امریکہ طالبان مذاکرات کی ناکامی میںISI کا رول
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا منقطع ہو جانا ایک افسوسناک امر ہے اور چونکہ خطے میں امن پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اس لیے وہ مذاکرات کے دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے بقول اگر بات چیت کا دوبارہ آغاز نہیں ہوتا ہے تو یہ ایک المیہ ہوگا اور پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہوگا۔ چونکہ افغانستان کے عوام گزشتہ چالیس برسوں سے مشکلات سے دوچار ہیں اس لیے پاکستان کوشش کرے گا کہ مذاکرات کا سلسلہ پھر شروع ہو جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان عوام عشروں سے مشکلات سے دوچار ہیں لیکن ان مشکلات کا سبب کیا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس پہلو پر بھی غور کرے اور اس کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لے۔ امریکہ اور طالبان میں مذاکرات بڑی مشکل سے شروع ہوئے تھے۔ امریکہ اس بات پر راضی ہو گیا تھا کہ قیام امن کی شرط پر وہ اپنی افواج کو افغانستان سے نکال لے جائے گا۔ بات چیت کافی آگے تک جا چکی تھی بلکہ حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدہ کے نکات کو حتمی شکل دیا جانا تھا۔ لیکن اسی درمیان طالبان نے کابل میں حملہ کر دیا جس میں ایک امریکی اور گیارہ دیگر افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کے بعد مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان اپنے رویے سے باز نہیں آرہے ہیں، ان کے خود کش حملے جاری ہیں لہٰذا وہ مذاکرات ختم کر رہے ہیں۔ اس کے بعد طالبان نے صدر اشرف غنی کے انتخابی جلسے پر حملہ کیا اور دوسرا حملہ کابل میں کیا۔ اشرف غنی تو بال بال بچ گئے مگر ان دونوں حملوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوئے۔ بہر حال امریکی صدر نے بات چیت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ یہ بھی بڑی عجیب بات تھی کہ مذاکرات کے اس عمل میں صدر اشرف غنی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ بات چیت میں ان کا کوئی رول ہی نہیں تھا۔ حالانکہ وہ ملک کے جمہوری اور آئینی طور پر منتخب صدر ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی کسی بھی کوشش میں ان کی شمولیت ضروری ہے۔ لیکن چونکہ اشرف غنی افغانستان میں دہشت گردی کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں اور وہ ہندوستان کے قریب بھی ہیں اس لیے پاکستان بالکل نہیں چاہتا تھا کہ بات چیت میں افغان حکومت بھی شامل ہو۔ وہ اس میں کامیاب بھی رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی پالیسی کے مطابق ہی معاہدے کی شرائط طے ہونی چاہئیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ادھر مذاکرات میں اشرف غنی کی عدم شمولیت اور ان کے انتخابی جلسے پر حملے سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ طالبان جمہوریت میں یقین نہیں رکھتے اور پاکستان بھی اس میں بہت زیادہ یقین نہیں رکھتا۔ بہر حال یہ بات دنیا جانتی ہے کہ طالبان پاکستان کے زیر اثر ہیں۔ مذاکرات کے آغاز سے قبل بارہا پاکستان سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ طالبان کو بات چیت کی میز پر لائے اور ان کو دہشت گردی سے باز آنے کے لیے راضی کرے۔ لیکن پاکستان اپنی پالیسیوں کی وجہ سے طالبان پر کسی قسم کا زور نہیں ڈال رہا تھا۔ اب جبکہ امریکہ سے بات چیت شروع ہو گئی تھی تو یہ بات پاکستان کے مفاد میں جاتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ بات چیت کے نتائج اس کی توقعات کے مطابق ہی نکلیں گے اور پھر افغانستان میں اگر طالبان کی حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کو وہاں بالادستی حاصل ہو جائے گی۔ جب افغانستان سے سوویت روس کے نکلنے کے بعد وہاں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو اس میں بھی پاکستان کا کردار تھا۔ جن چند ملکوں نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا ان میں پاکستان سرفہرست تھا۔ لیکن اب بہر حال بات چیت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے تو بظاہر اس سے سب سے زیادہ پریشان خود پاکستان ہے۔ حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ مذاکرات کے منقطع ہو جانے میں براہ راست نہ سہی تو بالواسطہ طور پر ہی آئی ایس آئی کا بھی ہاتھ ہے۔ جس طرح طالبان جمہوریت میں نہیں بلکہ تشدد میں یقین رکھتے ہیں اور اپنی ہر بات بزور طاقت منوانا چاہتے ہیں اسی طرح آئی ایس آئی بھی جمہوریت میں نہیں بلکہ تشدد میں یقین رکھتی ہے۔ دونوں سابقہ تاریخ کو دوہرانا چاہتے ہیں۔ یعنی جس طرح پہلے بزور طاقت طالبان کی حکومت قائم کی گئی تھی اسی طرح ایک بار پھر قائم کی جائے۔ عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ بات چیت کا ٹوٹ جانا ایک المیہ ہوگا اور اس سے پاکستان کو دھچکہ پہنچے گا۔ یعنی ان کا بھی یہی خیال تھا کہ طالبان برسراقتدار آجائیں گے اور پھر پاکستان کی حکومت اور آئی ایس آئی اپنی پالیسیوں کے تحت طالبان حکومت کو کنٹرول کریں گے۔ بہر حال آئی ایس آئی اور پاکستان کی حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ خطے میں غیر یقینی کی صورت حال کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ طالبان کو بہر حال تشدد بند کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے تھا۔ بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ اگر پاکستان خطے میں قیام امن چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔ ورنہ خاک و خون کا جو کھیل وہ افغانستان میں کھیلتا رہا ہے اور اب بھی کھیلنا چاہتا ہے اس آگ میں خود اس کے بھی ہاتھ جل جائیں گے اور اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
Comments
Post a Comment