پاکستان نے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھ


نائن الیون کے واقعہ کےبعد افغانستان سے بڑی تعداد میں لوگ سرحد پار کرکے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپ گئے تھے۔ پاکستان نے ان علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جو فوجی آپریشن شروع کیا تو اس میں اصل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی بلکہ عام اور معصوم پشتون شہریوں کو پریشان کیا جانے لگا۔ پورے پاکستان میں یہ تاثر دیا گیا کہ پشتون دہشت گرد ہوتے ہیں۔ یہی کام بنگالیوں کے لئے مسٹر بھٹو نے کیا تھا۔ پاکستان میں پشتون آبادی کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ پشتون علاقوں سے دہشت گردی اور انتہاپسندی تو ختم نہیں ہو سکی لیکن حکومت پاکستان نے معصوم پشتونوں کو ہراساں اور پریشان کرنا شروع کردیا ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے نام پر فوج اصل دہشت گردوں کو بچارہی ہے اور ان لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے جن کا دہشت گردی سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔ انہیں اذیتیں دی جاتی ہیں اور انہیں ہلاک بھی کیا جاتا ہے۔ میڈیا کو بھی مجبور کیاگیا ہے کہ وہ پشتون تحریک کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ نہ کریں۔ زیادتی کا یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو ٹکراؤ کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ 1971 جیسی صورتحال پیدا ہوجائے۔ حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اب بھی وہ اس راستے پر قائم ہے ، جس راستے پر چلتے ہوئے پاکستان دو لخت ہو گیا تھا۔

سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کی غلطیوں سے قطعی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بے باک خیالات رکھنے والے بہت سے صحافی ابھی بھی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آرمی کریک ڈاؤن میں لاکھوں بنگالیوں کو فنا کے گھاٹ اتارنے اور آدھا پاکستان گنوا دینے کے بعد بھی حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ قوم کو متحد رکھنے کے لئے کیسے اور کیا قدم اٹھائے جانے چاہئیں۔پاکستان میں امن پسند تحریکوں کو بھی کچلنے کی کوشش لگاتار ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ایک ایسا ماحول قائم کردیا ہے جس میں کسی بھی علاقے یا نسلی گروپ کے لوگ اپنے جائز حقوق کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں پاکستان کا دشمن یا دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر ان کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے، اس پر یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اپنے جائز اور آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کی گرفتاری اور ایذا رسانی کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں۔ ادھر کئی دہائیوں سے فوج کی تنقید کرنے والوں کی گمشدگی کے واقعات بھی معمولات میں شامل ہوگئے ہیں۔ 60 اور 70 کی دہائی میں اس وقت کے پاکستان کے سب سے بڑے نسلی گروپ بنگالیوں نے مسلسل احساس محرومی، جبر اور سیاسی اور معاشی سطح پر ہونے والے استحصال کے نتیجہ میں پاکستان سے آزاد ہونے کی تحریک چلائی اور بالآخر1971 میں پاکستان دو لخت ہوگیا اور مشرقی پاکستان ایک الگ ملک بنگلہ دیش کے نام سے وجود میں آیا۔

1971 سے قبل،دسمبر 1970 میں ، ملک نے اپنے پہلے ‘آزاد اور منصفانہ’ عام انتخابات میں حصّہ لیا۔ یہ طے ہوا تھا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار سونپ دیا جائے گا۔ اس دور کو یاد کیجئے تو شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ پارٹی نے مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے 138 میں سے 81 نشستیں حاصل کیں۔ عوامی لیگ کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ متحدہ پاکستان میں قومی حکومت تشکیل دینے کے لئے سامنے آئے ۔ مگر مسٹر بھٹو نے اعتراض کیا۔ بھٹو بنگالیوں کو سخت نا پسند کرتے تھے اور انھیں حکومت سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے انتخابات کے انعقاد اور نہ ہی نتائج پر کوئی سوال اٹھایامگر عوامی لیگ کی کامیابی کو ہضم نہیں کر پائے۔ بھٹو کے حمایتی بھی شیخ مجیب الرحمن کی قیادت کے خلاف تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بڑی تحریک سقوط ڈھاکہ کی شکل میں سامنے آئی۔

پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے ، جہاں 1971 میں کھڑا تھا۔ سندھ اور بلوچستان میں بغاوتیں آہستہ آہستہ رنگ لا رہی ہیں لیکن حکومت پاکستان کا آمرانہ رویہ یہ ہے کہ ہر بغاوت یا تحریک کو کچل دیا جائے۔ 1970 کی دہائی میں شیخ مجیب حراست میں تھے۔ اب یہ سزا حزب اختلاف کے امیدواروں کو مل رہی ہے اور ان صحافیوں کو جو حکومت پاکستان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اس دفعہ 1971 سے بھی بھیانک صورت حال ہے۔ اندرونی طور پر ، پاکستان خانہ جنگی اور وبائی امراض کا شکار ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے کی نااہلی کے نتائج اس لئے بھی بھیانک ہوں گے کیونکہ حکومت مسلسل انتقام کے راستے پر چل رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ