عمران خان کی رعونت اور ہزارہ فرقے کی بے بسی
آمریت کے سائے میں پنپنے والی جمہوریت کی وہی شکل و شباہت ہوتی ہے جو ہمیں برسوں سے پاکستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چاہے وہ فوجی حکمرانوں کی جمہوری قدریں رہی ہوں یا پھر جمہوریت کی پاسداری کے نام پر سیاست کی کمان سنبھالنے والے سیاسی قائدین کے جمہوریت والے نعرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کم و بیش ہر دور اُسی آمریت کی تیزی و تندی کا شکار رہا جس کی نہایت خوفناک شکل اِس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے اور اِس کی اصل وجہ وہ مذہبی منافرت ہے جس نے شروع سے پاکستانی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رہا ہو یا مسلکی گروہوں کے ساتھ تعصبانہ تصویر ہمیشہ افسوسناک اور ہیبت ناک ہی نظر آئی ہے۔ حالیہ دونوں میں دو بڑے واقعات ایسے سامنے آئے ہیں جنہوں نے اِس پاکستانی معاشرے کے تضادات کو اور بھی کریہہ بناکر رکھ دیا ہے اور اِن دونوں واقعات میں عوامی فکری انتشار اور انتظامیہ کے ذہنی تضادات کی ایک حیرت انگیز تصویر سامنے آتی ہے۔
ابھی کچھ دنوں پہلے خیبر پختونخوا کے کرک ضلع کے ٹیری گاؤں میں واقع شری پریم ہنس جی مہاراج کی سمادھی اور اس سے متصّل کرشن دوارہ مندر کو انتظامیہ کے اہلکاروں کی موجودگی میں ہزاروں لوگوں نے نذرِآتش کرکے تباہ و برباد کردیا اور ابھی اِس پر پاکستانی حکومت، عالمی برادری کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے میں لگی ہی ہوئی تھی کہ صوبہ بلوچستان کے مچھ کے ایک کوئلہ فیلڈمیں کام کرنے والے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11کان کنوں کو نہایت سفاکی سے قتل کرنے کی واردات سامنے آئی۔ مسلح افراد نے کان کنوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کے بعد ان کے ہاتھ بھی باندھے اور پھر نہایت بے رحمی سے گولیوں سے بھون ڈالا۔ہلاک ہونے والے کان کنوں کا تعلق شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے سے ہے اور یہ وہ قبیلہ ہے جسے حالیہ برسوں میں مستقل مسلکی سفاکی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق گزشتہ حالیہ برسوں میں2000سے زائد ہزارہ شیعہ برادری کے لوگ مارے جاچکے ہیں۔ اِس مرتبہ اِس قتل و غارت گری کی ذمہ داری اسلامی اسٹیٹ نے قبول کی ہے جبکہ اِس سے پہلے ایسے ہلاکت خیز معاملات کو سپاہِ صحابہ اور لشکرِجھنگوی جیسے دہشت گرد گروہ اپنی کامیابی کی قلغی کی زینت بناکر پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن کوئی بھی حکومت رہی ہو، اُس نے ہزارہ برادری کی اِس ہلاکت خیزی پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی اور شاید اِس کی وجہ وہی مذہبی و مسلکی منافرت رہی ہو جس نے پاکستانی معاشرے کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔
لیکن پاکستان کو مدینہ ویلفیئر اسٹیٹ بنانے اور ہر قسم کی منافرت اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کے نعرے کے ساتھ مسندِ اقتدار سنبھالنے والے عمران خان نے بلوچستان کے اِس ہولناک، متعصبانہ اور دلدوز واقعے کے سلسلے میں جو رویہ اپنایا، وہ تو آمریت کی بدترین شکل دکھائی دیتی ہے۔ ہلاک ہونے والے11کان کنوں کی لاشیں ایک ہفتے تک اُن کے لواحقین سڑک پر رکھ کر وزیراعظم سے گزارش کرتے رہے کہ وزیراعظم تعزیت کے لیے آئیں اور مجرمین کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا وعدہ کریں۔ لیکن وزیراعظم نے نہ صرف پانچ دنوں تک خاموشی اختیار کررکھی بلکہ جب پانچ دنوں بعد زبان کھولی تو نہایت آمرانہ انداز میں اعلان کیا کہ جب تک ہلاک ہونے والوں کی لاشیں دفنائی نہیں جاتیں اور راستے کھولے نہیں جاتے، اُس وقت تک نہ میں اُس مقام پر آؤں گا اور نہ ہی کسی مطالبے کو سنوں گا۔ بلیک میل کرنے کی میں کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔ دنیا سمجھنے سے قاصر ہے کہ مہلوکین کے ورثاء وزیراعظم کو کس طرح سے بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ملک کے دوسرے مقامات پر جب شیعہ حضرات نے اِس مسلکی قتل کے خلاف احتجاجات کئے تو اُن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ شاید دنیا کے کسی ملک کے یہ پہلے وزیراعظم ہوں گے جو اپنے ہی ملک کے دہشت گردوں کے ہاتھوں نہایت سفاکی سے مارے جانے والے اپنے ہی شہریوں کے لواحقین سے نہایت غصّے کی حالت میں تعزیت کرنے کے لیے آنے کے لیے بھی رکھیں اور دھمکی بھی دی کہ انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ہر چند کہ تدفین کے بعد وہ کوئٹہ گئے لیکن اس بے حسی نے انھیں عوام کی نظروں سے گرا دیا۔
یہ کوئی اُن کے مخالفین یا دشمن لوگ نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جن میں کسی بوڑھے نے اپنا بیٹا، کسی عورت نے اپنا بھائی اور بے پناہی کی حالت میں لرزتی ہوئی کسی لڑکی نے اپنا باپ کھویا ہے۔اگر ان کو اِسی طرح مظلوم بنائے رکھنا ہی حکومت اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کی منشا ہے تو پھر پاکستانی معاشرے کو اپنے مستقبل کی طرف سے خوف زدہ رہنا چاہیے۔ کیونکہ نہ جانے کب کس کی باری آجائے۔
Comments
Post a Comment