موضوع: کلبھوشن جادھو معاملہ: پاکستان کا رویہ آئی سی جے کی توہین کے مترادف
ہندوستان سے پاکستان کی عداوت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے وہ طرح طرح کی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ اس نے ہندوستان کے خلاف طویل عرصہ سے درپردہ جنگ چھیڑرکھی ہے۔ جس میں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے دہشت گردوں اور خفیہ ایجنسیوں کا استعمال شامل ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو غیرقانونی طریقے سے حراست میں رکھنا اس کی تازہ مثال ہے۔ اس کا علم پوری دنیا کو ہے کہ کلبھوشن جادھو ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر ہیں جو تجارت کی غرض سے ایران میں تھے جہاں پاکستانی خفیہ ایجنسی نے انھیں اغوا کرکے پاکستان منتقل کردیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن جادھو کو پاکستان کے صوبۂ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا ہے او ریہ کہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کے تعلق سے جس طرح سے جھوٹ کا تانا بانا بنا وہ عالمی برادری کو ہضم نہیں ہوا۔ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو حراست میں رکھ کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے سال 2016 میں کلبھوشن جادھو کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے قونصلر رسائی تک نہیں دی تھی۔ ہندوستان کے بین الاقوامی عدالت انصاف یعنی آئی سی جے سے رجوع کرنے اور مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت کے کہنے پر پاکستان قونصلر رسائی کیلئے راضی ہوا تھا۔ گزشتہ دو ستمبر کو آئی سی جے کی ہدایت پر پاکستان نے ہندوستان کو قونصلر رسائی دی اور اسلام آباد میں ہندوستان کے کارگزار ہائی کمشنر گورو اہلوالیہ (Gaurav Ahluwalia) نے کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی۔ کلبھوشن جادھو کو حراست میں لئے جانے سے لے کر اب تک پاکستان کا رویہ انتہائی شاطرانہ رہا ہے۔ اس نے ہندوستان کی بحریہ کے اس سابق افسر کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جس نے انھیں موت کی سزا سنائی لیکن ہندوستان کی بروقت مداخلت اور آئی سی جے سے رجوع کرنے کی وجہ سے پاکستان فوجی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرسکا۔ کلبھوشن جادھو کی اپنی ماں سے ملاقات کے دوران پاکستانی اہلکاروں نے اُن کی توہین کی تھی او راب جب اُس نے قونصلر رسائی دی تب بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ ملاقات کے بعد ہندوستان نے ایک بیان جاری کیا تھاجس میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن جادھو ملاقات کے دوران کافی ذہنی دباؤ میں تھے او رانھوں نے وہی بات کہی جو پاکستانی حکام نے اُنھیں کہنے کی ہدایت دی تھی۔ مطلب یہ کہ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں نہیں بلکہ کشیدہ ماحول میں ہوئی تھی۔ اب پاکستان نے ایک نیا موقف اختیار کیا ہے وہ یہ کہ آئندہ ہندوستان کو قونصلر رسائی نہیں دےگا۔ دراصل جموںوکشمیر میں دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کئے جانے کے بعد سے پاکستان بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور وہاں کے اداروں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا چاہتا تھاا ور اسے ایک عالمی رنگ دینا چاہتا تھا لیکن اُسے اس محاذ پر خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ اسے ہر جگہ سے مایوسی ہاتھ لگی ہے اور اب وہ ہندوستان میں گڑبڑ پھیلانے کیلئے دیگر ذرائع کے استعمال کی کوشش میں ہے۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اس تعلق سےحکومت اور لوگوں کو آگاہ بھی کیا ہے۔ جمعرات کو پولیس نے جموں وکشمیر کے ضلع کھٹووا میں جیش محمد کے تین دہشت گردوں کو گرفتار کرکے ایک بڑے دہشت گردانہ واقعے کو ناکام بنادیا ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان اپنے منفی عزائم کی تکمیل کیلئے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ اُس نے ابھی تک دہشت گردوں کو ایک سرکاری آلہ کار کے طو رپر استعمال کیا ہے جنہوں نے ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دی ہیں۔ جن میں جان ومال کا کافی نقصان ہوا ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور اُس نے اس خطے کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے متعدد بار یہ بات کہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو غریبی کے خاتمے پر توجہ دینی چاہئے اور اِس خطے کو خوشحالی کی راہ پر لے جانے کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ لیکن پاکستان نے ہمیشہ ہی دھوکہ دیا ہے جب بھی امن کی امید پیدا ہوئی کوئی بڑا دہشت گردانہ واقعہ پیش آگیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ پاکستان امن کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ پاکستان کو اب تک یہ سمجھ لینا چاہئے تھا کہ عداوت اور دشمنی سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا ، اُس نے کروڑوں ڈالر دہشت گردوں کی اعانت پر خرچ کردئے جو رقم ملک وسماج کی ترقی پر خرچ ہونی چاہئے تھی وہ تخریبی کارروائیوں پر خرچ ہوگئی ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے روزمرہ کے اخراجات کیلئے عالمی اداروں اور ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے۔
Comments
Post a Comment