موضوع: دہشت گردی کے بارے میں ہندوستان کا موقف
وزیرخارجہ ایس جے شنکر فنلینڈ کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا اس ملک کا پہلا دورہ تھا حالانکہ انیس سو پچاس سے دونوں ملکوں کے اعلیٰ رہنما ایک دوسرے ملک کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان اور فنلینڈ کے درمیان رشتے کافی خوشگوار ہیں۔ اس حقیقت کےپیش نظر کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک کی جانب سے بڑھتی دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور فنلینڈ یوروپی یونین کا موجودہ چیئرمین بھی ہے، جناب جے شنکر کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جناب جے شنکر نے اپنے دورے کے دوران فنلینڈ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ سرحد پار کی دہشت گردی پر تفصیل کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔ حکومت ہند کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے اسے تین جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد پاکستان نے من گڑھت کہانیاں سنانا شروع کردی تھی۔ پاکستان کی اس مذموم کوشش کے تناظر میں جناب جے شنکر اور فنلینڈ کے رہنماؤں کے درمیان ہلسنکی میں یہ بات چیت ہوئی۔ جناب جے شنکر نے فن لینڈ کے وزیراعظم آنٹی رینے اور اپنے ہم منصب پیکا ہاوسٹو سے بھی دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ملاقات کے دوران گرین ٹکنالوجیز اور علاقائی مسائل پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ہندوستانی وزیرخارجہ نے فنش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرس میں ‘‘ انڈیا اینڈ دی ورلڈ’’ کے موضوع پر ایک اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جناب جے شنکر نے ہندوستان کی موجودہ حکومت کی حصولیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس کی خارجہ پالیسی میں ترقی کے پہلو پر کافی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ترقی کے وافر مواقع موجود ہیں اور فنلینڈ ان کا پتہ لگاکر ترقی کے سفر میں ہندوستان کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ اس وقت دنیا معلومات پر مبنی معیشت کی جانب گامزن ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھاکر آپسی مفاد کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ جموں وکشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست میں تعمیروترقی کے نام پر کچھ نہیں ہورہا تھا۔ اس کے علاوہ بڑھتی دہشت گردی کے باعث قومی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دفعہ تین سو ستر ختم کرکے ریاست کو تین جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم کردیا گیا تاکہ وہاں ترقی ہوسکے اور دہشت گردی پر بھی قدغن لگ سکے۔ انہوں نے کہاکہ سرحد پار کی دہشت گردی ایک بڑا چیلنج ہے جس میں گزشتہ تین دہائیوں میں چالیس ہزار سے زیادہ ہندوستانی جانیں تلف ہوچکی ہیں۔ عالمی دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دوسرے حصّے میں بھی کافی عرصہ سے دہشت گردوں کے حملوں کا شکار ہیں۔ اس لئے بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جناب جے شنکر نے اپنے خطاب میں افغانستان کا بھی حوالہ دیا اور کہاکہ اس ملک کے مستقبل کے بارے میں ہندوستان کو کافی فکر ہے۔ انہوں نے خلیج کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ جناب جے شنکر نے ان تشویشات کو دور کرنے کیلئے ہندوستان کی ان کوششوں کا حوالہ دیا جو وہ علاقہ میں مفادات کے پرامن تحفظ کیلئے کررہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں وزیرخارجہ نے کہاکہ ہندوستان ان تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں ہندوستان ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس لئےوہ سب کی شمولیت والی ترقی کا حامی ہے۔ جناب جے شنکر نے فنلینڈ کے ڈپٹی اسپیکر اوّل تووالا ہاتینین سے بھی تعمیری بات چیت کی۔ انہوں نے صدر ساؤلی نینیتو سے بھی ملاقات کی۔ جناب جے شنکر نے مہاتماگاندھی کی 150 ویں سالگرہ منانے کیلئے ان کے ایک مجسمہ کی بھی نقاب کشائی کی۔ یہ مجسمہ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز نے فن لینڈ کو تحفہ کے طور پر دیا ہے۔ ہندوستان کا واضح موقف ہے کہ کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی دوسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس معاملہ میں وہ بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے امریکہ، برطانیہ اور روس جیسے ملکوں سے بھی بات کی ہے جہاں سے اسے مثبت جوابات ملے ہیں۔ جناب جے شنکر کی تقریر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ظاہر ہوگا کہ انہوں نے کشمیر پر ہندوستان کا موقف واضح کرنے کے علاوہ اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کیلئے پاکستان کی مذمت کرنے کی بھی سخت ضرور ت ہے۔
Comments
Post a Comment