پاکستان میں ہزارہ قوم پھر تشدد کی زد میں
پاکستان میں مسلکی اختلافات نے ایک عرصے سے خون خرابہ مچا رکھا ہے ۔ 2021 کی شروعات ہی اسی مسلکی خون خرابے سے ہو ئی۔ اتوار 3 جنوری کو کوئٹہ کے قریب مچھ میں گیارہ ہزارہ شیعہ دن دہاڑے قتل کر دیے گئے۔ یہ کان کن مزدور تھے ۔ کام پر جا رہے تھے۔ کہ بندوق بردار انتہا پسندوں نے پندرہ ہزارہ شیعوں کو مزدوروں کے درمیان سے چن کر الگ کیا گیا اور پھر زمین انسانی خون سے لال ہوگئی۔ چھ نے وہیں دم توڑ دیا۔ پانچ اسپتال پہنچتے پہنچتے۔ سوال یہ کہ یہ مارنے والے کون تھے۔ داعش نے مجرمانہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مارا۔ انہوں نے نہیں تو طالبان نے مارا ہو گا، طالبان نے نہیں تو لشکر جھنگوی کے انتہا پسندوں نے یہ خوفناک کھیل انجام دیا ہو گا۔ بلوچستان میں سکونت پذیر لاکھوں ہزارہ برادری کے لوگ ان تینوں ہی انتہا پسند جماعتوں کے خوف میں ہمہ وقت جیتے ہیں بلکہ مرتے ہیں۔ مچھ کا سانحہ ہو گیا تو پھرحکومت بھی اپنا فرض ادا کرنے کے لئے سامنے آ گئی جیسا اس سے پہلے بے شمار بار ہو چکا ۔ پاکستان میں ہر بار جب شیعوں کو مارا جاتا ہے ، احمدیوں کو قتل کیا جاتا ہے، ہندوؤں اور عیسائییوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔حکومت ظاہری طور پر مذمتی بیان جاری کرتی ہے اور مجرموں کو پکڑ نے اور ان کے خلاف کارروائی کا وعدہ کرتی ہے اور اپنی سہولت کے مطابق بھول بھی جاتی ہے،تاکہ پھر کوئی ویسا یا اس سے بھی زیادہ سنگین واقعہ نہیں پیش آ جاتا۔ اس بار بھی ظاہر ہے کہ یہی سب ہونا تھا اور ہوا۔وزیر اعظم عمران خان نے مچھ سانحے کو بزدلانہ، غیر انسانی اور دہشت گردی قرار دیا اورنیم فوجی دستوں کو کہہ دیا کہ قاتلوں کو پکڑ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان بھی ایسا ہی ایک بیان دے کر فارغ ہو گئے۔ بس اللہ اللہ خیر صلا۔ جیسے انہیں معلوم نہیں کہ ا س کے پیچھے کون ہے۔سوتے کو جگایا جا سکتا ہے جوسوتا بنتا ہو اسے کون جگا سکتا ہے۔ ورنہ سیاسی ماہرین اور مبصرین کو تو چھوڑیے خود پاکستان کا ہر فرد و بشر جانتا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج کی گمراہ کن پالیسیوں کے نتیجے میں اور ان کے سایے میں انتہا پسند تنظیمیں پنپ رہی ہیں جنہوں نے پورے پاکستان میں تباہی مچا رکھی ہیں۔شیعہ، سنی، ہزارہ، بریلوی ، دیوبندی سب کی انتہا پسند تنظیمیں ہیں اور ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مسلکی تصادمات کے امور کے ایک تجزیہ کار نے مچھ سانحہ کے بعد یہ بالکل درست کہا کہ یہ سمجھنا بھاری غلطی ہو گی کہ اب فوج مذہبی انتہا پسندوں کی پشت پناہی بند کر دے گی۔ کیونکہ فوج تو یہ سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں بلوچ قومیت کی جو تحریک چل رہی ہے اس کو کچلنے کے لئے مذہبی انتہا پسندی کو شہ دینا ضروری ہے۔ بلوچ عوام اپنے سیاسی حقوق اور معاشی بہتری کے لئے جو تحریک چلا رہے ہیں ،ان سے نمٹنے کے لئے فوج کو سب سے کار گر نسخہ یہی ہاتھ آیا ہے کہ وہ داعش انتہا پسندوں کو بلوچستان میں منظم ہونے کا موقع دے رہے ہیں تاکہ بلوچ قومی تحریک کو مذہبی اور مسلکی تشدد کا نام دے کر درکنار کیا جا سکے۔ فو ج کے ذریعہ رچائے گئے اس خونیں کھیل میں ہزارہ شیعہ قوم سب سے کمزور اور سب سے آسان نشانہ ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ برسوں سے کوئٹہ کے ہزارہ لوگ اپنے ہی شہر کے قیدی ہیں ۔ وہ مسلکی تشدد کے خوف سے اپنے علاقوں سے بمشکل ہی باہر نکلتے ہیں کہ جانے کہاں ان کا اغوا ہو جائے، جانے کون انہیں مار ہی دے۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم۔ ان کے کام دھندے ٹھپ اور حکومت سب کچھ جاننے کے باوجود صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا لیتی ہے وہ بھی تب جب مچھ جیسا کوئی سانحہ پیش آتا ہے اور ساری دنیا میں تشدد اور تباہی کی مذمت ہوتی ہے۔ جب ہر طرف سے انسانی جانوں کی بہیمانہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اب سے چھ سات سال پہلے پاکستان کی قومی انسانی حقوق کمیشن نے "ہزارہ قوم کے مصائب کو سمجھنے کی کوشش " نامی ایک رپورٹ تیار کی تھی جس کے ابتدائیہ میں ہی کمیشن کے چئیرمین جسٹس (ریٹائرڈ) علی نواز چوہان نے لکھا تھا کہ پاکستان میں شیعہ سنی تصادم کا جو سلسلہ دو دہائی سے چل رہا ہے، اس میں سب سے زیادہ نقصان ہزارہ شیعوں کو ہوا ہے۔ مذہبی رہنماوں کے اشتعال انگیز بیانات کے نتیجہ میں ہزارہ قوم بالکل حاشیہ پر چلی گئی ہے۔ تعلیم، معیشت، صحت ہر شعبے میں پسماندہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے حکومت اور سماج دونوں کو یاد دلایا تھا کہ ہزارہ اقلیتوں کے تئیں ان کی کیا ذمہ داری ہے ۔کمیشن نے بھی اپنی طرف سے ہزارہ قوم کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کا عزم کیا تھا، لیکن دیکھئے تو ہوا کیا۔حکومتیں بدلتی رہیں ،لیکن ہزارہ شیعوں کی ابتری میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ ہر دن ان پر پچھلے سے زیادہ گراں گزر رہا ہے ۔
Comments
Post a Comment