پاکستان میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان تلخی میں اضافہ
سیاست میں کامیابی اگر عوام کی خوشنودی سے ملی ہو، اگر حکومت خدمت خلق سے کی جائے اور دیگر لیڈروں کو طاقت کے زور پر دبانے کے بجائے اپنی بہتر کارکردگی سے شکست دینے کی جدوجہد کی جائے تو پھر حالات ناسازگار نہیں ہوتے۔ پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو مسئلے اس لیے درپیش ہیں، کیونکہ عام خیال یہی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں اس کی کامیابی عوام کی محبت کا نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا اظہار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے لیے غیر جمہوری اور غلط طریقے سے کامیابی کی راہیں ہموار کی گئی تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف لکھنے والے صحافیوں کو متنبہ اور اغوا کیا گیا تھا اور حالات اس طرح بنا دیے گئے تھے کہ حکومت صرف پاکستان تحریک انصاف یعنی پی ٹی آئی ہی کی بن پائے، چنانچہ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ فوج ان کے ساتھ ہے، پاکستان کا پورا سسٹم ان کی مرضی کے مطابق ہی چلے گا، وہ اپنے ہر حریف کی آواز دبا دیں گے۔ بدعنوانی مخالف مہم کا استعمال عمران حکومت نے حزب اختلاف کے لیڈروں کے خلاف کرنا شروع کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حزب اختلاف کے لیڈروں میں ایک خوف سا پیدا ہو گیا کہ کب کس کی باری آجائے، چنانچہ انہوں نے اتحاد میں ہی اپنی بقا سمجھی۔ اسی لیے تمام باہمی اختلافات کو نظرانداز کرکے انہوں نے پی ڈی ایم یعنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی شروعات کی، اب پی ٹی آئی کے مقابلے میں کوئی ایک پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی یا جمعیت علمائے اسلام نہیں، 11پارٹیوں کا اتحاد کھڑا ہے۔
جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا ماننا ہے کہ عمران حکومت ’ایک مصنوعی حکومت ہے۔ اس کو زبردستی کھڑاکیا گیا ہے اور اگر ایک روز بھی اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کی مدد نہ کرے تو یہ گر جائے گی۔ یہی خیال پی ڈی ایم کے دیگر لیڈروں کا بھی ہے، اس لیے وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ قول و عمل سے اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مسلسل یہ اشارے دے رہے ہیں کہ ’وہ ایک پیج پر بھی ہیں اور ایک اسٹیج پر بھی ہیں۔‘ پی ڈی ایم مختلف پارٹیوں کا ایک گروپ نہیں، حکومت مخالف سوچ کا ایک مشترک اظہار ہے مگر وقت کی نزاکتیں وزیراعظم عمران خان کی فہم سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے سیاست کے میدان کو کرکٹ کی پچ سمجھ لیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ تیز بالنگ کر کے حزب اختلاف کی ایک کے بعد ایک وکٹیں گرا دیں گے۔ نیب لاہور کے اسلام آباد سے خواجہ آصف کو گرفتار کرنے اور 16 فروری 2021 کے بعد میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھا جانا فطری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ( ن) کی نائب صدر مریم نواز کا ماننا ہے کہ خواجہ آصف کی گرفتاری دراصل اغوا ہے، یہ انہیں دھمکانے کی ایک کوشش ہے، یہ سلیکٹرس اور سلیکٹڈ کے گٹھ جوڑ کا انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔
حالات حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس موڑ پر لے آئے ہیں کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا یہ واضح مؤقف ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کو اقتدار سے باہر کیا جائے۔انہوں نے عمران خان کو استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کرانے کے لیے31 جنوری 2021 تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد ان کا ارادہ لانگ مارچ کرنے کا ہے، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ موجودہ صورت حال میں ایک پاکستان گیر عوامی تحریک کے تمام جزئیات موجود ہیں، البتہ حکومت سے اپنی ناراضگی کو بڑی عوامی تحریک میں بدلنے پر وہ محتاط ہیں۔ شاید اس کی وجہ ان کا یہ خوف ہو کہ یہ کورونا کا دور ہے۔ انہوں نے گلی گلی، محلے محلے حکومت مخالف تحریک کی لہر پہنچانے کی اگر کوشش کی تو کورونا متاثرین کے اعداد و شمار میں کھیل کرکے عمران حکومت ان پر وائرس کی توسیع اور پاکستان کے حالات خراب کرنے کا الزام عائد کر سکتی ہے، یہ صورت حال ان کی امیدوں پر پانی پھیر دے گی، چنانچہ حزب اختلاف کی جماعتیں فی الوقت حکومت پر شدید دباؤ بنائے رکھنا چاہتی ہیں اور عوام کو ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار کرنا چاہتی ہیں کہ انہیں اگر آواز دیں تو سڑکوں پر آنے میں وہ تاخیر نہ کریں۔ پی ڈی ایم جماعتیں جانتی ہیں کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے حزب اختلاف کی جماعتوں سے لڑ سکتی ہے مگر جمہوریت پسند عوام سے نہیں۔ بدلتے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ سال نو کا پہلا مہینہ ہی پاکستان تحریک انصاف کے لیے خدشات سے پُر ہوگا۔ نئے چیلنجز کا سامنا عمران خان کو کرکٹ کپتان کی طرح نہیں، ایک سیاسی لیڈر ہی کی طرح کرنا ہوگا، ورنہ جنرل مشرف کا انجام کیا ہوا، یہ ان سے پوشیدہ نہیں !
جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا ماننا ہے کہ عمران حکومت ’ایک مصنوعی حکومت ہے۔ اس کو زبردستی کھڑاکیا گیا ہے اور اگر ایک روز بھی اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کی مدد نہ کرے تو یہ گر جائے گی۔ یہی خیال پی ڈی ایم کے دیگر لیڈروں کا بھی ہے، اس لیے وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ قول و عمل سے اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مسلسل یہ اشارے دے رہے ہیں کہ ’وہ ایک پیج پر بھی ہیں اور ایک اسٹیج پر بھی ہیں۔‘ پی ڈی ایم مختلف پارٹیوں کا ایک گروپ نہیں، حکومت مخالف سوچ کا ایک مشترک اظہار ہے مگر وقت کی نزاکتیں وزیراعظم عمران خان کی فہم سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے سیاست کے میدان کو کرکٹ کی پچ سمجھ لیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ تیز بالنگ کر کے حزب اختلاف کی ایک کے بعد ایک وکٹیں گرا دیں گے۔ نیب لاہور کے اسلام آباد سے خواجہ آصف کو گرفتار کرنے اور 16 فروری 2021 کے بعد میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھا جانا فطری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ( ن) کی نائب صدر مریم نواز کا ماننا ہے کہ خواجہ آصف کی گرفتاری دراصل اغوا ہے، یہ انہیں دھمکانے کی ایک کوشش ہے، یہ سلیکٹرس اور سلیکٹڈ کے گٹھ جوڑ کا انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔
حالات حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس موڑ پر لے آئے ہیں کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا یہ واضح مؤقف ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کو اقتدار سے باہر کیا جائے۔انہوں نے عمران خان کو استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کرانے کے لیے31 جنوری 2021 تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد ان کا ارادہ لانگ مارچ کرنے کا ہے، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ موجودہ صورت حال میں ایک پاکستان گیر عوامی تحریک کے تمام جزئیات موجود ہیں، البتہ حکومت سے اپنی ناراضگی کو بڑی عوامی تحریک میں بدلنے پر وہ محتاط ہیں۔ شاید اس کی وجہ ان کا یہ خوف ہو کہ یہ کورونا کا دور ہے۔ انہوں نے گلی گلی، محلے محلے حکومت مخالف تحریک کی لہر پہنچانے کی اگر کوشش کی تو کورونا متاثرین کے اعداد و شمار میں کھیل کرکے عمران حکومت ان پر وائرس کی توسیع اور پاکستان کے حالات خراب کرنے کا الزام عائد کر سکتی ہے، یہ صورت حال ان کی امیدوں پر پانی پھیر دے گی، چنانچہ حزب اختلاف کی جماعتیں فی الوقت حکومت پر شدید دباؤ بنائے رکھنا چاہتی ہیں اور عوام کو ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار کرنا چاہتی ہیں کہ انہیں اگر آواز دیں تو سڑکوں پر آنے میں وہ تاخیر نہ کریں۔ پی ڈی ایم جماعتیں جانتی ہیں کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے حزب اختلاف کی جماعتوں سے لڑ سکتی ہے مگر جمہوریت پسند عوام سے نہیں۔ بدلتے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ سال نو کا پہلا مہینہ ہی پاکستان تحریک انصاف کے لیے خدشات سے پُر ہوگا۔ نئے چیلنجز کا سامنا عمران خان کو کرکٹ کپتان کی طرح نہیں، ایک سیاسی لیڈر ہی کی طرح کرنا ہوگا، ورنہ جنرل مشرف کا انجام کیا ہوا، یہ ان سے پوشیدہ نہیں !
Comments
Post a Comment