موضوع:ٹرمپ کا طالبان سے امن مذاکرات رد کرنے کا فیصلہ

حالیہ ہفتوں سے مسلسل یہ خبر یں آرہی تھیں کہ امریکہ اور طالبان کے مابین افغانستان میں قیام امن سے متعلق دوحہ میں مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے اور گفتگو کے کئی مراحل بحسن و خوبی طے ہوچکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں تو یہ خبر بھی آئی کہ گفتگو تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور سمجھوتہ کا مسودہ تیار ہورہا ہے۔ لیکن ان خبروں کے درمیان مسلسل یہ خبریں بھی گشت کرتی رہیں کہ طالبان کے حملے بھی اسی تواتر کے ساتھ جاری ہیں جس رفتار سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ طالبان ایک طرف گفتگومیں ایک فریق تھے لیکن دوسری طرف تشدد آمیز کارروائیوں میں بھی ملوث تھے اور نہ صرف ملوث تھے بلکہ بڑے فخر سے ان حملوں کی ذمہ داری بھی لے رہے تھے۔ یہ بوالعجبی نہیں تو پھر اور کیا تھی کہ ان ہی لوگوں سے امن کی امید کی جارہی تھی جو بد امنی پھیلا کر امن کی بات میں شریک ہورہے تھے۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ خود افغانستان کے عوامی حلقوں میں ان مذاکرات کے تعلق سے طرح طرح کے سوال اٹھ رہے تھے جن کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ ایک سوال تو یہی تھا کہ طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر کبھی آمادہ کیوں نہیں ہوئے؟ پھر صدارتی الیکشن بھی اسی ماہ کے اواخر میں ہونے والا ہے، جبکہ الیکشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ خود نائب صدر کے عہدے کے لئے امیدوار پر بھی جان لیوا حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچے۔ بہر حال یہ تمام باتیں متضاد قسم کے تاثر دے رہی تھیں۔ ہر طرف کنفیوژن اور بے یقینی کا ماحول تھا جو اب بھی برقرار ہے۔

اسی درمیان یہ فیصلہ بھی ہوا کہ کیمپ ڈیوڈمیں صدر ٹرمپ طالبان کے لیڈروں اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ خفیہ میٹنگ کرنے والے ہیں۔ یہ میٹنگ آج ہی یعنی سوموار کو ہونے والی تھی اور اس کے لئے طالبان کے نمائندے اور صدر اشرف غنی سنیچر کو کیمپ ڈیوڈ کے لئے چل بھی پڑے تھے لیکن پھر اچانک صدر ٹرمپ نے نہ صرف یہ خفیہ ملاقات رد کردی بلکہ طویل وقت سے مذاکرات کا جو سلسلہ چل رہا تھا اور اب نتیجہ کی منزل تک پہنچے والا تھا اسے بھی انہوں نے ملتوی کردیا۔ ان باتوں کی اطلاع انہوں نے اپنی ٹوئیٹ کے ذریعہ دی اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ گزشتہ جمعرات کو طالبان نے کابل میں حملہ کرکے 12 افراد کو ہلاک کردیا تھا جن میں ایک امریکی فوجی بھی شامل تھا۔ حالانکہ اس سے بڑے بڑے حملے بھی طالبان نے کابل اور دوسری جگہوں پر کئے اور بیسیوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ان میں افغانستان کے سکیورٹی سے وابستہ اہلکار، سرکاری افسران ، پولیس اور سیویلین سبھی شامل تھے۔ کبھی اور کسی بھی مرحلے میں طالبان نے تشدد کا راستہ ترک نہیں کیا۔ اپنی ایک ٹوئیٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امن سے متعلق اتنی اہم گفتگو میں بھی طالبان والے ایسے حملے کرسکتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ ایسے لوگوں سے بامقصد گفتگو اور سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ اس حملے سے صدر ٹرمپ بہت زیادہ ناراض ہوئے اور انہوں نے مذاکرات منسوخ کردئے لیکن اندرونی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بات کچھ اور بھی ہے جس کے باعث یہ گفتگو رد کرنی پڑی۔ امریکہ کے موقر اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں جو خفیہ ملاقات کا پروگرام تھا اس میں طالبان نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ حکومت افغانستان کے نمائندوں سے کسی بھی حالت میں بات نہیں کریں گے جبکہ امریکہ کا اصرار یہ تھا کہ انہیں بات چیت کرنی ہی چاہئے۔ جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تب بھی امریکہ اور طالبان کے درمیان اس بات پر اختلاف موجود تھا۔ پھر بھی امریکہ نے شاید یہ سوچا تھا کہ بالآخر طالبان مان جائیں گے اور سمجھوتے کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے وہ اشرف غنی حکومت سے بات چیت کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کریں گے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس آخری مرحلے میں جاکر یہ اندازہ ہوا کہ طالبان کو امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر انہوں نے پہلے ہی یہ محسوس کرلیا ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں افغان حکومت کے نمائندوں سے بات چیت کی تو ان کے لئے یہ سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگی۔

بہر حال اب صورت حال پھر وہیں پہنچ گئی جہاں امن مذاکرات شروع ہونے سے پہلے تھی۔ در اصل طالبان جیسے گروپ سے یہ امید کرنا ہی فضول تھا کہ امن مذاکرات میں وہ ایسا رول ادا کرسکے گا جس کے تحت افغانستان میں امن قائم ہوسکے۔ وہ ایک ایسا دہشت گرد گروپ ہے جو صرف تشدد اور خون خرابے کی زبان جانتا ہے اور اگر اس کی کسی اضافی طاقت کا ذکر کیا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ اسے آئی ایس آئی کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے جو دہشت گردی کا منبع ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ