موضوع: عمران خان کے لہجے میں اچانک تبدیلی کیوں؟
جموں وکشمیر کے حوالے سے دفعہ 370 کا ہٹایا جانا ہندوستان کا خالص اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان نے گزشتہ ایک مہینے سے جو ہندوستان کے خلاف لفظی یلغار شروع کی تھی اور عالمی پیمانے پر سفارتی کوششوں کے ذریعے ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کیلئے جو ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اس کا عبرتناک انجام دیکھ کر عمران خان نے یا شاید ان کے بعض مشیروں نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان کی اب تک کی تمام سفارتی کوشش اور کشمیر کے سوال پر کی جانے والی اشتعال انگیزی خود پاکستان کی تصویر خراب کررہی ہے اور عالمی برادری میں رائے عامہ اس کے خلاف ہورہی ہے۔ لہٰذا وزیراعظم عمران خان او ران کے رفقائے کار نے اپنی تقریروں کے لہجے میں تلخ نوائی اور دھمکی کا عنصر کم کردیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی کے بارے میں عالمی برادری محسوس کررہی ہے کہ ابھی تک پاکستان نے دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی کرنا بند نہیں کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تو حال ہی میں اس وقت سامنے آیا جب غیرقانونی مالی لین دین اور منی لانڈرنگ پر کڑی نظر رکھنے والے واچ ڈاگ، ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے اپنی حالیہ میٹنگ میں اس بات کے لئے پاکستان کی زبردست سرزنش کی کہ ایف اے ٹی ایف کی سخت وارننگ کے باوجود پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ وغیرہ کو روکنے کے لئے طے شدہ نشانہ پورا نہیں کیا۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے چند ماہ قبل ایک بار پھر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور یہ وارننگ دی تھی کہ اگر اکتوبر تک اس نے مطلوبہ کارروائیاں نہیں کیں اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لئے مضبوط اور مناسب قدم نہیں اٹھایا تو اکتوبر میں اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیاجائے گا۔ اکتوبر اب بہت قریب ہے۔ اگست میں ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ یہ تمام باتیں عالمی برادری کے علم میں ہیں لیکن کشمیر کے سوال پر حالیہ بیان بازیوں اور پاکستان کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کا بھی عالمی برادری نوٹس لے رہی ہے۔ سفارتی ذرائع سے یقیناً عمران خان کو یہ اشارے ملتے ہونگے کہ پاکستان کی ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیزیوں کا کوئی خریدار نہیں ہے۔ عمران خان اور پاکستان کے دوسرے لیڈران اپنے بیانات میں مسلسل براہ راست یا بالواسطہ نیوکلیائی جنگ کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ویسے بھی پاکستانی حکمرانوں کا نیوکلیائی بم کی دھمکی دینا ایک محبوب مشغلہ رہا ہے۔ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے تو یہاں تک کہا تھا کہ پاکستان نے نیوکلیائی بم اس لئے نہیں بنائے کہ شب برأت کے موقع پر انہیں بطور پٹاخہ استعمال کیا جائے۔ ظاہر ہے ان کا یہی مقصد تھا کہ بم ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ ابھی گزشتہ جمعہ کو ہی اپنے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت عمران خان نے پورے پاکستان میں 12 اور ساڑھے 12 بجے دن کے درمیان کشمیر کے سوال پر نام نہاد یکجہتی کے نام پر احتجاج کا پروگرام ترتیب دیا تھا اور اسے کشمیر آور کا نام دیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کم اشتعال انگیزی نہیں کی تھی۔ ان کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا تھا کہ ‘‘ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیر ہندوستان کے قبضے سے آزاد نہیں ہوجاتا’’۔
ہندوستان کے پاس بھی نیوکلیائی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ ایک ذمہ دار ملک بھی ہے۔ اس کا نیوکلیائی پروگرام ہمیشہ پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ بلاشبہ اس نے آزمائشی تجربے بھی کئے لیکن اس کا ایک کھلا موقف یہ رہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی بھی حالت میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کرے گا۔ اس نے کبھی یہ بھی نہیں کہا تھا کہ ہندوستان کے لوگ گھاس کھا کر گزارہ کرلیں گے لیکن دشمن کو سبق سکھانے کے لئے بم ضرور بنائیں گے۔
بہرحال نہ جانے عمران خان کے دل میں کیا بات آئی کہ اشتعال انگیز باتیں کرتے کرتے اچانک 2ستمبر کو لاہور میں انہوں نے یہ بیان دیا کہ ہندوستان نے کشمیر سے متعلق دفعہ 370 بھلے ہی حذف کردیا لیکن پاکستان اس کے خلاف نیوکلیائی اسلحے استعمال کرنے میں پہل نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی فوجی کارروائی کرے گا۔ لیکن پاکستانی میڈیا میں اپنے مضحکہ خیز رویوں کے باعث مذاق کا موضوع بننے والے شیخ رشید نے ایک بار پھر بالواسطہ ہندوستان کو نیوکلیائی بم کی دھمکی دے ڈالت۔ عمران خان نے اپنا بیان لاہور میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سکھ کانفرنس میں دیا تھا۔ شاید اس کے پیچھے یہ وجہ ہو کہ بین الاقوامی برادری میں وہ پاکستان کو ‘‘امن پسند’’ ملک ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے سفارتی ذرائع سے انہیں عالمی لیڈروں کے جو پیغام مل رہے ہوں ان میں یہ کہا جاتا ہو کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ وجہ جو بھی ہو ایسا لگتا ہے یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی ہے کہ ان کی سفارتی کوششیں اور اشتعال انگیز کارروائیاں پاکستان کے حق میں نہیں ہیں۔
Comments
Post a Comment