موضوع:طالبان کی ،امریکی فوجوں پر حملہ جاری رکھنے کی دھمکی

امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے امن مذاکرات میں آخری لمحوں میں جو اچانک بریک لگا وہ بھلے ہی کسی حد تک بعض حلقوں میں چونکانے والا رہا ہے لیکن غیرمتوقع نہیں تھا۔ دراصل جس ڈرامائی انداز میں مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، اسی ڈرامائی انداز سے ردّ کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا۔ شروع میں جب امن مذاکرات کے لئے کوئی بات ہوتی تھی تو امریکہ کا موقف یہ ہوتا تھا کہ طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کرنی چاہئے جبکہ طالبان اس بات سے قطعی اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ شروع سے آخر تک ان کا یہی کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے جبکہ براہ راست امریکہ سے بات چیت کرنے میں انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ پھر اچانک یہ سننے میں آیا کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے اور اس مقصد کے لئے اس نے زلمے خلیل زاد کو اپنا خصوصی سفیر مقرر کیا ہے۔ بہرحال دوحہ میں امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ گزشتہ سال کے اواخر سے بات چیت شروع ہوئی لیکن اس بات چیت کے تعلق سے بڑی عجیب بات یہ تھی کہ طالبان بات چیت میں تو حصہ لے رہے تھے لیکن اپنے عمل سے یہی ظاہر کررہے تھے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرنے کیلئے تیا رنہیں ہیں۔ گویا بات چیت کے ساتھ ساتھ افغانستان میں ان کے حملے بھی جاری تھے۔ ان حملوں میں سیکوریٹی فورسز، حکومت کے دفاتر ، تنصیبات اور عام لوگ نشانہ بنتے رہے ۔ کچھ لوگ کراس فائرنگ میں بھی ہلاک اور زخمی ہوتے رہے۔ یقیناً امریکہ کی طرف سے طالبان کوحملوں سے باز رہنے کے لئے کہا جاتا رہا ہوگا لیکن وہ شاید اس کی پرواہ نہیں کررہے تھے۔ وہ شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ امریکہ بہت کمزور پوزیشن سے بات کررہا تھا اس لئے ان کے حوصلے بڑھتے ہی گئے۔ حتی کہ گفتگو آخری مرحلوں میں پہنچ گئی او ریہ بھی خبر آئی کہ سمجھوتے کے بارے میں ‘‘اصولی طور’’ پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ بس باقاعدہ اعلان کا انتظار ہے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ اور طالبان لیڈروں نیز افغان صدر اشرف غنی سے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات ہونے والی تھی۔ لیکن اس سے چند رروز قبل ہی طالبان نے کابل میں نہ صرف ایک اور حملہ کیا بلکہ اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اس حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ صدر ٹرمپ نے بظاہر اسی حملے کی بنیاد پر طالبان اور اشرف غنی سے مجوزہ خفیہ ملاقات کا پروگرام منسوخ کردیا اور نہ صرف پروگرام منسوخ کیا بلکہ امن مذاکرات کے جو اتنے مرحلے طے ہوئے تھے ان سب کو مسترد کرنے کا بھی انہوں نے اعلان کردیا۔ لیکن مذاکرات کو مسترد کرنے کی صرف یہی وجہ نہیں تھی کہ طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ طالبان نے اشرف غنی حکومت کو ہمیشہ ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ قدم قدم پر وہ ایسی حرکتیں کرتے جن سے حکومت کی سبکی ہوتی۔ لیکن آخری لمحوں میں جو بدمزگی پیدا ہوئی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ طالبان اب بھی اشرف غنی حکومت کو خاطر میں نہیں لارہے تھے اور امریکہ کے بار بار کے اصرار کے باوجود وہ حکومت اور اس کے نمائندوں سے بات چیت کرنے سے انکار کررہے تھے۔ پھر طالبان کے اس حملے نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی جس میں امریکی سپاہی ہلاک ہوا تھا۔ طالبان کی ان تمام حرکتوں سے صرف صدر ٹرمپ ہی ناراض نہیں ہوئے بلکہ امریکہ کے بیشتر اعلیٰ افسران اور سفارتکار بھی یہی محسوس کررہے تھے کہ اگر طالبان کا یہی رویہ برقرار رہا تو اس سے امن کی امید نہیں کی جاسکتی ۔



فی الحال یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ یا یہ کہ قیام امن سے متعلق کوئی پیش رفت کب تک شروع ہوگی لیکن اس مرحلے میں طالبان کو یہ سخت پیغام دینا ضروری تھا کہ قیام امن سے متعلق کسی عمل میں شریک ہونے سے پہلے انہیں امن کا مفہوم بھی سمجھنا چاہئے۔ دراصل طالبان کی قیادت ایک ایسی نظریاتی کمیں گاہ قائم کرنا چاہتی ہے جس میں صرف تشدد کو ہی سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اس کی ذہنی تربیت کاکام پاکستان کا فوجی ایسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کرتی رہی ہے۔ افغانستان کو پاکستانی ایجنسیاں اپنی حربی حکمت عملی کا محور سمجھتی ہیں اور اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور ایک آسیب کی طرح ان کے سرپر سوار ہے۔ افغان طالبان کو ایک بہت بڑا سہارا پاکستان کی انہیں طاقتوں کا ملا ہے اور اسی کے سہارے وہ مستقبل میں بھی افغانستان میں بہ زور بازو اپنی امارات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی یہ شیخی ملاحظہ کیجئے ‘‘مذاکرات کو امریکہ نے خیرباد تو کہہ دیا لیکن اسے پشیماں ہونا پڑے گا ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے۔ یا تو جہاد کریں اور لڑیں یا پھر بات چیت کی جائے۔ تو اب ہم نے پہلا راستہ اختیار کیا ہے یعنی لڑائی کی۔ جلد ہی امریکہ کو احساس ہوجائے گا کہ اس نے غلطی کی۔ ’’ اقتباس ختم ہوا۔ امریکہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا یا نہیں یہ تو بعد میں پتہ چلے گا۔ لیکن جہاں تک طالبان کا لڑائی جاری رکھنے کا سوال ہے، تو اس سلسلے میں تو پہلا سوال یہ ہے کہ اس نے لڑائی بند کب کی تھی؟ وہ تو بات چیت میں بھی شامل ہورہا تھا اور حملے بھی ہر روز کررہا تھا؟ خیر اب دیکھنا یہ ہے کہ پچھتاوا کس کو ہوتا ہے۔ ایسی خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ پاکستان مذاکرات منسوخ ہونے سے خاصا پریشان ہے اور اس کے ہر موسم کے دوست چین نے امریکہ ا ورطالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ