افغانستان میں مل کر کام کرنے کے تمام سیاسی  امکانات کو بروئے کار لانے  کے حق میں  بھارت 

افغانستان کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے والے ہندوستان نے افغانستان میں کسی بھی طرح کی غیر ضروری مداخلت کے بغیر افغان قیادت، افغان ملکیت اور افغان امنگوں کی عکاسی کرنے والے ماحول میں قیامِ امن اور مفاہمت کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے اورآج بھی وہ افغانستان میں مل کر کام کرنے کے تمام سیاسی امکانات کو بروئے کار لانے کے حق میں ہے۔

ہند ۔افغانستان دوستانہ ہمسائیگی کا یہی وہ پیمانہ ہے جس نے 2014 میں ہندستان کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک افغان صدر حامد کرزئی نے اُسی دوران افغان صوبہ ہرات میں ہندستان کے سفارتخانے پر حملے پر اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں دوٹوک کہہ دیا تھا کہ اُن کی حکومت کو یقین ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے ہرات میں ہندستانی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے۔

بر سبیل تذکرہ اس واقعے کے پس منظر میں افغانستان کے رُخ پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی جس جذبے کی ترجمانی کرتی ہے اُس سے بجا طور پر بہتر ہمسائیگی کے حق میں یہ خواہش کی جا سکتی ہے کہ بیرونی مداخلتوں سے ہونے والی دہشت گردی کی لعنت سے پاک افغانستان ایک پُرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف آگے بڑھے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان افغانستان کے سیاسی میدان میں موجود تمام حلقوں سے امید کرتا ہے کہ وہ مل کر کام کریں تاکہ وہاں کی زندگی میں اقلیت سمیت سب کی تمناؤں کی عکاسی ہو سکے۔

افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں ہندستان کے کردار کی دنیا معترف ہے۔ امریکہ جس نے وہاں دہشت گردی کی راست سرکاری سرپرستی کے سنگین نتائج پر قابو پانے کیلئے فوجی کارروائی تک سے گریز نہیں کیا وہ بھی افغانستان میں قومی اتحاد کی حکومت اور ملک کے جمہوری اداروں کی تعمیر میں مدد کرنے کے سلسلے میں ہندوستان کے عزم اور حوصلے کی داد دے چکاہے۔رخصت پذیر امریکی سفیر برائے ہند مسٹر کینتھ آئی جسٹر نے افغانستان کی تعمیر نو اور مستقبل کے لئے ہندوستان کی کوشش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نہ صرف علاقائی ترقی اور استحکام کو آگے بڑھائے گی بلکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے میں بھی مددگار ہوگی۔امریکہ کے خصوصی نمائندےبرائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے بھی جوپچھلے سال ہندوستان کا دورے پر تھے، یہ واضح کرنے میں کسی جھجھک سے کام نہیں لیا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ہندستان افغانستان میں قیام امن کے لئے سرگرم کردار ادا کرے۔

یہ دستاویزی شہادتیں اور دہائیوں پر محیط ہند- افغان تعلقات کے آئینے میں ہندستان کی یہ خواہش کسی کیلئے اجنبی نہیں کہ افغانستان ایک بار پھراپنی داخلی کوششوں سے اُس زندگی کی طرف لوٹ جائے جس میں اقلیت سمیت سب کی تمناؤں کی عکاسی ہو سکے۔

امریکہ پر نائن الیون حملوں کے ٹھیک 19 سال بعد پچھلے سال 12 ستمبر کو دوحہ ، قطر میں طالبان اور افغان ہائی کونسل برائے قومی مفاہمت کےمابین افغان مذاکرات کا آغاز ہوا، جس میں ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ہندستان کے اسی موقف کا اعادہ کیا کہ درون افغانستان سیاسی میدان میں موجود تمام حلقے مل کر کام کریں۔ اس کے بعد افغانستان کے کئی اہم سیاست دانوں نے ہندوستان کا دورہ کیا جن میں افغانستان کے سابق نائب صدر مارشل عبدالرشید دوستم، قومی مفاہمت کی اعلی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور جنرل عطا محمد نور شامل ہیں۔ اس دورے میں اعلی ہندستانی عہدیداروں اور سیاستدانوں کے ساتھ، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ایس ایس جے شنکر ، قومی سلامتی کے مشیر مسٹراجیت ڈوبھال ، سکریٹری خارجہ ایچ.وی.شرنگلا اور دوسرے شامل تھے، کئی اعلی سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔

تاریخی پس منؓظر میں دیکھا جائے تو ہند افغان تعلقات کی سطح اُس نظریے سے کہیں بلند ہے جس کی بنیاد پر پاکستان کا باقی ماندہ وجود قائم ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان نے ہند افغانستان مضبوط رشتے کی کاٹ کرنے کیلئے افغانستان کو ہمیشہ اپنی نسلی اور لسانی شناخت کا جھانسہ دینے کی کوشش کی ہے،جس میں اُسے کبھی کامیابی نہیں ملی۔پاکستان کو ہند افغانستان علاقائی مفاہمت اور ترقی پسند ہمسائیگی سے اس لئے بھی خوف آتا ہے کہ اسے پتہ ہے افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ دوسری طرف ہندستان آج بھی افغانستان میں سب سے بڑا علاقائی ڈونر ہے یعنی وہ سب سے زیادہ عطیہ دیتا ہے۔ افغانستان میں ایک سے زیادہ ترقیاتی کام ہندوستان کی مدد سے انجام دیے جارہے ہیں۔ ملک کےبنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے سے متعلق کئی بڑے پروجیکٹ بشمول پارلیمانی عمارت سازی، ڈیم اور سڑکوں کی تعمیر کے کام مکمل ہوچکے ہیں۔ افغانستان کی فوج کو بھی ہندستان تربیت دیتا ہے ۔موجودہ افغان کرکٹ ٹیم کی بساط بچھانے میں بھی ہندستان کا اہم رول رہا۔ وسطی ایشیا تک ہندوستان کی رسائی کا راستہ افغانستان سے ہی ہو کر گزرتا ہے جس میں پاکستان آج بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور جس کا ادراک افغانستان کو بھی ہے۔

خطے میں ہندستان کے پرانے دوستوں کو امید ہے کہ ہندوستان- افغانستان کو کسی بھی ممکنہ آزمائش میں تنہا نہیں چھوڑے گا، خواہ طالبان کے خلاف متحدہ مزاحمت کی نوبت کیوں نہ آئے۔ افغانستان میں حالات چونکہ سردست غیر مستحکم ہیں اس لئے وہاں ایک اور خانہ جنگی کے اندیشے کو دوٹوک طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ