موضوع: ہند-روس اسٹریٹجک شراکت داری
وزیراعظم نریندرمودی ولادی ووستک میں مشرقی معاشی فورم کی پانچویں سربراہ میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے روس کے دو روزہ دورےپر تھے۔ سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ انہوں نے صدر ولادیمیرپوتن سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ معاملات سمیت عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ان کے دورے کے دوران ہندوستان اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ معاشی فورم کے دوران ہندوستان نے اپنی ایکٹ فارایسٹ پالیسی سے بھی متعارف کرایا۔ وزیراعظم مودی نے وسائل سے مالامال مشرق بعید کی ترقی کیلئے ایک ارب ڈالر قرض دینے کا اعلان کیا۔ نئی دہلی کی اس پالیسی سے ہندوستان کے علاقہ میں سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان یہاں ہیرے، کوئلے اور سونے کی کان کنی میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ ہندوستان اور روس کے درمیان تعلقات کافی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی تہذیبی قدریں ایک جیسی ہیں۔ دونوں کی دوستی ہر موقع پر کھری اتری ہے، دونوں کے درمیان آپسی سمجھ بوجھ زبردست ہے۔ ترقی اور معاشی پیش رفت کے بنیادی مسائل کے بارے میں ایک دوسرے کی سمجھ ایک جیسی ہے اور اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کا طریقۂ کار بھی ایک جیسا ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر کافی قریب آئے ہیں۔ ولادی ووستک میں دونوں رہنماؤں کی میٹنگ میں جن موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا ان میں شنگھائی تعاون کونسل سب سے اہم تھا۔ میٹنگ کے دوران جموں وکشمیر کے موضوع پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جناب مودی نے کشمیر سے دفعہ تین سو ستر ختم کئے جانے کے جواز کے بارے میں صدر پوتن کو آگاہ کیا۔ نئی دلی کے اس اقدام سے پاکستان کافی پریشان ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے۔ صدر پوتن نے کہاکہ کشمیر کے بارے میں ہندوستان نے جو کچھ کیا وہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی روس نے ہندوستان کی حمایت کی تھی۔
معاشی محاذ پر صدر پوتن نے تجارت کے سالانہ حجم میں 17 فیصد اضافہ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دوہزار اٹھارہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھ کر 11 ارب ڈالر مالیت کی ہوگئی۔ دونوں ملکوں نے مزید تجارتی اورمعاشی تعاون پر زور دیا۔ جناب مودی اور صدر پوتن کے درمیان میٹنگ میں روس کی ہندوستان کے میک ان انڈیا پروگرام میں شرکت اور روس میں ترقیاتی پروجیکٹوں میں ہندوستانی شہریوں کے ذریعہ سرمایہ کاری پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ توانائی کے شعبہ میں دونوں ملک تیل اور گیس کی تلاش میں تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ دونوں ملکوں نے بحرقطب شمالی کے راستے سمیت دوسرے راستوں سے بھی ہندوستان کو توانائی سپلائی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ ہندوستان بحر قطب شمالی میں روس کے ساتھ تعاون کرنے کے عزم کا اظہار پہلے ہی کرچکا ہے۔ دونوں ملکوں نے دوہزار انیس سے دوہزار چوبیس کے درمیان ہائڈرو کاربن کے شعبہ میں تعاون کیلئے ایک لائحہ عمل بھی تیار کیا۔ امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ پانچ برسوں میں توانائی کے شعبہ میں تعاون نئی اونچائیاں طے کرے گا۔ نیوکلیائی توانائی کے شعبہ کا جہاں تک تعلق ہے تو آئندہ 20 برسوں کے درمیان روس کے ڈیزائن کئے ہوئے مزید بارہ پاور یونٹ لگائے جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں کی میٹنگ میں بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ راہداری پر بھی بات چیت کی گئی۔ چنئی اور ولادی ووستک کو ایک دوسرے سے جوڑنے کیلئے ایک نئے راستے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس راستے کے کھلنے سے امید ہے کہ دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور معاشی ترقی کو تقویت حاصل ہوگی۔ دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبہ میں بھی ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کئے جس کے مطابق ہندوستان کے میک ان انڈیا پروگرام کے تحت مشترکہ پروجیکٹ کے ذریعہ روسی ساخت کے ہتھیاروں کے کُل پرزے تیار کئے جائیں گے۔ خلاء کے شعبہ میں ہندوستان نے اعلان کیا کہ گگن یان مشن پر جانے والے ہندوستانی خلا ءباز روس میں تربیت حاصل کریں گے۔ مختصر یہ کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سالانہ سربراہ میٹنگ اور مشرقی معاشی فورم کی پانچویں کانفرنس کافی کامیاب رہی جہاں ہندوستان کی نئی ایکٹ فار ایسٹ پالیسی کو بڑی کامیابی کے ساتھ متعارف کرایا گیا۔
Comments
Post a Comment