موضوع: اہانت دین قانون کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثالیں
کسی بھی مذہب یامذہبی پیشواؤں کی شان میں گستاخی کرنا ہر معاشرے میں برا تصور کیا جاتا ہے۔ مذہب یا مذہبی شخصیتوں کی بات تو چھوڑ یے کسی عام آدمی کو بھی برا بھلا کہنا یا ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنا اخلاق سے گری ہوئی بات کے زمرے میں آتا ہے۔ مذہب کی شان میں گستاخی کرنا تو انتہائی گھناؤنی بات ہوتی ہے۔ اس سے لوگوں کے جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں اور سماج میں تشدد کو بھی بڑھاوا مل سکتا ہے۔ لہٰذا مختلف ملکوں میں اس قسم کی باتوں کی روک تھام کے لیے مناسب قانون بھی نافذ ہیں۔ برصغیر ہندوپاک میں بھی بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ایسا قانون نافذ کیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان میں جنرل ضیأالحق کے زمانے میں جب مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی شعوری کوششیں شروع ہوئیں تو اس قانون میں ترمیم کرکے اسے بہت سخت بنادیا گیا اور پھانسی تک کی سزا کی گنجائش پیدا کی گئی۔ بہرحال قانون کوئی بھی اس کا مقصد لاقانونیت کو روکنا اور سوسائٹی میں امن وامان بحال کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاقانونیت کو مزید بڑھاوا دینا۔ پاکستان میں اس قانون کا اتنا غلط استعمال ہورہا ہے کہ اس کی وجہ سے انتشار اور تشدد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ چونکہ پاکستان میں بعض حکمرانوں نے سیاسی فائدے کے لیے مذہبی انتہاپسندی کو براہ راست یا بالواسطہ بڑھاوا دیالہٰذا لوگ اہانت دین قانون یا Blasphemy law کے تعلق سے بھی اتنے جذباتی ہوگئے کہ سچائی کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے صرف الزام یا افواہ کو ہی حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں اور جس پر کوئی الزام لگایا جاتا ہے۔ لوگ اس کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں۔مذہب کے نام پر جب جنون کو شعوری طور پر فروغ یاجائے تو اس کے نتائج بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ پاکستان کا اہانت دین قانون اس قدر متنازعہ ہے کہ آئے دن اس کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی طوفان اٹھتا رہتا ہے۔ جذباتیت کا یہ عالم ہے کہ اگر عدالت میں جج صاحئبان ملزم کو بے قصور پاتے ہیں اور اسے رہا کرنا کا حکم دیتے ہیں تو بھی اس کی خیر نہیں ہوتی، بھیڑ خود سے اس کا کام تمام کردینے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں کورٹ سے تو ملزم کو رہائی مل گئی لیکن جنونی افراد نے اسے ہلاک کردیا۔ جج صاحبان کو بھی نہ صرف دھمکیاں ملتی ہیں بلکہ حملے بھی ہوئے ہیں۔ ابھی زیادہ دن کی بات نہیں ہے کہ ایک غریب عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے اس الزام سے بری کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم دیا تھا، اس پر ایک مذہبی دہشت گرد جماعت تحریک لبیک پاکستان نے زبردست اور پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ آسیہ بی بی اس الزام سے تو بری ہوگئی لیکن رہائی کے باوجود اسے ہمیشہ کے لیے اپنے وطن کو خیرباد کہنا پڑا۔ اسی آسیہ بی بی کی رہائی کی کوشش کرنے والے صوبۂ پنجاب کے سابق گورنرسلمان تاثیر کو 2011 میں انہی کے ایک جنونی باڈی گارڈ ممتاز قادری نے گولیوں سے بھون دیا تھا۔
دراصل کوئی بھی آپسی رنجش یا کسی اور وجہ سے کسی پر بھی یہ الزام لگادے کہ فلاں شخص نے مذہب یا پیغمبر اسلام یا قرآن مجید کی شان میں گستاخی کی یا نازیبا الفاظ کہے تو لوگ بغیر کچھ سوچے سمجھے اس شخص کو مجرم مان لیتے ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ الزام غلط ہے یا صحیح!
حال ہی میں ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے وجیہہ الحسن نام کے ایک شخص کو اس الزام سے بری کردیاہے۔ ان پر 18 سال قبل مذہب کی شان میں گستاخی کرنے کا الزام لگایا گیاتھا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ایک خط کی بنیاد پر استغاثہ نے ملزم پر الزام لگایا تھا لیکن وہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ پھرجس خط کو الزام عائد کرنے کی بنیاد بنایا گیا تھا اس کی تحریر کی تصدیق میں تحریر کے ماہرنے نہیں کی۔ لہذا عدالت نے یہ محسوس کیا اسے ماورائے عدالت اقبالیہ بیان سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ وجیہہ الحسن کو ایک نچلی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ یہ 2002 کی بات ہے، تب سے اب تک وہ پھانسی کی سزا کے تصور کے ساتھ اپنے شب وروز گزاررہے تھے اور اتنی لمبی مدت کے بعد انہیں سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ کیا ان لوگوں کو بھی اس کی کوئی سزا ملے گی، جنہوں نے ان کی زندگی کا اتنا لمبا وقت برباد کیا؟
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا یہ قانون ایک ایسا قانون بن کر رہ گیا ہے جس میں کوئی شخص اگر بے قصور بھی ثابت ہوا اور وہ عدالت سے بری ہوگیاتو اس کی زندگی موت سے بھی بدتر ثابت ہوتی ہے۔ بعد میں جنونی افراد موقع ملتے ہی اسے موت کے گھاٹ اتارسکتے ہیں۔ یا پھر اسے ہمیشہ کے لیے اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے۔ 1995 میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک شخص کو بری کردیا تھا، لیکن دوسال بعد اسی کے چیمبر میں گھس کر جنونیوں نے اس کا خون کردیا۔ اسی طرح ایک وکیل راشد رحمان کو صرف اس لیے قتل کردیاگیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسے ہی ملزم کے وکیل دفاع کی ذمہ داری نبھائی تھی۔ اخبار ‘ڈان’ نے اپنے ایک اداریہ میں لکھا ہے کہ ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ کوئی بے قصور عدالت سے چھوٹ جائے تو اس کے لیے جینا اور زیادہ مشکل ہوجائے۔
دراصل کوئی بھی آپسی رنجش یا کسی اور وجہ سے کسی پر بھی یہ الزام لگادے کہ فلاں شخص نے مذہب یا پیغمبر اسلام یا قرآن مجید کی شان میں گستاخی کی یا نازیبا الفاظ کہے تو لوگ بغیر کچھ سوچے سمجھے اس شخص کو مجرم مان لیتے ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ الزام غلط ہے یا صحیح!
حال ہی میں ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے وجیہہ الحسن نام کے ایک شخص کو اس الزام سے بری کردیاہے۔ ان پر 18 سال قبل مذہب کی شان میں گستاخی کرنے کا الزام لگایا گیاتھا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ایک خط کی بنیاد پر استغاثہ نے ملزم پر الزام لگایا تھا لیکن وہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ پھرجس خط کو الزام عائد کرنے کی بنیاد بنایا گیا تھا اس کی تحریر کی تصدیق میں تحریر کے ماہرنے نہیں کی۔ لہذا عدالت نے یہ محسوس کیا اسے ماورائے عدالت اقبالیہ بیان سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ وجیہہ الحسن کو ایک نچلی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ یہ 2002 کی بات ہے، تب سے اب تک وہ پھانسی کی سزا کے تصور کے ساتھ اپنے شب وروز گزاررہے تھے اور اتنی لمبی مدت کے بعد انہیں سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ کیا ان لوگوں کو بھی اس کی کوئی سزا ملے گی، جنہوں نے ان کی زندگی کا اتنا لمبا وقت برباد کیا؟
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا یہ قانون ایک ایسا قانون بن کر رہ گیا ہے جس میں کوئی شخص اگر بے قصور بھی ثابت ہوا اور وہ عدالت سے بری ہوگیاتو اس کی زندگی موت سے بھی بدتر ثابت ہوتی ہے۔ بعد میں جنونی افراد موقع ملتے ہی اسے موت کے گھاٹ اتارسکتے ہیں۔ یا پھر اسے ہمیشہ کے لیے اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے۔ 1995 میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک شخص کو بری کردیا تھا، لیکن دوسال بعد اسی کے چیمبر میں گھس کر جنونیوں نے اس کا خون کردیا۔ اسی طرح ایک وکیل راشد رحمان کو صرف اس لیے قتل کردیاگیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسے ہی ملزم کے وکیل دفاع کی ذمہ داری نبھائی تھی۔ اخبار ‘ڈان’ نے اپنے ایک اداریہ میں لکھا ہے کہ ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ کوئی بے قصور عدالت سے چھوٹ جائے تو اس کے لیے جینا اور زیادہ مشکل ہوجائے۔
Comments
Post a Comment