امریکہ۔طالبان سمجھوتہ اور افغان حکومت کی تشویش


آج کل افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کا بڑا چرچہ ہے۔ بات چیت کا یہ سلسلہ گزشتہ سال کے اواخر سے شروع ہوا تھا اور آخری مرحلوں سے گزر کر یہ سننے میں آرہا ہے کہ سمجھوتہ کی تفصیلات ممکنہ طور پر طے کر لی گئی ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان جو بات چیت ہو رہی تھی، اس میں ایک بات شروع سے آخر تک بیشتر حلقوں کو کھٹکتی رہی کہ افغانستان کی آئینی طور پر منتخب حکومت کا آخر کیا رول ہوگا؟ طالبان نے اول دن ہی سے یہ موقف اختیار کر رکھا تھا کہ وہ اشرف غنی حکومت اور ان کے نمائندوں سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی سطح پر بات چیت نہیں کرے گا۔ اس کا جواز اس کی طرف سے یہ پیش کیا گیا کہ یہ حکومت امریکہ کی پٹھو حکومت ہے۔ لیکن خود امریکہ سے بات چیت کرنے میں طالبان کو پس وپیش نہیں تھا۔ شروع میں تو امریکہ یہی چاہتا تھا کہ طالبان امریکہ کی بجائے افغان حکومت ہی سے بات کریں اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں، امریکہ بعد میں اس عمل میں شریک ہوسکتا ہے۔ لیکن پھر اچانک صدر ٹرمپ کی پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔کہاں تو انہوں نے افغانستان کے حوالے سے جنوبی ایشیا کے لئے ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت طالبان اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف سخت تیور اختیار کئے تھے جس سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی تھی کہ انہوں نے طالبان کی پشت پناہی کرنے والے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد بھی روک دی تھی اور کہاں ان کا نیا فیصلہ یہ آیا کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو جلدی واپس بلانا چاہتے ہیں اس لئے طالبان سے بات چیت کی رضامندی ظاہر کردی۔ طالبان سے بات چیت کرنے کے لئے امریکہ نے اپنا خصوصی سفیر افغان نژاد امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کو مقرر کیا ۔ امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ قطر کے شہر دوحہ میں شروع ہوا۔ لیکن بات چیت کے کسی بھی مرحلے میں افغان حکومت یا نمائندوں کا نہ تو کوئی رول کہیں نظر آیا اور نہ ہی کوئی واضح بات سمجھ میں آئی کہ اگر طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی ڈیل انجام کو پہنچ بھی گئی تو افغانستان کا مستقبل کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا۔ دوسری سب سے بڑی اور تشویش کی بات افغانستان کے لئے یہ رہی کہ بات چیت کے تمام ادوار کے دوران طالبان کے حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ محسوس یہ کیا گیا کہ جیسے جیسے مذاکرات آگے بڑھتے رہے ویسے ویسے طالبان کے حملوں میں بھی شدت آتی گئی۔ یہ حملے اب بھی جاری ہیں جبکہ ڈیل سے متعلق خبریں عام ہو رہی ہیں۔ کنفیوژن کے اس ماحول میں افغان عوام کا ایک بہت بڑا حلقہ ڈرا سہما ہوا نظر آتا ہےخاص طور سے افغان خواتین شدید تشویش میں مبتلا ہیں جنہوں نے طالبان حکومت کے زوال کے بعد اطمینان کا سانس لیا تھا اور نئے جوش اور ولولوں کے ساتھ نئے افغانستان کی تعمیر وترقی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں یہ خیال پریشان کر رہا ہے کہ آثار یہی بتاتے ہیں کہ طالبان ۔ امریکہ سمجھوتے پر عمل ہونے کے بعد افغانستان میں طالبان کی بالادستی قائم ہوسکتی ہے۔ ان کی یہ تشویش کچھ بے وجہ بھی نہیں معلوم ہوتی کیونکہ بات چیت کے دوران ہی لگاتار طالبان کے حملےہوتے رہے اور ان کا خاص نشانہ افغان سیکورٹی فورسز ، سرکاری دفاتر اور تعمیرات، پولیس ا ہلکار، سرکاری ملازمین اور ان کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بنتے رہے جن میں عورتیں اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ بہرحال امریکہ کے خصوصی سفیر برائے امن مذاکرات زلمے خلیل زاد پچھلے دنوں کابل کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے حکومت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ طالبان سے ڈیل کی جو تفصیلات طے ہوئی ہیں ان سے امریکہ اصولی طور پر اتفاق کرتا ہے اور اسی کے تحت امریکی فوجیں واپس جائیں گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ جو باتیں حکومت کے افسران کو بتائی گئی ہیں ان سے حکومت مطمئن نہیں ہے۔ گزشتہ بدھ کو حکومت افغانستان نے یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ بہرحال خطرہ محسوس کر رہی ہے لہٰذا پوری تفصیل سے تمام پہلوؤں کی وضاحت کی جانی چاہئے۔ 

کابل کی حکومت نے زیادہ شدید رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے، لیکن صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ اگر واقعی امن کی راہ ہموار ہوتی ہے تو اس کی حمایت کی جائے گی لیکن حکومت یہ ضرور چاہتی ہے کہ بات چیت کے بعد جو نتیجہ سامنے آئے اس کا کوئی منفی اثر دیکھنے کو نہ ملے۔ مسٹر صدیقی کے مطابق جو بھی دستاویز تیار ہوگی اس کا تفصیل سے جائزہ لئے بغیر کچھ کہنا مشکل ہوگا۔ اندازہ یہی ہوتا ہے کہ مسٹر خلیل زاد نے جو باتیں بتائی ہیں ان میں کچھ باتیں تفصیل طلب ہیں اور جب تک پوری طور سے انہیں سمجھ نہیں لیا جاتا اس وقت تک تشویش کا ماحول برقرار رہے گا۔ مناسب تو یہی ہوگا کہ امریکہ نہ صرف حکومت افغانستان بلکہ افغان عوام کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ یہ بتائے کہ اس سمجھوتے کے نفاذ کے بعد کیا کچھ ہونے والا ہے کیونکہ جو کچھ ہوگا ، اس کا اثر براہ راست یہاں کے عوام ہی پر پڑنے والا ہے جو پہلے ہی سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ صورتحال کچھ اتنی غیر واضح ہے کہ لوگوں کی تشویش دور کرنا ضروری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ