پاکستان اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتا!
کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کا داخلی اتحاد ہوتا ہے۔جس کا دارو مدار سیاسی،سماجی اور معاشی مساوات اور نسلی و لسانی غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ اگر ملک میں حکومت اور نظام انصاف پرور ہوتا ہے تو ملک کے لیے ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں ورنہ انتشار اور خانہ جنگی کے لیے خود بخود دروازے کھل جاتے ہیں۔ایسے ملک پھر اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لئے دوسروں پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں۔
حال ہی میں پاک فوج کے تر جما ن جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اور انھوں نے اقلیتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔یہ بیان حکومت کی ناکامی کیلئے فوجی پردہ پوشی بھی ہے اور الزام تراشی کا ایک اور نمونہ بھی۔
در اصل جن وجوہات کی بنا پر پاکستان میں علاحدگی پسندی کی تحریکیں پروان چڑھیں، پاکستان ان پر غور کرنے کو تیار نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کو متحد رکھنے میں ناکامی کا ذمہ دا ر خود پاکستان ہے کوئی اور ملک یا طاقت نہیں۔پاکستان کی جانبدارانہ پالیسیاں ہیں، پاکستان کی نسلی سیاست ہے اور سب سے اہم پاکستان کی فوج اور سرکاری ایجنسیاں ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے صوبوں پر اسلامی رنگ تھوپنے کیلئے لسانی اور نسلی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اس کیلئے ان صوبوں میں آبادی کے نسلی و لسانی تناسب کوبگاڑ دیا گیا اور مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دی گئی۔ لسانی شناخت کی جگہ ایک مشترکہ مذہبی شناخت کو تھوپنے کی کوشش بھی کی گئی۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے باوجود ہورہا ہے۔جہاں پاکستان نے بنگلہ بولنے والوں کی پہچان مٹانے کو کوشش کی تو بنگلہ دیش کی شکل میں نتیجہ سامنے آیا۔ اس سے سبق لینے میں ناکام پاکستان نے اب یہی پالیسی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں اپنا رکھی ہے۔نسلی اور لسانی پہچان مٹانے کیلئے ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔
بات اگر بلوچستان کی کریں توبلوچستان، کئی اعتبار سے پاکستان کا نہایت منفرد صوبہ ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو پاکستان کے 40 فی صد رقبہ پر مشتمل ہے۔مگرآبادی اس کی سب سے کم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بلوچستان، قدرتی گیس، کوئلہ، سونے، تانبے اور دوسری معدنیاتی دولت سے مالامال ہے لیکن بلوچی دوسرے تمام صوبوں کے لوگوں کے مقابلہ میں بے حد غریب اور پسماندہ ہیں۔اس کا ذمہ دار خود پاکستان ہے،جہاں کسی بھی حکومت نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔اس نسلی اور لسانی امتیاز نے انہیں ہر دن پاکستان سے دور کیا ہے۔
یاد رہے کہ 1971میں پاکستان نے بلوچوں کو اپنے ہی صوبے میں کمزور کرنے کی خاطر پشتون علاقوں کو بلوچستان سے جوڑا گیا۔ان کی آبادی کا توازن بدلنے کی کوشش کی۔پاکستانی فوج نے ہر دور میں بےانتہا مظالم ڈھائے ہیں۔ بلوچستان میں لوگوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،تعلیم یافتہ نوجوانوں کے علاحدگی پسند تنظیموں کی طرف راغب ہونے کے پیچھے جبری گمشدگیاں بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
بلوچستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں زبردست مظالم ڈھائے گئے تھے، سیاسی اور معاشی خود مختاری کیلئے مذاکرات پر راضی نہ ہونے پر فوج نے بلوچ لیڈرنواب اکبر خان بگتی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، اس کے بعد اس ناراضگی نے مزید پر تشدد رنگ لے لیا۔افسوس کی بات یہی ہے کہ ایک سیاسی مسئلہ کو پاکستان نے فوجی طاقت کے بل پر حل کرنے کی کوشش کی۔بلوچستان کو بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا،نئے فوجی اڈے بنائے گئے اور عوام کی بنیادی ضرورتوں اور سہولیات کو ترجیح نہیں دی گئی جس کا انجام آج سامنے ہے۔لیکن اب بھی اس میں پاکستان کو کسی اور کا ہاتھ ہی نظر آرہا ہے۔
یہی کہانی صوبہ سرحد یا اب خیبر پختونخواہ کی ہے۔پشتون در اصل پنجابی کے بعد پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا نسلی گروپ ہے جو آبادی میں 15فیصد کا تناسب رکھتا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے۔ پشتون اقلیت نے نہ صرف سات دہائیوں سے زیادہ جنگ اور تنازع کا سامنا کیا ہے، بلکہ پشتون اکثریت علاقوں میں فوجی آپریشن ہوئے جن میں لاتعداد افراد مارے گئے تو فوج اور ایجنسیوں کی پشت پناہی رکھنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خودکش دھماکوں اور حملوں میں ہزاروں معصوم افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے۔
پاکستانی حکومتوں کے سلوک کے سبب ہی بڑے ترقیاتی پروجیکٹ بشمول ‘سی پیک’ بھی ناکامی کے دہانے پر ہیں،کیونکہ ایسے پروجیکٹوں میں مقامی عوام کی حصہ داری ہے اور نہ ہی ان کے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں سی پیک کی مخالفت ہوئی۔ مقامی لوگوں میں ڈر یہ پیدا ہوگیا ہے کہ معاشی مقاصد کے تحت بلوچستان کا رخ کرنے والے لوگ نسلی گروپ کا تناسب بگاڑ دیں گے۔ ایسے خدشات کے سبب بے چینی مزید بڑھ رہی ہے۔انہیں پاکستانی فوج اور دیگر ایجنسیوں پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔
علاحدگی پسند گروپ اب متحد ہوکر پاکستانی حکومت سے لڑ رہے ہیں۔ ان گروپوں اور فوج کے درمیان ٹکراؤ میں مرنے والوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں پہنچ چکی ہے۔پاکستانی فوج انہیں جتنا دبانے کی کوشش کررہی ہے، ان کی مزاحمت اتنی ہی شدت اختیار کررہی ہے۔ یہ سب حکومت پر اعتماد نہ ہونے اور فوج کے بے جا دخل کا انجام ہے۔ اگر جمہوری نظام باقاعدہ کام کررہا ہوتا تو یہ نوبت نہیں آتی۔پاکستان کو کسی اور پر الزام عائد کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آج فوج اور کمزور جمہوریت نے پاکستان کو اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر جانب علاحدگی پسندی کی لہر نظر آرہی ہے،جس کا ذمہ دار پاکستان کا غیر منصفانہ نظام اور سیاست ہے نہ کہ ہمسایہ ممالک۔
Comments
Post a Comment