسلیم بھی کرچکے ہیں کہ کشمیر کے متعلق پاکستان کی کہانی پر دنیا یقین نہیں کررہی ہے۔اس کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہا ہے۔ اور ہندوستان پر جھوٹے الزامات عائد کرکے اصل مسائل سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔
پاکستان کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ آج ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ ہندوستان آج ان بڑی طاقتوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے جہاں اسے نظر انداز کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے۔جب کہ پاکستان اپنے قرضوں کو ادا کرنے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر ملکوں سے مدد کا طلب گار ہے۔ پاکستان کو موجودہ حالات کے مدنظر اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن فوج کی گرفت کی وجہ سے سیاسی رہنماوں کے لئے کچھ کرپانا شاید ممکن نہیں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ اقو ام متحدہ جنرل اسمبلی میں پوری دنیا کو اپنی حمایت میں کرلیں گے۔ لیکن یہ محض ایک خواب ہے۔ وہ حقیقت کو جتنا جلد سمجھ لیں یہ ان کے لئے اور پاکستان کے لئے اچھا ہوگا۔ آج دنیا میں طاقت کا محور بدل چکا ہے۔ پاکستان کو اب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ بند کردینا چاہئے۔ کیوں کہ اس کی بات سننے میں کسی کو بھی دلچسپی نہیں ہے۔
Comments
Post a Comment