موضوع: عمران کی جنگ کی دھمکی

پاکستانی حکمرانوں کو جنگ لڑنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ خاص طور پر ہندوستان سے لڑنے جھگڑنے کا بہانہ تلاش کرنا اور براہ راست یا بالواسطہ جنگ کی دھمکی دینا ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ روایتی طرز کی جنگ تو وہ کئی بار لڑ بھی چکے ہیں اور ان جنگوں کے فائدے اور نقصان کا تجربہ بھی کرچکے ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی محسوس کرچکے ہیں کہ ایسی جنگیں جوڑگھٹاکر پاکستان کو ہربار تباہی اور پسماندگی سے آشنا کراتی ہیں لہذا انہوں نے اس حکمت عملی میں قدرے تبدیلی پیدا کی اور درپردہ جنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس حکمت عملی کا خاص اور بنیادی عنصر یہ ہے کہ دراندازی کو بڑھاوا دے کر دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔ کشمیر میں یہ کھیل وہ برسوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے کھیل رہے ہیں، لیکن ان کا یہ کھیل کشمیرہی تک محدود نہیں ہے۔ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی انہوں نے تباہی مچانے کی کوئی کم کوشش نہیں کی ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی خارجہ پالیسی کے اہم عنصر کے طور پر دہشت گردی کو اپنا سب سے بڑا Tool بنایا ۔لہذا حالیہ دنوں میں جب ہندوستان نے ریاست جموں وکشمیر میں کچھ انتظامی اور قانونی تبدیلیاں کیں تو پاکستانی حکمراں بدحواس ہواٹھے اور انہوں نے عجیب عجیب کرتب دکھانے شروع کردیے۔ ہندوستان نے دفعہ 370 حذف کرکے ریاست جموں وکشمیر کو فوری طور پر دو مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ یہ خالص ہندوستان کا اندرونی انتظامی معاملہ ہے، لیکن پاکستان نے سفارتی سطح پر ایک طوفان برپا کرنے کی کوشش کی تاکہ اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دیا جاسکے۔ لیکن ان کی تمام سفارتی کوششیں اور چیخ پکار بےسود ثابت ہوئی اور انہوں نے بالآخر یہ محسوس کرلیا کہ یہ سب کچھ سعی رائیگاں ہے۔ 17 ستمبر سے اقوام متحدہ کا 73 واں اجلاس شروع ہونے والا ہے اور پاکستان پوری شدت سے کشمیر کے معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی محسوس کررہا ہے کہ ان کوششوں کا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جو اب تک سفارتی سطح پر کی جانے والی اس کی کوششوں کا ہوچکا ہے۔ وہ اس بات کی بھی بھرپور کوشش کرچکا ہے کہ وہ امریکہ کو ثالثی کے لیے آگے بڑھاسکے اور امریکہ ہندوستان کو اس بات کے لیے آمادہ کرسکے کہ وہ ثالثی کی بات کو مان لے۔ لیکن ہندوستان کے مؤقف میں رتی برابر تبدیلی نہیں رونماہوئی۔ عمران خان کا ہند-پاک جنگ سے متعلق حالیہ بے سرپیر کا بیان دراصل پاکستان کی ناکامی اور اس سے پیدا ہونے والی مایوسی اور فریسٹریشن کا اظہار ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے الجزیرہ چینل کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب اس سے بات چیت کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ اسی ضمن مین انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان روایتی جنگ کا امکان موجود ہے۔ لیکن اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ روایتی جنگ بعد میں نیوکلیائی جنگ کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق فرض کرلیا جائے کہ روایتی جنگ میں پاکستان نے خدانخواستہ یہ محسوس کیا کہ وہ ہار رہا ہے تو اس کے سامنے دو ہی متبادل ہوں گے یاتو وہ سرینڈر کرے یا پھر آخری دم تک اپنی آزادی کے لیے لڑے۔ پاکستانی بہرحال آخری دم تک لڑنا پسند کریں گے اس لیے اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ روایتی جنگ نیوکلیائی جنگ میں تبدیل ہوجائے۔ اب یہ دھمکی نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ ساتھ میں وہ یہ بھی کہتے ہی کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا۔ اگر ان کی یہ بات مان لی جائے کہ پاکستان پہل نہیں کرے گا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون جنگ شروع کرے گا؟ کم ازکم ہندوستان نے نہ تو روایتی جنگ کی بات کی اور نہ ہی نیوکلیائی جنگ کی! عمران خان نے خود ہی کہا کہ 370 ہٹائے جانے کے بعد ہندوستان سے بات چیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوگا۔ تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے؟ اور اگر ان کا یہ مقصد نہیں ہے تو پھر خود ہی بتائیں کہ وہ جنگ کا ذکر کس سباق میں کررہے ہیں؟ جہاں تک دفعہ 370 کا سوال ہے تو یہ پورے طور پر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس تعلق سے پاکستان یا کسی اور کی دخل اندازی ہندوستان کے لیے قابل قبول نہ ہوگی۔ یہ بات پاکستان جتنی جلدی سمجھ لے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ