چین کے ناپاک عزائم



اس میں کوئی شک نہیں کہ لداخ میں سرحد پر جاری کشیدگی چین کے ناپاک عزائم کا نتیجہ ہے۔ یہ بات بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں چین نے سرحد پر ایسی کارروائیاں کی ہیں، جن سے دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپ تک کی نوبت آئی اور جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ سرحد پر تا حال چین کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری ہیں۔ وہیں دوسری جانب ہندوستان شروع سے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر اشتعال انگیزی جاری رہی تو پھر ہندوستان بھی ملک کی سالمیت اور خود مختاری سے سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ویسے چین نے ہندوستان کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرکے اپنے پیروں پر ہی کلہاڑی ماری ہے۔ کسی ممکنہ ٹکراؤ کے نتیجے میں تو اسے انجام بھگتناہی ہوگا، اس سے پہلے ہی اقتصادی محاذ پر ہندوستان نے چین کو معقول جواب دیا ہے۔ کشیدگی سے پہلے چین ہندوستان کے سب سے بڑے کاروباری دوست ممالک میں شامل تھا۔گلوان واقعہ کے بعد ہندوستان نے مواصلات کے شعبہ میں چین کو بہت بڑی اقتصادی چوٹ پہنچائی ہے۔ ہندوستان ہی نہیں، دنیا کے کئی دوسرے ملک بھی چین کی چال بازیوں کو دیکھ رہے ہیں ، جس کے سبب اس سے دوری بنا لی ہے۔ امریکہ بھی اس معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستان میں امریکہ کے رخصت پذیر سفیر کینیتھ جسٹر نے اپنی الوداعی تقریر میں اس کا ذکر کیا اور کہا کہ ہندوستان نے پچھلے عرصہ میں مسلسل چین کے ممکنہ خطرے کا سامنا کیا ہے۔

حال ہی میں ہندوستانی وزارت دفاع نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چین نے لداخ میں موجودہ پوزیشن کو تبدیل کرنے کے مقصد سے غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال کیا ، اشتعال انگیز کارروائی کی، اس کے بعد ہی وہاں کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ، جس سے ہندوستان کو وہاں ٹینک اور دیگر ہتھیاروں کی تعیناتی پر مجبور ہونا پڑا۔ ہندوستانی فوج نے چین کے ان اقدامات کا معقول جواب دیا اور چین کو بتایا کہ مشرقی لداخ پر ہندوستان کا دعویٰ ناقابل تبدیل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان چین کو کشیدگی بڑھانے کے لئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وزارت دفاع نے کہا کہ چین کی فوج ‘پیپلز آرمی’ نے غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال کرکے اور بڑی تعداد میں اپنے فوجیوں کوتعینات کرکے کشیدگی میں اضافہ کیا ۔وزارت دفاع نے 15 جون 2020 کے گلوان واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے 20 فوجیوں نے اس تنازعہ میں قربانی دی، لیکن پی ایل اے کے فوجیوں کو اپنی سرزمین پر قدم نہیں رکھنے دیا۔ اس جنگ میں چین کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔غور طلب ہے کہ اس وقت بھی لداخ میں ہندوستان کے تقریباً 50 ہزار فوجی تعینات ہیں، جبکہ اس وقت وہاں کا درجۂ حرارت منفی 30 سے 40 ڈگری تک ہے۔ فوجیوں کی نقل و حرکت میں آسانی کے لئے فوج نے سڑکیں ، رہائش ، پناہ گاہیں ، پل تعمیر کیے ہیں ، تاکہ فوج کی تعیناتی اور ان کے قیام میں آسانی ہو۔ وزارت دفاع نے کہا کہ لداخ میں فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔

ہندوستان اور چین کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ سے مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی چل رہی ہے،جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کافی تلخی پیدا ہوگئی ہے۔ اگر چہ اس درمیان تنازعات کے حل کے لئے دونوں فریقوں نے مسلسل سفارتی اور فوجی مذاکرات کیے ہیں ، لیکن پھر بھی تعطل ختم نہیں ہوا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چین ایک طرف جہاں ہندوستان کے ساتھ گفتگو جاری رکھے ہوئے ہے، وہیں دوسری جانب سرحد پر اس کی مسلسل اشتعال انگیزی بھی جاری ہے۔وہ اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ ہندوستان نے اب تک چین کی ہر حرکت کو ناکام کیا ہے، تو اب وہ ایک بار پھر ‘کھسیانی بلی کھمبا نوچے’ کے مصداق ایل اے سی پرٹینکوں کی تعیناتی کر رہا ہے۔ایسی اطلاعات ہیں کہ چین نے ایل اے سی پر مشرقی لداخ میں ہندوستانی چوکیوں کے سامنے اپنے ٹینک تعینات کر دئے ہیں۔ یعنی ایل اے سی پر ہندوستانی ٹی۔90 اور چینی ٹی-15ٹینک 200 میٹر کے فاصلے پر آمنے سامنے موجود ہیں۔ چین نے ہندوستانی چوکیوں کے سامنے جو ٹینک تعینات کئے ہیں، وہ ہلکے ٹینک ہیں۔ اس سے پہلے اسی علاقہ میں رڈار، زمین سے ہوا میں اور زمین سے زمین پر نشانہ لگانے والی میزائلیں اور دیگر ہتھیار دسمبر میں ہی تعینات کر دئے تھے۔ اس کی تصدیق ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ آر کے ایس بھدوریا نے دسمبر میں کی تھی اور چین کو متنبہ کیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اگر سیدھا ٹکراؤ ہوتا ہے تو چین کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔کیونکہ چین کی مسلسل اشتعال انگیزی کے سبب ہندوستان نے بھی سرحد پر کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئےمکمل تیاری کر لی ہے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ گفتگو اور اشتعال انگیزی ایک ساتھ چلتی رہے۔چین اگر واقعی مسئلہ کے حل اور کشیدگی کے خاتمہ کے لئے سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے اسے سرحد پر اپنی افواج کو تحمل برتنے اور کسی جارحانہ کارروائی سے بچنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ