موضوع:کووڈ-19 کی وبا اور پاکستان کا معاشی بحران



پاکستان کو اس وقت دو بہت بڑے مسئلوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو اسے معاشی بحران کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری جانب اسی بحران میں اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ بیماری ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان سب سے برے دور سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اسلام آباد کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے چھ ارب امریکی ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تھا لیکن اس کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ پاکستان کے لئے ان کا پورا کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔ پچھلے سال کے بجٹ میں پاکستان نے کل گھریلو پیداوار کا صفر اعشاریہ چھ فی صد بنیادی مالی خسارے کا نشانہ رکھا تھا۔ اسے امید تھی کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے سے یہ نشانہ حاصل کرلیا جائے گا۔ لیکن شاید وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔ اسلام آباد کو ٹیکسوں کے ذریعہ ریوینیو حاصل کرنے میں ہمیشہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ بڑے اور امیر افراد ٹیکس کسی نہ کسی بہانے بچالیتے ہیں جبکہ غریب لوگوں کو ٹیکس بھرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پیکج کا مقصد ٹیکس پالیسیوں اور اس کے نظام میں اصلاحات کے ذریعہ سرکاری قرضوں کو کم کرنا تھا۔

بیل آوٹ پیکج کی پہلی قسط جاری کرتے وقت آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ پاکستان کے توانائی شعبہ اور دوسری سرکاری کمپنیوں میں لاگت سے متعلق منصوبوں سے مالی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی تاہم اس کی وجہ سے پیٹرول کی مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوگیا جس کے باعث عوام میں غم وغصہ نظر آنے لگا۔

آئی ایم ایف کے پیکج سے ملک میں سیاست بھی تیز ہوگئی۔ اس سے تمام ضروری اشیا کے دام بڑھنے لگے۔ اس سال کے شروع میں پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے معاملات سامنے آئے اور اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ لوگ بیماری سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ان میں سے تقریبا 35000لوگ شفایاب ہوچکے ہیں جبکہ دوہزار 216 لوگوں کی موت ہوئی۔اس وبا نے ملک کے معاشی وسائل کو بڑی بری طرح سے متاثر کیا ہے۔

ابھی پاکستان اس وبا سے ہی جوجھ رہا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں اسلام آباد کے سامنے مزید مطالبے پیش کردیئے۔ ان مطالبوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔تاہم پاکستانی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ افراط زر کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن پانے والوں کی پینشن میں اضافہ ناگزیر ہے۔

امید ہے کہ پاکستان اپنا اگلا بجٹ 12 جون کو پیش کرے گا۔ عمران خان حکومت کے سامنے سب سے بڑا چلنج یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط اور مطالبوں کو دھیان میں رکھ کر آئندہ بجٹ کیسے پیش کرے،اگر حکومت اس بین الاقوامی ادارے کی شرائط کے مطابق بجٹ پیش نہیں کرتی تو قرض کی آئندہ قسط روک دی جائے گی۔

عام پاکستانیوں کے لئے یہ مالی سال سب سے برا مالی سال تھا۔ کیونکہ اس سال افراط زر کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ تھی۔ چیزوں کے دام آسمان چھورہے ہیں۔ اس کے باعث پالیسی سازوں کو شرح سود بڑھانی پڑی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس سال افراط زر کے دباوکو کم کرنے کے لئے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا تھا لیکن سود میں یہ اضافہ کارگر ثابت نہ ہوا اور اس سے شرح افراط زر اور بڑھنے لگی جبکہ نجی شعبہ نے زیادہ سود کے باعث قرض لینا بند کردیا۔ جس کی وجہ سے صنعتی ترقی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس سال جنوری میں افراط زر کی شرح 14 اعشاریہ چھ فیصد تھی جو گزشتہ بارہ سال میں سب سے زیادہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود بڑھا کر 13 اعشاریہ دو پانچ فیصد کردیا تھا۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے مانگ میں کافی کمی آگئی ہے۔ مئی میں افراط زد میں کمی کے باعث اسٹیٹ بینک کو شرح سود میں آٹھ فیصد کی کمی کرنی پڑی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مئی اور جولائی کے درمیان دس اعشاریہ نوچار فیصد کی افراط زر کا اندازہ لگایا تھا تاہم بینک کے اندازے کے برخلاف یہ کم رہی اسلئے اسے شرح سود میں بھی کٹوتی کرنی پڑی۔ پاکستان نے پیٹرول کی مصنوعات کی قیمتیں کم کردی ہیں۔ ایسا پچھلے دو ماہ میں تین بار ہوا ہے۔ اس کے باعث پیداوار کی لاگت میں کمی آئی ہے اور بالآخر افراط زر کی شرح میں بھی گراوٹ دیکھنے کو ملی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کووڈ-19 کی وبا پھیلنے کے بعد معاشی بحران کا مقابلہ کس طرح کرتا ہے۔ ملک میں لاک ڈاون کے زمانے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی سست روی سے نپٹنے کےلئے بہت سے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ ان اقدامات کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظوری حاصل تھی یا نہیں۔ لہذا پاکستان کے لئے راستہ آسان نظر نہیں آتا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ