شبہات اور پیچیدگیوں سے پر بین افغان امن مذاکرات
حکومت افغانستان اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ تو 12 ستمبر کو ہی دوحہ میں شروع ہوا تھا لیکن فی الحال یہ الجھا ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ۵ جنوری کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ افغان صدر اشرف غنی چاہتے تھے کہ بات چیت کا دوسرا دور افغانستان میں ہی منعقد ہو لیکن طالبان اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ بہرحال افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مصالحت کا یہی فیصلہ ہے کہ5 جنوری کے بعد دوحہ میں ہی دونوں فریقین کے مابین بات چیت شروع ہوگی۔ افغانستان سے جو خبریں مل رہی ہیں ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات کا کسی مثبت نتیجے تک پہنچنا بہت دشوار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ طالبان اپنی شرطوں پر سمجھوتا چاہتے ہیں۔ چند دنوں قبل طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا غنی برادر کی قیادت میں طالبان کا ایک وفد پاکستان گیا تھا اور وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق طالبان کا وفد حکومت پاکستان کے بلاوے پر وہاں گیا تھا اس کے چند ہی روز بعد ایک ویڈیو سامنے آیا جس میں ملا برادر یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ طالبان کی پوری قیادت پاکستان میں مقیم ہے اور یہ کہ پاکستان کے مشورے کے بغیر طالبان کے لوگ کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ ویسے تو یہ بات پوری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان اور طالبان کے رشتوں کی کیا نوعیت ہے لیکن خود ملا غنی برادر نے یہ بات واضح کر دی کہ طالبان کس کے مشوروں یا اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اس پر افغان حکومت کی جانب سےتشویش کا ظاہر کیا جانا ایک قدرتی امر ہے۔ حکومت کی جانب سے بجا طور پر کہا گیا ہے کہ اس رویے سے تو یہی بات آشکار ہوتی ہے کہ پائیدار امن کے قیام کی امید کرنا مشکل ہے۔ پاکستان میں طالبان کے ٹریننگ کیمپ جب تک پورے طور پر بند نہیں کئے جاتے اس وقت تک یہ توقع کرنا فضول ہے کہ امن مذاکرات کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ سامنے آئے گا۔
کچھ ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ طالبان مذاکرات کاروں کا جو وفد حال ہی میں پاکستان گیا تھا جس کی قیادت ملا برادر نے کی تھی ۔اس کے بیشتر ارکان نے ٹریننگ کیمپوں کا بھی دورہ کیا تھا اس بات کی تصدیق افغانستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ جمعہ کو کی تھی۔
حالانکہ درمیان میں طالبان کی طرف سے یہ تاثر بھی دیا گیا تھا کہ اب ان پر پاکستانی ایجنسیوں کا وہ اثر نہیں ہے جو پہلے تھا۔ لیکن اب جو باتیں سامنے آرہی ہیں ان سے تو یہی لگ رہا ہے کہ آئی اس آئی اب بھی طالبان کو اپنے مشوروں سے نوازتی رہتی ہے۔ اس صورتحال سے ہندوستان میں بھی قدرتی طور پر تشویش پیدا ہوگی۔ ہندوستان نے افغانستان میں ترقیاتی کاموں کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ حال ہی میں اس نے پچاس ملین ڈالر کی مالیت کے اہم سماجی پراجیکٹ کے پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہندوستان یہ ضرور چاہے گا کہ افغانستان میں اس کے مفاد پر کوئی حملہ نہ ہو لیکن اگر طالبان پاکستانی ایجنسیوں کے زیر اثر کام کریں گے تو ایسا ہونا ناگزیر ہے۔
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ حکومت افغانستان اور طالبان کے مابین بات چیت کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے لیکن افغانستان میں تشدد اور قتل و غارتگری کے واقعات میں کمی کے آثار دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس ملک میں انیس بیس سال قبل جو جنگ شروع ہوئی تھی اس کا اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ سال ایک انتہائی خون خرابے کا سال ثابت ہوا۔ اسی سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا لیکن اس کے عوض طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ القاعدہ جیسے گروپوں کو افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں ملے گی۔ پھر ستمبر کے مہینے میں دوحہ میں ہی بین افغانستان امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا لیکن ان سفارتی کوششوں کے باوجود تشدد کے واقعات میں کمی آنے کی بجائے ان میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان کے مطابق تیس ستمبر کو ختم ہونے والی چوتھائی میں تشدد کے واقعات میں پچاس فیصد کا اضافہ ہوا۔ نشانہ بند ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ میڈیا سے جڑے اینکروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ان واردات میں ملوث نہیں تھے لیکن سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ اپنے دور اقتدار میں جن لوگوں نے ٹی وی پر پابندی لگائی تھی اور ریڈیو اور اخباروں کو اپنے پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا تھا وہی عناصر اب میڈیا والوں کو اس لئے نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ اپنے خلاف کوئی تنقید برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت کی طرف سے لگاتار سیز فائر کے لئے کہا جا رہا ہے لیکن طالبان کے گروپ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ انھیں زیادہ دلچسپی اس بات سے ہے کہ افغانستان میں حکومت کا جو سسٹم نافذ ہو وہ ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ تقریباً تمام تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان سب کچھ اپنی شرطوں پر منوانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ افغانستان کا سب سے بڑا المیہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں طالبان حکومت کے زوال کے بعد سے اب تک افغانستان میں جو مثبت تبدیلیاں اور اصلاحات نظر آئی ہیں ان پر پانی پھر جائے گا۔
کچھ ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ طالبان مذاکرات کاروں کا جو وفد حال ہی میں پاکستان گیا تھا جس کی قیادت ملا برادر نے کی تھی ۔اس کے بیشتر ارکان نے ٹریننگ کیمپوں کا بھی دورہ کیا تھا اس بات کی تصدیق افغانستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ جمعہ کو کی تھی۔
حالانکہ درمیان میں طالبان کی طرف سے یہ تاثر بھی دیا گیا تھا کہ اب ان پر پاکستانی ایجنسیوں کا وہ اثر نہیں ہے جو پہلے تھا۔ لیکن اب جو باتیں سامنے آرہی ہیں ان سے تو یہی لگ رہا ہے کہ آئی اس آئی اب بھی طالبان کو اپنے مشوروں سے نوازتی رہتی ہے۔ اس صورتحال سے ہندوستان میں بھی قدرتی طور پر تشویش پیدا ہوگی۔ ہندوستان نے افغانستان میں ترقیاتی کاموں کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ حال ہی میں اس نے پچاس ملین ڈالر کی مالیت کے اہم سماجی پراجیکٹ کے پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہندوستان یہ ضرور چاہے گا کہ افغانستان میں اس کے مفاد پر کوئی حملہ نہ ہو لیکن اگر طالبان پاکستانی ایجنسیوں کے زیر اثر کام کریں گے تو ایسا ہونا ناگزیر ہے۔
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ حکومت افغانستان اور طالبان کے مابین بات چیت کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے لیکن افغانستان میں تشدد اور قتل و غارتگری کے واقعات میں کمی کے آثار دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس ملک میں انیس بیس سال قبل جو جنگ شروع ہوئی تھی اس کا اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ سال ایک انتہائی خون خرابے کا سال ثابت ہوا۔ اسی سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا لیکن اس کے عوض طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ القاعدہ جیسے گروپوں کو افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں ملے گی۔ پھر ستمبر کے مہینے میں دوحہ میں ہی بین افغانستان امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا لیکن ان سفارتی کوششوں کے باوجود تشدد کے واقعات میں کمی آنے کی بجائے ان میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان کے مطابق تیس ستمبر کو ختم ہونے والی چوتھائی میں تشدد کے واقعات میں پچاس فیصد کا اضافہ ہوا۔ نشانہ بند ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ میڈیا سے جڑے اینکروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ان واردات میں ملوث نہیں تھے لیکن سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ اپنے دور اقتدار میں جن لوگوں نے ٹی وی پر پابندی لگائی تھی اور ریڈیو اور اخباروں کو اپنے پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا تھا وہی عناصر اب میڈیا والوں کو اس لئے نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ اپنے خلاف کوئی تنقید برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت کی طرف سے لگاتار سیز فائر کے لئے کہا جا رہا ہے لیکن طالبان کے گروپ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ انھیں زیادہ دلچسپی اس بات سے ہے کہ افغانستان میں حکومت کا جو سسٹم نافذ ہو وہ ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ تقریباً تمام تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان سب کچھ اپنی شرطوں پر منوانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ افغانستان کا سب سے بڑا المیہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں طالبان حکومت کے زوال کے بعد سے اب تک افغانستان میں جو مثبت تبدیلیاں اور اصلاحات نظر آئی ہیں ان پر پانی پھر جائے گا۔
Comments
Post a Comment