پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی
سال 2020 ختم ہوا اوردنیا پر ایک نیا سال سایہ فگن ہو گیا ہے۔ گزرا ہوا سال پوری دنیا کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک رہا۔ کورونا کی عالمی وبا نے لاکھوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنا دیا۔لاکھوں افراد اب بھی اس کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔اس وبا نے جہاں انسانوں کے لیے کئی سبق چھوڑے ہیں، وہیں ایک بہت بڑا سبق یہ ہے کہ انسانی جان تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی اور افضل ہے، اسے بچانا ہر شخص کی ذمہ داری ہے اور یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت بھی ہے۔ انسانی جانوں کے اتلاف سے بڑا کوئی اور خسارہ نہیں۔لہٰذا اس خسارے کو کم کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کی جانی چاہیے۔ نئے سال میں دنیا نئی امنگوں، نئے حوصلوں اور نئے ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ وہ اب پیچھےمڑ کر دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ کائنات کی سب سے قیمتی شے یعنی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ لیکن اسی دنیا میں ایسے ملک یا ایسی طاقتیں بھی موجود ہیں جو انسانی جانوں کے احترام کے جذبے سے خالی ہیں اور ان کے نزدیک اگر اپنے مقصد کے حصول کے لیے لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں،انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھیں اپنا مفاد عزیز ہے انسانی جان نہیں۔ ایسے ہی ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئے سال پر اس کی جانب سے انسانی جانوں کے احترام کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا لیکن وہ اب بھی اپنی پرانی روش پر گامزن ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کنٹرول کی حقیقی لائن یعنی ایل او سی پر اس کی افواج کی جانب سے گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ نئے سال میں بھی سرحد پر بسنےوالے لوگوں کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ انھیں سکون و اطمینان کا ایک لمحہ بھی میسرنہیں ہے۔ گزرے ہوئے سال کے آخری لمحات میں بھی پاکستانی افواج نے سرحد پر مورٹار داغےاور گولہ باری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ کپواڑہ کے تنگ دھار سیکٹر میں سرحدی مواضعات میں مسجدوں اور رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بلا اشتعال فائرنگ کی اور سیز فائرکی ایک بار پھر خلاف ورزی کی۔ راجوری کے نوشیرہ سیکٹر میں اگلی چوکیوں پر بھاری گولہ باری کی گئی۔ ہندوستانی افواج کی جانب سے اس کا سختی سے جواب دیا گیا۔ سیکورٹی فورسزکے مطابق سال کے آخری دنوں میں کی جانے والی شیلنگ اور فائرنگ سال 2020 کی سب سے بھاری کارروائی تھی جس کی وجہ سے 2003 میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی بےمعنی ہو کر رہ گئی۔ اگر ہم دیکھیں تو پورے سال پاکستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی جاتی رہی۔ فوجی ذرائع کا یہاں تک کہنا ہے کہ گزرے ہوئے سال میں پاکستان کی جانب سے سیز فائر کے 5100 واقعات پیش آئے جو کہ اٹھارہ برسوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ان واقعات کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں سیکورٹی فورسز کے 24 جوان بھی شامل ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق سیز فائر کی خلاف ورزی کے تین چار سو واقعات تو حالیہ چند ماہ کے اندر ہی پیش آئے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی جانب سےسرحد پر ایسی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو پاکستانی وزارت خارجہ میں طلب کرکے ہندوستان پر سیز فائرکی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔سیز فائر کی خلاف ورزی کے واقعات کے علاوہ پاکستان کی جانب سے دراندازوں کو ہندوستان کے اندر داخل کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ دراندازوں کو سرحد کے اندر داخل کرنےمیں معاونت کی غرض سے ہی سرحد پر فائرنگ اور گولہ باری کی جاتی ہے تاکہ درانداز سرحدعبور کرکے ہندوستان میں آجائیں۔ نومبر ماہ میں سامبا سیکٹر میں ڈیڑھ سو فٹ طویل ایک سرنگ کا پتہ چلا تھا۔ ہندوستان کی سرحدی حفاظتی فورس بی ایس ایف نے اس کا انکشاف کیاتھا اور بتایا تھا کہ ممکن ہے کہ ان دنوں میں پاکستانی دہشت گرد اسی سرنگ کے ذریعےجموں و کشمیر میں داخل ہوئے ہوں۔ حالانکہ اس دوران کئی دہشت گرد مارے گئے تھے لیکن سرنگ کا پایا جانا اپنے آپ میں انتہائی تشویش کی بات تھی۔ ظاہر ہے کہ دہشت گرد اتنا بڑا کام پاکستانی فوج کی مدد کے بغیر تو نہیں کر پائے ہوں گے۔ پاکستانی افواج کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد کے باشندوں کی زندگی ہمیشہ داؤ پر لگی رہتی ہے۔ ایک طرف پاکستان خود کو کشمیری مسلمانوں کا ہمدرد بتاتا ہے، ان کے لیے کچھ بھی کرنے کے دعوےکرتا ہے اور کشمیر کو اپنی شہ رگ بتاتا ہے اور دوسری طرف انہی کشمیری مسلمانوں کوگولہ بارود اور مورٹار اور بم کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ اگر پاکستان واقعی کشمیری عوام کا خیر خواہ اور ان کا ہمدرد ہے تو وہ انھیں ہلاک اور زخمی کرنے کی مہم کیوں چلائےہوئے ہے۔ پاکستان اپنی اسی دوہری پالیسی کی وجہ سے پوری دنیا میں بدنام ہے۔ ایک طرف وہ خود کو دہشت گردی کا مخالف بتاتا ہے اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے آپریشن چلانےکے دعوے کرتا ہے اور دوسری طرف جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو بھیج کر کشمیری مسلمانوں کو ہلاک بھی کرواتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرے اور نئےسال میں احترام آدمیت کا عہد کرے اور ایل او سی پر گولہ باری کرکے معصوموں کی جان لینےسے بچے۔ کیا وہ اس کے لیے تیار ہے؟
Comments
Post a Comment