جماعت الدعوہ پر لاکھوں روپئے خرچ کرنے کا پاسکتان کے وزیر داخلہ کا دعویٰ 

کشمیر کے تعلق سے ہندوستان کے کچھ فیصلوں کی بنیاد پر پرپاکستان نے ہندوستان کے خلاف اپنے خیال میں ایک فیصلہ کن سفارتی جنگ چھیڑی ، جس کا مقصد یہ تھا کہ عالمی برادری میں ہندوستان کے خلاف ایک ایسا ماحول قائم کیا جائے کہ دنیا کی نظر پاکستان کی پشت پناہی سے فروغ پانے والی دہشت گردی کی طرف سے ہٹ جائے ۔ لیکن جب پاکستانی حکمرانوں کو ہرطرف سے مایوسی ہوئی اور انہیں یہ اندازہ ہوا کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور دنیا اب بھی پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ہی تصور کرتی ہے تو انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کئی طرح کی صفائی پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ جولائی کے مہینہ میں وزیراعظم پاکستان امریکہ کے دورے پر گئے ۔ اس کا خاص مقصد امریکہ سے بگڑتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔ اتفاق سے طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا چرچہ بھی تھا اور اس میں امریکہ کو کسی حد تک پاکستان کا تعاون بھی چاہئے تھا۔ سو عمران خان نے دہشت گردی کے سلسلے میں پاکستان کی اچھی امیج بنانے کی کوشش کی۔ وہاں ایک موقع پر انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پاکستان میں اب بھی 30سے 40ہزار مسلح ملی ٹینٹ موجود ہیں لیکن انہیں ان کی حکومت غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنی پیشرو حکومتوں کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیا تھا کہ انہوں نے دہشت گردوں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش ہی نہیں کی لیکن ان کی حکومت ضروری قدم اٹھائے گی۔اب اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ عمران خان خود کو دہشت گردی مخالف رہنما ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے وہ دہشت گرد گروپوں کے منظور نظر تھے اور انہیں طالبان خان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ عمران خان پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کبھی ان حملوں کی مذمت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔

بہر حال اب ایک تازہ بیان پاکستان کے وزیرداخلہ اعجاز احمد شاہ کا آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ عمران حکومت نے حافظ سعید کی ممنوعہ دہشت گرد نتظیم جماعت الدعوہ پر لاکھوں روپئے کی رقم اس لئے خرچ کی ہے تاکہ وہ مین اسٹریم میں شامل ہوجائے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بات بھی کہی کہ جماعت الدعوہ کے ممبران کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ مین اسٹریم میں شامل ہوجائیں۔ یہ تو حکومت پاکستان ہی جانے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے بین الاقوامی دہشت گردوں کو وہ کس طو رپر تشدد پسندی کی راہ سے ہٹا کر مین اسٹریم سیاست کا حصہ بنائے گی لیکن عمران خان حکومت کے برسر اقتدار آنے سے قبل ہی لشکر طیبہ جیسی خطرناک تنظیموں کو باقاعدہ سیاسی پارٹی کی شکل میں سامنے لانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ملی مسلم لیگ کے نام سے یہ پارٹی قائم ہوئی تھی اور اگرچہ الیکشن کمیشن سے اسے رجسٹریشن نہیں ملا تھا لیکن دوسری پارٹیوں کے بینر تلے ملی مسلم لیگ اور بعض دوسرے دہشت گرد گروپوں کے امیدواروں نے الیکشن لڑا تھا۔ ایک نوزائیدہ دہشت گرد اور تشدد پسند تنظیم تحریک لبیک نے تو الیکشن میں قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔

جن گروپوں پر مین اسٹریم پارٹی کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی جارہی ہےکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں گے، اس کی امید عمران خان کو ہو تو ہو باقی کسی کو یہ امید نہیں ہے۔ یہ تو پوری مشق ہی پاکستانی فوج کی اس خارجہ پالیسی کے منافی ہوگی جس کے تحت اس نے دہشت گردی کو بطور اوازار استعمال کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عین اسی زمانے میں جب حکومت پاکستان کی ہندوستان کے خلاف سفارتی مہم جوئی شباب پر تھی۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے دہشت گر د تنظیموں کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں پاکستان کے تازہ رکارڈ کا جائزہ لیاتھا اور انتہائی سخت لفظوں میں کہا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی وارننگ دی گئی تھی لیکن اس نے ابھی تک خاطرخواہ قدم نہیں اٹھائے اور مقررہ نشانہ پورا نہیں کیا۔ عمران حکومت کی پریشانی کی وجہ یہی ہے کہ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کے خلاف کوئی سخت فیصلہ کرسکتا ہے۔ اسی لئے حکومت کی جانب سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاری ہے کہ وہ صورت حال کو بدلنا چاہتی ہے۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ دہشت گردگروپوں کو غیر مسلح کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن یہ پیوندکاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ