پاکستان 2020 میں الگ تھلگ پڑا
یوں تو سال 2020کے دوران کورونا کی عالمی وبا اور دیگر اسباب کی بنا پر جہاں دنیا کے تقریباً تمام ممالک کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے وہیں ایک اہم بات یہ بھی رہی کہ عالمی برادری نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی اور اس کے مصائب کو کم کرنے کی کوشش کی تاہم انسانی ہمدردی کے اس ماحول میں بھی پاکستان الگ تھلگ پڑتا دکھائی دیا۔حتی کہ اس کے انتہائی قریبی دوستوں نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا شرو ع کردیا۔اس کی بڑی وجہ پاکستان کا اپنا رویہ اور قول و فعل میں پایا جانے والا تضاد ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے بلند بانگ دعوے ہوں یا اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا معاملہ، عالمی سفارت کاری ہو یا داخلی سیاست، پاکستان کے ارباب حل و عقدتقریباً ہر معاملے میں دوہری پالیسی پر گامزن رہے۔ جس کا خمیازہ اسے اور اس کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ دوسری طرف برادر ملک اور روایتی حلیف اور دوست بھی اس سے ناراض ہوگئے۔
اس کی سب سے واضح مثال سعودی عرب ہے۔روایتی طور پر سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں۔ اور سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی پریشانیوں اور مالی مشکلات سے نکالنے میں ہمیشہ مدد کی۔ اس نے کبھی تیل کے بقایہ جات معاف کیے تو کبھی بڑی بڑی رقم کے ذریعہ مالی مدد کی۔ لیکن پاکستان نے اپنے اس دیرینہ دوست کے احسانات کو یک لخت بھلا دیا اور کشمیر کے معاملے پر ایک طرح سے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کشمیر پر ہماری مدد نہیں کرسکتے تو ہم دوسرے راستے دیکھیں گے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی آزاد اور خودمختار ملک اس طرح کے چیلنج کو برداشت نہیں کرسکتا ہے۔پاکستان کے اس غیر سفارتی، غیر پیشہ ورانہ اور غیر دانش مندانہ طرز عمل سے سعودی عرب کاناراض ہوجانا فطری تھا۔لہذا اس نے پاکستان کو آئینہ دکھاتے ہوئے اسے دیے گئے قرضوں کو واپسی کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان کے سابق سفیر محمد عاقل ندیم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو اس‘میگا فون’ سفارت کاری سے ناراض کرنے میں کسی قسم کی حکمت عملی نظر نہیں آئی ماسوائے اس کے کہ حکومت پاکستان نے جذبات میں آ کر یا کمزور مشورے کی بنیاد پر یہ بیان دے دیا۔ اگر اس کا مقصد سعودی عرب پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا تھا تو وہ بظاہر بری طرح ناکام ہوا۔ اس غیر ضروری عوامی بیان بازی نے نہ صرف پاکستان کو مالی طور پر نقصان پہنچایا بلکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے مستقبل کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان نے اسی طرح سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی حساسیت کا خیال رکھے بغیر کوالالمپور کی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اور پھر دباؤ میں آ کر اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان سفارتی اور خارجہ امور کے اہم معاملات پر تفصیلی غور و فکر اور مشورے کے بغیر فیصلے کررہا ہے اور یہی سبب ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خارجہ تعلقات کو سنگین بحرانوں میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں پاکستان کس قدر دوہرا میعار اپنائے ہوئے ہے۔ ایک طرف دنیا کے سامنے خود کو دہشت گردی کا شکار بتاکر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہاہے دوسری طرف درپردہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی اعانت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ بھی اسے بارہا بھگتنا پڑا ہے۔ تاہم اس نے اب تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔
دہشت گردی کے خلاف خاطر خواہ اقدامات نا کرنے کی وجہ سے سال 2020 میں وہ بڑی مشکل سے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچ پایا۔ لیکن بلیک لسٹ میں شامل ہونے کی تلوار اس کے سر پر اب بھی لٹک رہی ہے کیوں کہ اس بین الاقوامی ادارے نے اپنے تمام شرائط کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو اس سال صرف فروری تک کا وقت دیا ہے۔
نامناسب فیصلے اور غلط طریقہ کار اپنانے کی وجہ سے اقتصادی لحاظ سے بھی سال 2020پاکستان کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا۔ پاکستانی معیشت قرضوں کی مرہون منت رہی ہے۔ اور پچھلے دو سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 17 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ برس بھی اسے آئی ایم ایف کے علاوہ چین، ملائشیا، ورلڈ بینک اور امریکہ سمیت کئی ملکوں اور اداروں سے قرض لینے پڑے۔ جس سے اسے ملک کا انتظام و انصرام چلانے میں تھوڑی آسانی ہوگئی۔ گوکہ اس سے اسے عارضی راحت تو مل گئی لیکن اب مشکل یہ ہے کہ اس برس اسے یہ ہنگامی قرضے واپس بھی کرنے ہیں۔ اب خدا ہی جانے کہ نئے سال میں صورت حال کیا ہوگی۔
اپنے عوام کو گمراہ کرنا پاکستانی رہنماوں کی پرانی روایت رہی ہے۔ حقیقت کی پردہ پوشی اور گمراہ کن تصویروں کوپیش کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ اس نے سال 2020میں یہ کہہ کر اپنے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گیا ہے۔
لیکن ماہرین کے مطابق ان دعووں کی حقیقت یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس برآمدات بڑھنے سے نہیں بلکہ درآمدات کم کرنے سے ہوئی ہے۔پاکستانی ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ حکومت جو کچھ کہہ رہی ہے اس کی مثال ایسی ہے گویا اگر ایک شخص تین ٹائم کے کھانے کی بجائے دو ٹائم کھانا کھائے اور مہینے کے آخر میں یہ دعویٰ کرے کہ میں نے پانچ کلو آٹا بچا لیا ہے، یہ میری کامیابی ہے۔ تو آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ کامیابی ہے یا مفلسی کی علامت۔
پاکستان کے سابق سفارت کار محمدعاقل ندیم کہتے ہیں کہ یہ امید کی جا رہی تھی کہ حکومت پاکستان نے پچھلے 18 ماہ کی ناکامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھے ہوں گے لیکن اپنے غیرلچک دار اور غیرذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے حکومت نے سال 2020میں پاکستان کو شدید سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی بحرانوں سے دوچار کر دیا ہے۔اور صورت حال یہ ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت کی سمت نہ تو داخلی حالات اور نہ ہی بین الاقوامی تعلقات میں عوام کو کسی قسم کا اطمینان دلا پا رہی ہے۔اور پاکستانی خارجہ پالیسی پوری طرح ذہنی مفلوجی کا شکار نظر آتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے بلند بانگ دعوے ہوں یا اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا معاملہ، عالمی سفارت کاری ہو یا داخلی سیاست، پاکستان کے ارباب حل و عقدتقریباً ہر معاملے میں دوہری پالیسی پر گامزن رہے۔ جس کا خمیازہ اسے اور اس کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ دوسری طرف برادر ملک اور روایتی حلیف اور دوست بھی اس سے ناراض ہوگئے۔
اس کی سب سے واضح مثال سعودی عرب ہے۔روایتی طور پر سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں۔ اور سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی پریشانیوں اور مالی مشکلات سے نکالنے میں ہمیشہ مدد کی۔ اس نے کبھی تیل کے بقایہ جات معاف کیے تو کبھی بڑی بڑی رقم کے ذریعہ مالی مدد کی۔ لیکن پاکستان نے اپنے اس دیرینہ دوست کے احسانات کو یک لخت بھلا دیا اور کشمیر کے معاملے پر ایک طرح سے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کشمیر پر ہماری مدد نہیں کرسکتے تو ہم دوسرے راستے دیکھیں گے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی آزاد اور خودمختار ملک اس طرح کے چیلنج کو برداشت نہیں کرسکتا ہے۔پاکستان کے اس غیر سفارتی، غیر پیشہ ورانہ اور غیر دانش مندانہ طرز عمل سے سعودی عرب کاناراض ہوجانا فطری تھا۔لہذا اس نے پاکستان کو آئینہ دکھاتے ہوئے اسے دیے گئے قرضوں کو واپسی کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان کے سابق سفیر محمد عاقل ندیم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو اس‘میگا فون’ سفارت کاری سے ناراض کرنے میں کسی قسم کی حکمت عملی نظر نہیں آئی ماسوائے اس کے کہ حکومت پاکستان نے جذبات میں آ کر یا کمزور مشورے کی بنیاد پر یہ بیان دے دیا۔ اگر اس کا مقصد سعودی عرب پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا تھا تو وہ بظاہر بری طرح ناکام ہوا۔ اس غیر ضروری عوامی بیان بازی نے نہ صرف پاکستان کو مالی طور پر نقصان پہنچایا بلکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے مستقبل کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان نے اسی طرح سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی حساسیت کا خیال رکھے بغیر کوالالمپور کی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اور پھر دباؤ میں آ کر اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان سفارتی اور خارجہ امور کے اہم معاملات پر تفصیلی غور و فکر اور مشورے کے بغیر فیصلے کررہا ہے اور یہی سبب ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خارجہ تعلقات کو سنگین بحرانوں میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں پاکستان کس قدر دوہرا میعار اپنائے ہوئے ہے۔ ایک طرف دنیا کے سامنے خود کو دہشت گردی کا شکار بتاکر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہاہے دوسری طرف درپردہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی اعانت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ بھی اسے بارہا بھگتنا پڑا ہے۔ تاہم اس نے اب تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔
دہشت گردی کے خلاف خاطر خواہ اقدامات نا کرنے کی وجہ سے سال 2020 میں وہ بڑی مشکل سے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچ پایا۔ لیکن بلیک لسٹ میں شامل ہونے کی تلوار اس کے سر پر اب بھی لٹک رہی ہے کیوں کہ اس بین الاقوامی ادارے نے اپنے تمام شرائط کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو اس سال صرف فروری تک کا وقت دیا ہے۔
نامناسب فیصلے اور غلط طریقہ کار اپنانے کی وجہ سے اقتصادی لحاظ سے بھی سال 2020پاکستان کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا۔ پاکستانی معیشت قرضوں کی مرہون منت رہی ہے۔ اور پچھلے دو سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 17 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ برس بھی اسے آئی ایم ایف کے علاوہ چین، ملائشیا، ورلڈ بینک اور امریکہ سمیت کئی ملکوں اور اداروں سے قرض لینے پڑے۔ جس سے اسے ملک کا انتظام و انصرام چلانے میں تھوڑی آسانی ہوگئی۔ گوکہ اس سے اسے عارضی راحت تو مل گئی لیکن اب مشکل یہ ہے کہ اس برس اسے یہ ہنگامی قرضے واپس بھی کرنے ہیں۔ اب خدا ہی جانے کہ نئے سال میں صورت حال کیا ہوگی۔
اپنے عوام کو گمراہ کرنا پاکستانی رہنماوں کی پرانی روایت رہی ہے۔ حقیقت کی پردہ پوشی اور گمراہ کن تصویروں کوپیش کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ اس نے سال 2020میں یہ کہہ کر اپنے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گیا ہے۔
لیکن ماہرین کے مطابق ان دعووں کی حقیقت یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس برآمدات بڑھنے سے نہیں بلکہ درآمدات کم کرنے سے ہوئی ہے۔پاکستانی ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ حکومت جو کچھ کہہ رہی ہے اس کی مثال ایسی ہے گویا اگر ایک شخص تین ٹائم کے کھانے کی بجائے دو ٹائم کھانا کھائے اور مہینے کے آخر میں یہ دعویٰ کرے کہ میں نے پانچ کلو آٹا بچا لیا ہے، یہ میری کامیابی ہے۔ تو آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ کامیابی ہے یا مفلسی کی علامت۔
پاکستان کے سابق سفارت کار محمدعاقل ندیم کہتے ہیں کہ یہ امید کی جا رہی تھی کہ حکومت پاکستان نے پچھلے 18 ماہ کی ناکامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھے ہوں گے لیکن اپنے غیرلچک دار اور غیرذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے حکومت نے سال 2020میں پاکستان کو شدید سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی بحرانوں سے دوچار کر دیا ہے۔اور صورت حال یہ ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت کی سمت نہ تو داخلی حالات اور نہ ہی بین الاقوامی تعلقات میں عوام کو کسی قسم کا اطمینان دلا پا رہی ہے۔اور پاکستانی خارجہ پالیسی پوری طرح ذہنی مفلوجی کا شکار نظر آتی ہے۔
Comments
Post a Comment