موضوع: عمران کے بیان سے پاکستان کا انحراف
پاکستان فوج اور سیاسی قیادت کی رسہ کشی کا کس حد تک شکار ہے اس کا اندازہ چند روز قبل آئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ایک بیان اور بعد میں اس سے منحرف ہونے سے لگایا جا سکتا ہے ۔
ایک اہم اجلاس سے خطاب میں عمران نے یہ کہتے ہوئے سب کو چونکا دیا کہ ان کا ملک ایٹمی حملے کے معاملے میں پیش قدمی نہیں کریگا ۔عمران کا یہ بیان حالیہ تناظر میں اس اعتبار سے باعث حیرت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے باعث اطمینان بھی تھا کہ وہ جموں کشمیر سے دفع 370ہٹاے جانے کے بعد جنگی جنون کا شکار ہیں، اور بار بار بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں. اس سے بھی آگے جا کر وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کشمیر معاملے پر بھارت کے خلافت اپنی ایٹمی طاقت کا بھی استعمال کر سکتا ہے ۔حالانکہ اپنے اس غیر دانشمندانہ بیان میں انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں جیت کسی کی بھی نہیں ہوگی ۔لیکن ان تمام منفی بیانات کے درمیان جب انہوں نے ایٹمی حملے میں سبقت نہ کرنے کی بات کہی تو بشمول بھارت پوری دنیا کو حیرت ہوئی ۔حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ دنیا اب پاکستان کے کسی دعوے یا وعدے پر بھروسہ نہیں کرتی۔اس لیے کہ اس معاملے میں پاکستان کا ریکارڈ بیحد خراب رہا ہے ۔اس کے باوجود عمران کا بیان دنیا کے لیے باعث توجہ بنا۔لیکن چند روز بعد ہی اس بیان کی تردید نے پاکستان کے تعلق سے دنیا کی سابقہ رائے کو درست ثابت کر دیا ہے.
سوال یہ ہے کہ عمران خان کے بیان سے پاکستان کے اس انحراف کی کیا کوئی پس پردہ وجہ ہے یا یہ محض میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئ غلط فہمی تھی کہ پاکستان ایٹمی حملے میں پیش قدمی نہیں کریگا؟ دراصل عمران کا مذکورہ بیان خارجی سطح پر اس پر پڑنے والے دباؤ کا نتیجہ نظر آتا ہے ۔کشمیر مسئلے پر عالمی برادری نے پاکستان کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق مودی حکومت کا فیصلہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے ۔حتیٰ کہ مسلم ممالک نے بھی اس ایشو پر پاکستان کی ہمنوائی سے دامن بچا لیا ہے۔ ظاہر ہے ان تمام حالات سے پاکستان سخت پریشان یے، اور خود کو لاچار محسوس کر رہا ہے. اس لیے ایسا لگتا ہے کہ خود کو امن پسند ثابت کرنے کے لیے عمران خان نے ایٹمی حملے میں پیش قدمی نہ کرنے والا بیان دیا ہو، لیکن پاکستان میں سیاسی قیادت کو فوج کی مرضی و رضامندی کے بغیر ایسے بیانات دینے کی غیر اعلانیہ طور پر اجازت نہیں ہے ۔شاید اسی لیے حکومت کو وزیراعظم کے اس بیان سے منحرف ہونا پڑا ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج روز اول سے سے مختلف بہانوں سے پاکستان کی سیاسی قیادت کو کمزور کرتی رہی ہے. ملک میں جمہوری حکومت کے ہر دور میں پاکستانی فوج کا سیاسی قیادت پر شکنجہ کسا رہا ہے ۔کوئی بھی جمہوری سرکار اہم اور کلیدی ایشوز پر اپنی مرضی سے فیصلے نہیں لے سکی۔اور کشمیر کا معاملہ تو ہمیشہ پاکستانی فوج کے لیے ملک کے داخلی معاملات میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا ذریعہ رہا ہے. ایسے میں یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایٹمی حملے میں پیش رفت نہ کرنے کے عمران کے بیان کو پاکستانی فوج ہضم کر لیتی ۔بہرحال عمران کے مذکورہ بیان سے پاکستان کے انحراف نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان ہی پہنچایا ہے اور اس سے دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان ناقابل اعتبار ہے، اور اس کی فوج و حکومت جنگی جنون کا شکار ہے ۔خواہ یہ جنون پاکستان کے لیے خودکشی کے مترادف ہی کیوں نہ ہو ۔
Comments
Post a Comment