دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہند افغان اشتراک

قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال گزشتہ دنوں افغانستان کےدو روزہ دورے پر کابل گئے تھے۔ جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی، اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ ، اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب اور دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی اور دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے نیز جنگ زدہ ملک میں امن کے قیام کے علاوہ اسٹریٹیجک امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

دوحہ میں جاری افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین افغان امن مذاکرات کے آغاز کے بعد یہ ہندوستان کے کسی اعلی عہدیدار کا افغانستان کا پہلا دورہ تھا ۔ اس سے قبل گزشتہ برس فروری میں دوحہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کے دوران بھی ہندوستان نے شرکت کی تھی جب کہ گزشتہ ستمبر میں بین افغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں بھی ہندوستانی وفد موجود تھا اور وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شرکاء سے خطاب کیا تھا۔

اجیت ڈوبھال کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور ملک میں قیام امن کی کوششوں کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا ۔ دوسری طرف اجیت ڈوبھال نے کہا کہ ہندوستان افغانستان کی تعمیر اور ترقی میں اپنا تعاون جاری رکھے گا ۔

ہندوستان ا ور افغانستان کے رہنماوں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورت حال پر صلاح و مشورہ کے لیے ملاقات کا سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتاہے ۔ گزشتہ اکتوبر میں عبداللہ عبداللہ ہندوستان آئے تھے اور انہوں نے دیگر رہنماوں کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی تھی۔ افغانستان کے انتہائی بااثر رہنماوں میں سے ایک عبدالرشید دوستم نے بھی ستمبر میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔

ہندوستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں پرانے اور دوستانہ رشتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے مابین رشتوں میں مزید استحکام پیدا ہوا ہے۔ جنگ سے متاثرہ اس ملک کی تعمیر نو کی کوششوں میں ہندوستان ، افغانستان کے سب سے بڑے عطیہ کنندگان ملکوں میں سے ایک ہے ۔

ہندوستان نے افغانستان کو ہمیشہ ایک دوست ملک سمجھا اور اس کی مدد کے لیے آگے آیا ہے۔ ہندوستان نے کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر کی، اسپتال بنوائے، اسکول بنوائے، سڑکوں کی تعمیر میں یہاں کے ورکر مصروف ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے کام میں بھی ہندوستانی انجینئر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 1700 ہندوستانی موجود ہیں جو وہاں واقع اسپتالوں، بینکوں اور سکیورٹی اور آئی ٹی کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ ایک خوشحال، ترقی یافتہ، مستحکم اور جمہوری افغانستان کے حق میں ہے۔

جب افغانستان میں سوویت روس کی پسپائی کے بعد طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو ہندوستان نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ کیونکہ وہ اس وقت کے طالبان کی پالیسی کا حامی نہیں تھا۔ طالبان خلافت یا امارت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے ہندوستان اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ جتنے دنوں تک افغانستان میں طالبان کی حکومت رہی دونوں ملکوں میں سفارتی رشتہ منقطع رہا۔ لیکن جب 2001 میں امریکی حملے کے بعد طالبان کی حکومت ختم ہوئی اور وہاں حامد کرزئی کی حکومت قائم ہوئی تو ایک بار پھر دونوں ملکوں میں سفارتی اور دوستانہ رشتوں کا احیا ہو گیا۔ اشرف غنی کی حکومت میں باہمی رشتوں کو مزید فروغ حاصل ہوا۔اور اس وقت دونوں ممالک بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر متعدد عالمی امور میں ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

تاہم ہندوستان اور افغانستان کی یہ دوستی ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جو افغانستان میں امن کے قیام میں تعاون کرنے کی باتیں تو خوب کرتا ہے تاہم درپردہ دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کی سرپرستی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔پاکستان نے ہندوستان اور افغانستان کی دوستی میں خلیج پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے بھی اختیار کیے۔ کبھی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملے کروائے گئے تو کبھی بے گناہ عوام کو دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ لیکن افغان کی اعلی قیادت اور افغان عوام اس سازش سے بخوبی واقف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کو ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

ہندوستان کی مالی امداد سے تعمیر افغانستان کی پارلیمنٹ کا دسمبر 2015میں افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کا دکھ ہمارے لیے تکلیف کا باعث ہے، آپ کے خواب پورے کرنا ہماری ذمہ داری ہے، آپ کی مضبوطی ہی ہمارے لیے بھروسہ ہے۔ آپ کی ہمت سے ہمیں تحریک ملتی ہے اور آپ کی دوستی ہمارے لیے عزت کی بات ہے۔ہندوستان، وزیر اعظم نریندر مودی کے اس قول کو پورے خلوص اور سنجیدگی سے پورا کررہا ہے۔

اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ افغانستان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ کبھی نہ کبھی تعلقات میں تلخی ضرور آئی ہے۔ لیکن ہندوستان کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ اچھے ہی رہے ہیں۔اور آنے والے دنوں میں ہندوستان اور افغانستان کے درمیان روایتی دوستی مستقبل میں اور بھی گہری ہونے جا رہی ہے۔ ایسا ہونے سے جنوبی ایشیا میں دونوں ممالک کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔ماہرین کہتے ہیں کہ دوسری طرف پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ افغانستان میں بدامنی رہے۔ کیوں کہ اگر امن رہے گا تو حکومت اپنے ملک کے مفادات کے بارے میں سوچے گی جو کہ پاکستان کے حق میں نہیں ہوگا۔

امید کی جانی چاہئے کہ ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے حالیہ دورہ افغانستان کے بعد دونوں دوست ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ ہندوستان کی خواہش ہے کہ بین افغان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو ،تاکہ جنگ زدہ ملک میں امن و امان قائم ہوسکے اور افغانستان کے عوام ترقی اور خوش حالی کے راستے پر قدم بڑھاسکیں۔ ہندوستان افغانستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی میں ہمیشہ سے تعاون کرتا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ