موضوع: چندریان پر پاکستانی وزیر کا بچکانہ تبصرہ بنا پاکستان ہی میں مذاق کا موضوع

جو کچھ کرتے ہیں، وہی ناکام ہوتے ہیں اور کامیاب بھی وہی ہوتے ہیں۔ کبھی مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی جزوی ناکامی کا لیکن ہندوستان کے خلائی مشن ’چندریان-2‘ کو ناکام نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اسے جو کام کرنا تھا، 95 فیصد کام وہ کر چکا تھا، البتہ لینڈر وکرم چاند کی سطح سے صرف 2.1 کلومیٹر کی دوری پر تھا کہ زمین سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ رابطہ منقطع نہ ہوتا، لینڈر چاند کی سطح پر اترجاتا تو خلائی سائنس میں یہ ایک بڑی کامیابی ہوتی مگر اس مشن کا ذکر کرتے وقت یہ بات نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ آربیٹر اپنے پے لوڈ کے ساتھ اب بھی کام کر رہا ہے اور خلائی سائنس کے ہندوستانی ادارے اِسرو نے یہ جاننے میں کامیابی حاصل کر لی ہے کہ لینڈر چاند کی سطح پر اتر کیوں نہیں سکا۔ خلائی سائنس کے امریکی ادارے ناسا نے اس مشن کے حوالے سے اِسرو کی تعریف کی ہے لیکن پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، فواد چودھری نے لینڈر سے رابطہ منقطع ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد ہندوستان کے خلائی مشن کو ناکام قرار دے دیا تھا اور سوشل میڈیا پر اس مشن کے سہارے ہندوستان پر تنقیدوں کی بوچھاڑ شروع کردی تھی۔ اب انہیں یہ کون سمجھاتا کہ وہ پاکستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر ہیں، سائنس داں نہیں، اس لیے انہیں خود کو سائنس داں سمجھنے کی بھول نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا کرنے سے ان کا تو مذاق اڑے گا ہی، پاکستان بھی مذاق کا موضوع بن جائے گا اور اس وقت پاکستان کی پوزیشن یہ نہیں ہے کہ وہ مذاق برداشت کر سکے، اقتصادی بدحالی اسے تلخ حقیقت کا احساس دلا رہی ہے۔
فواد چودھری کے ’چندریان- 2‘ کو ناکام قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہو کہ انہوں نے سیاست کی شروعات ہی ناکامی سے کی تھی۔ 2002 میں آزاد امیدوار کے طور پر وہ کھڑے ہوئے تھے تو ان کے حریف کو 38,626 ووٹ ملے تھے اور انہیں صرف 161 ووٹوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد وہ آل پاکستان مسلم لیگ میں گئے، پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنیت اختیار کی، پھر پاکستان مسلم لیگ-کیو میں قسمت آزمائی لیکن انہیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پارٹی سے وابستگی اختیار کر لی اور پہلی بار جیت حاصل کی لیکن اس انتخاب کے بارے میں یہ بات پاکستانیوں کے ساتھ عالمی برادری بھی تسلیم کرتی ہے کہ پاک فوج نے پاکستان تحریک انصاف پارٹی کو فتح سے ہم کنار کرنے میں جمہوری اقدار کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ پاک فوج نے ایسا نہ کیا ہوتا، ایک بار اور فواد چودھری کو ناکام ہونا پڑتا تو یہ کوئی حیرت کی بات نہ ہوتی۔ اب ایسا لیڈر جس نے مسلسل ناکامیاں ہی دیکھی ہوں، ہندوستان کا بڑی حد تک کامیاب خلائی مشن بھی اگر اسے ناکام نظر آرہا ہے تو اس پر کسے حیرت ہوگی؟ وہ یہ بات کیا سمجھے گا کہ گزشتہ 6دہائی میں ناسا کے 109 مون مشن میں سے کامیابی 61 میں ملی تھی تو 48 میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔
خلائی سائنس میں ہندوستان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ اس کا شمار امریکہ، روس اور چین جیسے ملکوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن پاکستان کی خلائی سائنس میں کوئی پوزیشن نہیں ہے۔ ہندوستان کے لیے چاند دور نہیں رہا لیکن پاکستان کے لیے آج بھی ’چنداماما دور کے‘ ہیں۔ ایسا اس لیے ہے، کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان میں فوادچودھری جیسے لیڈران سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر ہیں جو خود کچھ نہیں کرتے، دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ دیوالیہ ہونے کی نوبت ہے، پاک وزیر اعظم عمران خان نے بڑی کوششوں سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرض لینے میں کامیابی حاصل کی ہے مگر ان کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ قرض ادا کریں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری دور کریں، غربت کے خاتمے کے لیے کچھ کریں یا کچھ اور کریں لیکن ان کے وفاقی وزیر فواد چودھری ہندوستانیوں کو یہ فری کا مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ ’چندریان-2‘ پر 900 کروڑ کے خرچ کا حساب حکومت ہند سے لیں۔ عمران کو انہیں سمجھانا چاہیے کہ ہندوستان، پاکستان نہیں ہے۔ اس کی اقتصادی حالت ایسی ہے کہ وہ اپنے خلائی مشن پر کروڑوں، اربوں خرچ کر سکتا ہے، البتہ پاکستان کی یہ پوزیشن نہیں ہے، اس لیے اسے ابھی خلائی مشن کے خواب دیکھنے چاہئیں۔ اس بات کا احساس خود پاکستانیوں کو بھی ہے کہ ہندوستان کی دشمنی میں فواد چودھری  اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ پاکستان کے مذاق بننے کا بھی انہیں خیال نہیں۔ ہندوستان کے سوشل میڈیا کے صارفین کے ساتھ پاکستان کے صارفین نے بھی انہیں ٹرول کیا ہے۔ صحافی غریدہ فاروقی کی اس بات سے عدم اتفاق کی گنجائش نہیں ہے کہ ’ترقی یافتہ قومیں سائنس، ٹیکنالوجی، جدت پسندی کے میدان میں کوششوں کا مذاق نہیں اڑاتیں۔‘ لیکن پاکستان ترقی یافتہ نہیں، اس لیے فواد چودھری  جیسے پاک لیڈروں کی یہ مجبوری ہے کہ وہ ہندوستان کے خلائی مشن کا مذاق اڑائیں۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ خود مذاق بن گئے ہیں، دنیا ان پر ہنس رہی ہے! 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ