موضوع: معیشت سے توجہ ہٹانے کی پاکستانی کوشش

آج جناب عمران خان اور ان کی سرکار کے اراکین کچھ زیادہ ہی مصروف نظر آرہے ہیں۔ موصوف نے اگر پاک مقبوضہ کشمیر میں ریلی کرکے یہ بتلانے کی سعی کی کہ ان کو کشمیری عوام کی فکر کس قدر لاحق ہے، وہیں اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بھی کوشش کی، یہ اور بات ہے کہ ان کی ایسی ہر کوشش ناکام ہورہی ہے، بلکہ اس نے صرف یہ سچ سامنے لانے کا فریضہ انجام دیا ہے کہ پاکستان آج عالمی برادری سے کس قدر کٹا ہواہے لیکن جو بات لگتا ہے اکثر صحافیوں اور سیاسی مبصروں کی نظروں سے اوجھل رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ ناکامی کے تمام امکانات سے بخوبی واقف رہتے ہوئے بھی عمران سرکار اگر کشمیر کا راگ الاپے جارہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج پاکستان اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، ملک میں عوام کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے اور معیشت کو پٹری پرلانے کی تمام کوششیں ایک کے بعد ایک ناکام ہوتی جارہی ہیں۔ لہذا ملک کیلئے بحران کی اس گھڑی میں کشمیر کا ایشو ان سیاست دانوں کیلئے ایک طرح سے فضل الہٰی بن کر نازل ہوا ہے جس کے سہارے پاکستان کے دبے کچلے عوام کی توجہ ان کے حقیقی مسائل سے ہٹانے کی کوشش چل رہی ہے۔ بعض پاکستانی سیاستداں تو اب جنگ کی باتیں بھی کرنے لگے ہیں، اگرچہ خود جناب عمران خان یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ روایتی قسم کی کسی جنگ میں پاکستان کیلئے ہندوستان کو مات دینا ناممکن ہے۔ پاکستان کی موجودہ حالت کا قیاس کرنے کیلئے بس چند اشاریوں پر نظر ڈال لینا ہی کافی ہوگا۔ ان میں ایک اشاریہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہوا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر پاکستان کی برآمدات کے دام پہلے سے کم ہوئے ہیں جبکہ اس کی درآمدات کے دام بڑھ رہے ہیں اور اس کا سیدھا سیدھا اثر عام آدمی کی زندگی کے معیار پر پڑ رہا ہے۔ یہ صورت تب ہے جب کہ حال میں آئی ایم ایف سے لئے گئے قرض کی شرائط کی رو سے سرکار کو بہت ساری ایسی سبسڈی اور امداد ختم کرنی پڑی ہیں جن سے عوام کچھ ہی عرصہ پہلے قدرے راحت پاتے تھے۔ ملک کی صنعتی پیداوار میں افسوسناک کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سرکاری بانڈوں میں سود کی شرحوں میں اضافے کے باوجود بیرونی سرمایہ میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف ملک پر بیرونی قرض آج 104.2 ارب ڈالر کے برابر ہے اور اس قرض کی خدمات کا مسئلہ ہی ملک کیلئے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ غور طلب ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے اپنے سالانہ بجٹ کا تقریباً تین چوتھائی حصہ صرف دو مدوں پر خرچ کرنا پڑتا ہے، ایک تو قرض کی خدمات پر اور دوسرے، نام نہاد دفاع پر جبکہ اس فنڈ کا زیادہ تر حصہ کسی نہ کسی پراجیکٹ کے نام پر، یا کسی اور حیلے سے، اعلیٰ فوجی افسروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ غرض کہ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض بھی پاکستانی معیشت کو موجودہ بحران سے باہر نکالنے میں ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔ نیز خود آئی ایم ایف کا تخمینہ یہ ہے کہ پاکستان کی بیرونی قرض داری مالی سال23 – 2022 کے آخر تک بڑھ کر کر ایک سو تیس ارب ڈالر تک جاپہنچے گی۔ بہر کیف رواں مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی بیرونی قرض داری اس کی کل گھریلو پیداوار کے 36.7 فی صد کے برابر تھی اور برآمدات سے اسے ہونے والی آمدنی کا تین سو پیتالیس فی صد یعنی تقریباً ساڑھے تین گنا تھی۔



یہ اعدادوشمار پاکستان کے حالات پر نظر رکھنے والے کسی بھی سیاسی مبصر کو چونکانے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن دنیا کی کسی بھی عوام دشمن سرکار کی طرح آج عمران سرکار بھی اپنے عمل کو درست کرنے اور اپنے گھر کو سدھارنے کی بجائے موجودہ تلخ حقائق سے ملک کے عوام کا دھیان ہٹانے کیلئے کشمیر کے سوال پر اپنا راگ الاپے جارہی ہے جبکہ پاک مقبوضہ کشمیر کی حالت پر ایک نگاہ ڈالنے کی زحمت کرنا بھی اسے گوارہ نہیں ہے۔ لیکن کب تک؟ پاکستان سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق عمران سرکار کشمیر کے سوال پر عوام کی حمایت پانے میں ناکام رہی ہے اور ملک کی حالت جیسے جیسے عوام کے سامنے واضح ہوتی جارہی ہے ویسے ویسے وہاں کے عوام کی بے چینی بھی بڑھتی جارہی ہے جو آگے چل کر خدا معلوم کیا شکل اختیار کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ