دہشت گردوں کی گرفتاری اور پاکستان کی نیت



لشکر طیبہ کے آپریشن کمانڈر اور 2008 کے ممبئی حملوں کے خاص ہدایت کار، ذکی الرحمان لکھوی کی عین ایسے وقت میں گرفتاری جب ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسیفک مشترکہ گروپ جنوری میں میٹنگ کر کے یہ سفارش کرنے والا تھا کہ پاکستان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جانا چاہئے ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے یہ قدم صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔ ورنہ دل سے اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اگر واقعی پاکستان ان ملزموں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا جو ممبئی حملوں میں ملوث تھے تو کم سے کم اس مقدمے کا کوئی فیصلہ اب تک ہو جاتا جو پاکستان میں ان کے خلاف چل رہا ہے۔ اسی مقدمے میں اب سے چار پانچ سال قبل لکھوی جیسے خطرناک مجرم کو ضمانت نہ ملتی۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں پاکستان نے کئی ایسی کارروائیاں کی ہیں جن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی سے لڑنا یا اسے ختم کرنا نہیں بلکہ عالمی برادری کو یہ تاثر دینا ہے کہ واقعی پاکستان سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ جب بھی کبھی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہونے والی ہوتی ہے جس میں پاکستان کا معاملہ زیر غور ہو تو پاکستان سے ایسی ہی پیش رفت کی خبریں ملتی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ ہو۔ حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری اور سزا سنائے جانے کا فیصلہ ہو یا قومی اسمبلی میں بعض متعلقہ قوانین بنائے جانے کا معاملہ ہو یا پھر مختلف مواقع پر دہشت گردوں کی نئی فہرستیں شائع کرنے کی بات ہو، ہر بار یہی حقیقت سامنے آئی کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے بارے میں اس کی کارکردگی کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے والا ہے تب ہی پاکستان میں ایسی کوئی کارروائی ہوئی جس کا مقصد عالمی ادارے کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ وہ سنجیدہ کارروائی کر رہا ہے۔ بہرحال ذکی الرحمان لکھوی کی ایسے ہی ایک مرحلے میں گرفتاری بھی یہی بات ظاہر کرتی ہے۔

فروری میں ایف اے ٹی ایف کا پلینری اجلاس ہونے والا ہے اور اس میں پاکستان کی گرے لسٹ کی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جانا ہے۔ یاد رہے کہ جون 2018 میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اسے ایک 27 نکاتی ایکشن پلان کا مسودہ دیا گیا تھا کہ وہ اس پر اکتوبر2019 تک پورے طور پر عمل کرے۔ اس کے بعد اسے تین چار بار مہلت بھی دی گئی کہ وہ ان تمام نکات پر پورے طور پر عمل کرے۔ پاکستان نے ان میں سے 21 نکات کو تو عملی جامہ پہنایا لیکن 6 تشنہ تکمیل رہے۔ اب فروری میں جو پلینری اجلاس ہونے والا ہے اس میں اس بات کا فیصلہ ہونے والا ہے کہ پاکستان کا کیا کیاجائے۔ تین باتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھا جائے گا جس میں کچھ مالی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا اس کی حیثیت کو مزید گھٹا دیا جائے اور اسے بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے۔ اس میں سخت مالی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان ناقابل بیان مالی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ تیسرا متبادل یہ ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکال دیا جائے۔

چونکہ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کے سرغنہ حافظ سعید اور اس کے کچھ ساتھیوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے اور وہ سب جیل میں ہیں اور اب ذکی الرحمانلکھوی بھی گرفتار ہو چکا ہے اس لئے پاکستان کو امید ہوگی کہ اس بنیاد پر اسے کافی رعایت مل سکتی ہے اور وہ گرے لسٹ سے باہر آ سکتا ہے۔ اس کا انحصار اب اس بات پر بھی ہوگا کہ ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسیفک گروپ اپنی سفارشات میں پاکستان کے تعلق سے کیا کہتا ہے۔

بہر حال فیصلہ جو بھی ہو۔ جہاں تک پاکستان کا دہشت گردی کے حوالے سے ریکارڈ یا رویہ رہا ہے اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ وہ کوئی سنجیدہ رویہ اختیار کرے گا۔ اگر اس بار اسے مہلت مل گئی اور وہ گرے لسٹ سے باہر آگیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد پھر وہی صورتحال پیدا ہو جائے۔ یعنی اب تک جن لوگوں کے خلاف کارروائیاں ہوئی ہیں وہ کچھ دنوں بعد جیلوں سے باہر آ جائیں۔ ہندوستان نے کئی بار یہ مشاہدہ کیا ہے کہ دکھاوے کی کارروائی کے طور پر کچھ قدم پاکستان نے اٹھائے لیکن کچھ ہی دنوں بعد لوگ ضمانت پر رہا کر دیےگئے یا مقدمے کی کارروائی میں جان بوجھ کر کچھ ایسے جھول پیدا کر دیےگئے کہ وہ عدالت سے بری ہو گئے۔ گزشتہ مہینے ہی القاعدہ کے ایک دہشت گرد احمد عمر شیخ کو پاکستان کی ایک عدالت نے بری کر دیا۔ یہ وہی عمر شیخ ہے جس نے2002 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث تھا۔ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ایجنسیوں اور عدالتی نظام کا دہشت گردوں کے تئیں کیا رویہ رہا ہے۔ حافظ سعید اور لکھوی کی بات کی جائے تو ان کی سزا یا گرفتاری بھی دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے نہیں بلکہ دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کے الزام میں ہوئی ہے۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے خلاف بھی دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کے الزام میں گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا ہے۔ یہ تمام حالیہ اقدام ایف اے ٹی ایف کی جانب سے سخت قدم کے فیصلے سے بچنے کے لئے ہی کئےگئے ہیں۔ ان تمام باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی کتنی بڑی پناہ گاہ بن گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ