تبدیلیٔ آب و ہوا کے مسئلہ سے نمٹنے کےلئے ہندوستان کی اپیل قابل غور
کہتے ہیں کہ دنیا ایک گلوبل ولیج یعنی عالمی نوعیت کے ایک گاؤں کی شکل اختیار کررہی ہے۔یہ بات درست بھی ہے کیونکہ جدید سائنسی ایجادات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی نے اتنی آسانیاں پیدا کردی ہیں کہ لمبے فاصلے اب زیادہ طویل نظر نہیں آتے۔ قومیں جدید ذرائع اور وسائل کے سہارے ایک دوسرے کے بہت قریب آگئی ہیں اور آرہی ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ہمیں صاف نظر بھی آرہے ہیں، لیکن جیسا کہ ہر اچھی ایجاد یا پیش رفت کے دو پہلو ہوتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کا استعمال نیک مقاصد اور بنی نوع انسان کی بھلائی کےلئے بھی ہوسکتا ہے اور اس کی تباہی اور تاراجی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ حالیہ دہائیوں میں صدیوں میں انسان نے غیر ارادتاً ہی سہی اپنی تعمیر و ترقی کےلئے قدری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا اور جدید مشینوں کے سہارے صنعتی ترقی کا پرچم بلند کیا، لیکن ان عوامل کے مضر اثرات کا احساس اسے بہت بعد میں ہوا۔ گزشتہ صدی کے نصف آخر سے آلودگی اور تبدیلیٔ آب و ہوا کے احساس نے عالمی پیمانے پر اقوام عالم کی توجہ مبذول کرانی شروع کی۔ رفتہ رفتہ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ اگر آلودگی اور تبدیلیٔ آب و ہوا کے مسئلہ سے نمٹنے کےت لیے زبردست کوششیں نہیں کی گئیں، تو پوری دنیا اور اس دنیا میں رہنے والی مخلوقات کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ مختصر یہ ہے کہ یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ یہ پوری دنیا کی اولین ترجیح کا متقاضی ہے۔ بلا شبہ اس سلسلے میں کچھ کام ہوبھی رہے ہیں۔ عالمی برادری توجہ بھی دے رہی ہے، لیکن یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ جتنی توجہ دی جانی چاہئے، اتنی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بلاشبہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، تمام ممالک کو مل جل کر کام کرنا چاہئے اور اپنی صلاحیت اور اہلیت کے مطابق ان کاموں میں تعاون بھی کرنا چاہئے، لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ بعض ترقی یافتہ ممالک اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے نزدیک صرف ترقی اور اقتصادی استحکام ہی سب کچھ ہے۔ دنیا کے مستقبل کی ان کو کچھ زیادہ فکر نہیں دکھائی دیتی۔
ہندوستان ان ملکوں میں شامل ہے، جو اس مسئلہ کو اولین ترجیح کا مسئلہ تصور کرتے ہیں، اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنمانیویارک میں اکٹھا ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پوری دنیا کو درپیش ان مسائل کا ذکر یہاں ہونا چاہئے اور ان کا حل تلاش کرنے کے طریقۂ کار پر بحث ہونی چاہئے اور یہ سب کچھ ہو بھی رہا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی بھی اسی سلسلے میں نیویارک میں موجود ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی تبدیلیٔ آب و ہوا سے متعلق سربراہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے بڑے زور دار انداز سے اقوام عالم سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلہ پر بھر پور توجہ دیں اور ایسے پلان وضع کریں، جن کے تحت آب و ہوا کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد ملے۔ بلا شبہ ہندوستان علاقائی مسائل سے بھی اس وقت نمٹنے میں مصروف ہے اور ان مسائل میں سے بعض کا تعلق اس کی سیکورٹی اور سالمیت سے بھی ہے، لیکن وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہے کہ عالمی برادری بعض سنگین مسائل سے دوچار ہے اور ان مسائل کے تئیں ہندوستان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ چنانچہ جب وزیراعظم مودی نے عالمی برادری سے اس مسئلہ پر آگے بڑھنے کی اپیل کی تو ان کی یہ اپیل صرف تقریر تک محدود نہیں تھی بلکہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کس طرح ا س مسئلہ سے نمٹنے کےلئے اپنی گھریلو پالیسی سے اپنی بین الاقوامی عہد بستگی کو جوڑنے کی کوشش کی ہے، ان کی تقریر کے بعد یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ ہندوستان نے قومی پیمانے پر اس سلسلے میں جو کچھ کیا ہے وہ اقوام متحدہ کے اس فریم ورک سے جڑا ہوا ہے، جس کا کنونشن پیرس میں ہوا تھا اور وہیں یہ معاہدہ بھی ہوا تھا۔
وزیراعظم مودی نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان انہی اقدام پر اکتفا نہیں کررہا ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو مزید کم کرنے کےلئے اگلے سال بھی بہت کچھ کرنے والا ہے۔ ہندوستان کے کئی اقدامات اور اسکیمیں ایسی ہیں جو اس معاملے میں قابل رشک بھی کہی جاسکتی ہیں۔ ایک پروگرام یہ بھی ہے کہ تجدید پزیر توانائی کے ذرائع سے بجلی 175 گیگا واٹ تک بڑھائی جاسکتی ہے اور یہ نشانہ 2022 تک پورا کرلیا جائے گا۔ بعد میں اس میں مزید توسیع ہوسکتی ہے اور اس کا حجم 450 گیگاواٹ تک پہنچ سکتا ہے، اسی کے متوازی کوئلہ کے ذریعہ بھی توانائی حاصل کرنے کی کوشش ہورہی ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جاسکے، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات صرف شمسی اور وِنڈ پاور سے پوری نہیں ہوسکتیں، لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔ آگے بھی بہت کچھ ہونے والا ہے اور کچھ قوانین بھی ایسے وضع کیے جائیں گے، جن کے تحت ماحولیات کا تحفظ بھی ہوسکے اور گیس کے اخراج کے مسئلہ سے بھی بہتر طور پر نمٹا جاسکے۔ وزیراعظم نے ہندوستان کا پیغام بہت اچھی طرح دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شرکاء نے پوری توجہ سے سب کچھ سنا۔ باڈی لینگویج سے اندازہ ہوا کہ اس معاملےمیں نیا ولولہ عالمی پیمانے پر انگڑائیاں لینے والا ہے۔
ہندوستان ان ملکوں میں شامل ہے، جو اس مسئلہ کو اولین ترجیح کا مسئلہ تصور کرتے ہیں، اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنمانیویارک میں اکٹھا ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پوری دنیا کو درپیش ان مسائل کا ذکر یہاں ہونا چاہئے اور ان کا حل تلاش کرنے کے طریقۂ کار پر بحث ہونی چاہئے اور یہ سب کچھ ہو بھی رہا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی بھی اسی سلسلے میں نیویارک میں موجود ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی تبدیلیٔ آب و ہوا سے متعلق سربراہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے بڑے زور دار انداز سے اقوام عالم سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلہ پر بھر پور توجہ دیں اور ایسے پلان وضع کریں، جن کے تحت آب و ہوا کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد ملے۔ بلا شبہ ہندوستان علاقائی مسائل سے بھی اس وقت نمٹنے میں مصروف ہے اور ان مسائل میں سے بعض کا تعلق اس کی سیکورٹی اور سالمیت سے بھی ہے، لیکن وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہے کہ عالمی برادری بعض سنگین مسائل سے دوچار ہے اور ان مسائل کے تئیں ہندوستان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ چنانچہ جب وزیراعظم مودی نے عالمی برادری سے اس مسئلہ پر آگے بڑھنے کی اپیل کی تو ان کی یہ اپیل صرف تقریر تک محدود نہیں تھی بلکہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کس طرح ا س مسئلہ سے نمٹنے کےلئے اپنی گھریلو پالیسی سے اپنی بین الاقوامی عہد بستگی کو جوڑنے کی کوشش کی ہے، ان کی تقریر کے بعد یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ ہندوستان نے قومی پیمانے پر اس سلسلے میں جو کچھ کیا ہے وہ اقوام متحدہ کے اس فریم ورک سے جڑا ہوا ہے، جس کا کنونشن پیرس میں ہوا تھا اور وہیں یہ معاہدہ بھی ہوا تھا۔
وزیراعظم مودی نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان انہی اقدام پر اکتفا نہیں کررہا ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو مزید کم کرنے کےلئے اگلے سال بھی بہت کچھ کرنے والا ہے۔ ہندوستان کے کئی اقدامات اور اسکیمیں ایسی ہیں جو اس معاملے میں قابل رشک بھی کہی جاسکتی ہیں۔ ایک پروگرام یہ بھی ہے کہ تجدید پزیر توانائی کے ذرائع سے بجلی 175 گیگا واٹ تک بڑھائی جاسکتی ہے اور یہ نشانہ 2022 تک پورا کرلیا جائے گا۔ بعد میں اس میں مزید توسیع ہوسکتی ہے اور اس کا حجم 450 گیگاواٹ تک پہنچ سکتا ہے، اسی کے متوازی کوئلہ کے ذریعہ بھی توانائی حاصل کرنے کی کوشش ہورہی ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جاسکے، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات صرف شمسی اور وِنڈ پاور سے پوری نہیں ہوسکتیں، لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔ آگے بھی بہت کچھ ہونے والا ہے اور کچھ قوانین بھی ایسے وضع کیے جائیں گے، جن کے تحت ماحولیات کا تحفظ بھی ہوسکے اور گیس کے اخراج کے مسئلہ سے بھی بہتر طور پر نمٹا جاسکے۔ وزیراعظم نے ہندوستان کا پیغام بہت اچھی طرح دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شرکاء نے پوری توجہ سے سب کچھ سنا۔ باڈی لینگویج سے اندازہ ہوا کہ اس معاملےمیں نیا ولولہ عالمی پیمانے پر انگڑائیاں لینے والا ہے۔
Comments
Post a Comment