موضوع: کرتاپور پر پاکستان کا معاندانہ رویہ

کرتار پور صاحب راہداری معاہدے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان دونوں ملکوں کے افسروں اور نمائندوں کی بات چیت کے تیسرے دور میں بھی معاہدے کو آخری شکل نہیں دی جاسکی ہے جس کا سب سے بڑا سبب یہ مانا جا رہا ہے پاکستان کی حکومت ایک خالص مذہبی ثقافتی اور سماجی معاملے کااچانک سیاسی فائدہ اٹھانےکے بارے میں سوچنے لگی ہے۔ماضی کے ورق پلٹے جائیں توکرتار پور صاحب راہداری کی تجویز پہلی بار 1999کے اوائل میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم جناب اٹل بہاری باجپئی اور میاں نواز شریف کی ملاقات کے دوران سامنے رکھی گئی تھی۔برسوں تک یہ تجویز صرف تجویز بنی رہی۔بالآخر گزشتہ سال راہداری کا سنگِ بنیاد26نومبر کو ہندوستانی علاقے میں اور دو روزبعد پاکستانی علاقے میں رکھا گیا۔کرتار پور صاحب گوردوارہ سکھ مذہب کے بانی اور سکھوں کے سب سے بڑے گرو، بابا نانک دیو جی سے منسوب ہے جن کا اِس سال نومبر میں 550 واں یومِ پیدائش منایا جائے گاچنانچہ اس راہداری کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے ۔ یہ سیدھی راہداری سکھ زائرین کے لیے زیارت کے سفر کا فاصلہ بڑی حد تک کم کردے گی۔ راہداری بنانے کے پاکستانی فیصلے کا بھارتی عوام اورخاص طور سے سکھ عقیدت مندوں نے پُرجوش خیر مقدم کیا تھا اورتب یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا یہ قدم دونوں ملکوں کے تعلقات میں دہشت گردی کے سوال پر آنے والی تلخی کو کم کرنے کے عمل کا نقطۂ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن کرتار پور معاہدے کے لیے ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پاکستان نے اچانک ایک ایسا رویّہ اختیار کر لیا ہے جس سے سب حیران ہیں۔اس رویّے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت راہداری کے معاملے میں موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظربھارت پر سیاسی سبقت حاصل کرنے کی بات سوچ رہی ہے اوروہ معاہدے کی آڑ میں مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں بھی لگی ہوئی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ مذاکرات کے اِس سلسلے کے دوران تھوڑی بہت حیل حجّت کے بعد کئی باتوں پر اتفاق ہو گیا تھا۔ مثلاً یہ کہ پاکستان بھارتی زائرین کو اُن کے عقائد سے قطعِ نظر، ویزا کے بغیر کرتار پور صاحب آنے دے گا۔ پاکستان اس پر بھی راضی تھا کہ روزانہ پانچ ہزار زائرین کو کرتار پور صاحب آنے دیا جائے گا، اگرچہ بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ خاص مواقع پر یہ تعداد دس ہزار کر دی جائے تاہم پاکستانی حکام کو یہ منظور نہیں تھاچنانچہ اس پر مزید اصرار نہیں کیا گیا۔ یہ بھی طے ہوگیا کہ کرتاپور کاریڈور کو پورے سال ہفتے کے ساتوں دن کھلا رکھا جائے گا، بوڑھی راوی نہر پر پاکستان، سکھ زائرین کے لیے ایک پل بنائے گا اور پل کے بننے تک ایک سروِس روڈ کی سہولت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتِ حال میں زائرین کو بچا کر لانے اور لنگر اور پرساد کے انتظامات میں تعاون کے امور بھی طے ہوگئے تھے۔ لیکن اچانک پاکستانی حکام نے زائرین پر بیس امریکی ڈالر کی فیس عائد کرنے کی شرط بیچ میں رکھ کر معاہدے میں رکاوٹ کھڑی کردی۔ بھارتی حکام نے دلیل دی کہ زائرین پر چونکہ ویزا کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی اس لیے ان سے فیس لینے کا کو ئی جواز قائم نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیاکے کسی بھی ملک میں سکھوں سے اپنی عبادت گاہ میں جانے کے لیے کسی طرح کی فیس نہیں لی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اگر بیس ڈالر کی یہ داخلہ فیس معاہدے کا حصہ بن جائے تو پاکستان کی حکومت پانچ ہزار زائرین سے ہر روز ایک لاکھ ڈالر کی کمائی کرے گی جو پاکستانی کرنسی کی شرحِ مبادلہ کے حساب سے 16کروڑ روپے یومیہ بنتی ہے اور اس طرح پاکستان سال بھر میں ساڑھے پانچ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی کی توقع کر تاہے۔ پاکستان کے رُخ میں اچانک آنے والی اس تبدیلی پر سیاسی مبصرین کی رائے یہ ہے کہ اِن مذاکرات میں پاکستانی حکّام کو ان کے سیاسی اور فوجی آقاؤں نے غالباً یہ ہدایت دے کر بھیجا ہے کہ وہ معاہدے کو حتمی شکل اختیار نہ کرنے دیں اوریہ بھی لگتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اندرونی سیاسی دباؤ کے پیشں ِ نظر اب سنجیدہ مذاکرات کی بجائے پروپیگنڈے میں دل چسپی لینے لگی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ معاہدہ ہو پائے گا یا نہیں اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔صرف امیدہی کی جاسکتی ہے کہ شاید پاکستانی حکمراں تھوڑا بہت عقل اور دور اندیشی سے کام لیں اور مذہبی عقیدتوں پر کاروبار یا سیاست کرنے سے باز رہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ