موضوع: بھارت کا اصل کنٹرول لائن پر چین کی اشتعال انگیزی کا سخت جواب
پچھلی کچھ دہائیوں سے چین بھارت کے ساتھ اپنی سرحد پر فوجی بنیادی ڈھانچوں کو مضبوط کر رہا ہے جبکہ بھارت نے سرحد کی اپنی جانب بہت بعد میں بنیادی ڈھانچوں کو بہتر بنانا شروع کیا تھا ۔ بھار ت کی جانب سے اپنے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر و ترقی میں تیزی 2014 کے بعد ہی شروع ہوئی ۔
اپنے بارڈر پروجیکٹ کے تحت نئی دہلی سرحد کی اپنی جانب اب تک ایک ہزار کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کر چکا ہے ۔ اس پروجیکٹ کے تین مرحلے ہیں جس کا پہلا مرحلہ تقریباً پورا ہونے والا ہے ۔ بھارت کی جانب سے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر و ترقی سے چین کو تشویش پیداہو گئی ہے کیونکہ اس سے اصل کنٹرول لائن کی نگرانی کرنا قدرے آسان ہو گیا ہے جو چین کو قطعی پسند نہیں۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرحد پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ دونوں ملکوں کی فوجوں کےد رمیان پہلا تصادم اس سال کی پانچ مئی کو لداخ میں پینگ گانگ سو اور شمالی سکم کے ناکولا میں ہوا جس میں دونوں ملکوں کے فوجی زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود چین نے اصل کنٹرول لائن کے زیادہ نزدیک اپنی فوجوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔ اس نے وادی گلون،ڈیمچوک اور دولت بیگ اولڈی میں فوجیں تعینات کر کے اپنے جارحانہ انداز کا ثبوت پیش کر دیا ۔ بیجنگ کی اس حرکت کا جواب دینے کے لئے نئی دہلی کو بھی اپنی فوجیں بھیجنی پڑیں۔ وادیٔ گلون میں بھارت کی جانب سے سڑک کی تعمیر پر بھی چین کو اعتراض ہے ۔ حال ہی میں دونوں ملکوں کی فوجوں کےد رمیان جو تصادم ہوااس کی وجہ تھی چین کی جانب چوکیوں کی تعمیر، تاکہ وہ بھارت کی سرگرمیوں کی نگرانی کرسکے۔
14ویں کور آف لیہہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور چین کے جنوبی شنجیانگ ملٹری ریجن کے کمانڈر میجر جنرل لیولن کے درمیان 6جون کو کور کمانڈر سطح کی میٹنگ ہوئی، جس میں اپنی اپنی فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا۔ تاہم فوجوں کو پیچھےہٹاۓ جانے کے عمل پر جب ہندوستانی فوجوں نے نظر ڈالی تو پایا کہ چین نے دونوں ملکوں کے درمیان ہوۓ معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے، نتیجتاً دونوں ملکوں کے سپاہیوں کے درمیان وادیٔ گلون میں تصادم پھوٹ پڑا۔اس لڑائی میں بھارت کےبیس فوجی شہید ہوۓ جبکہ چین کے 45 جوانوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔
بھارت نے عہد کیا ہے کہ وہ سرحد پر سڑک کی تعمیر کا اپنا پروجیکٹ مکمل کر کے ہی دم لے گا اور پی ایل اے کے جارحانہ انداز بھی اس پروجیکٹ کو مکمل ہونے سے نہیں روک سکتا۔ سڑکوں کی تعمیر کے بعد ہندوستانی فوجوں کو فارورڈ علاقوں تک جانے میں کافی آسانی ہوگی۔ بھارت نے ڈربوک سے شائی یوک ہوکر ڈی بی او جانے والی سڑک پچھلے سال ہی مکمل کرلی تھی اور چین کی 15 جون کی اشتعال انگیزی کے باوجود گلون ندی پر بن رہے اہم پل کو بھی مکمل کرلیا گیا۔ اب اس پل کی تعمیر سے ہندوستانی فوج کی اصل کنٹرول لائن تک رسائی آسان ہوجاۓ گی۔
موجودہ صورتحال ابھی بھی کشیدہ ہے کیونکہ دونوں ملکوں نے اپنی فوجوں کی تعیناتی میں اضافہ کردیا ہے۔ چین کی جانب فوجی خیموں کو رسد پہنچانے کے لیے گاڑیوں کی آمد ورفت میں اضافہ ہوگیا ہے، جو مئی اور جون میں لگاۓ گئے تھے۔دوسری جانب بھارت نے اپنی فوجوں کو سرحد کے نزدیک تک پہنچا دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس نے اصل کنٹرول لائن پر 32 سڑکو ں کی جلد از جلد تعمیر کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ چین فوجوں کو پیچھے ہٹانے سے متعلق 24جون کو کیے گئے معاہدے پر جب تک عمل نہیں کرتا، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہے گی۔
اپنے بارڈر پروجیکٹ کے تحت نئی دہلی سرحد کی اپنی جانب اب تک ایک ہزار کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کر چکا ہے ۔ اس پروجیکٹ کے تین مرحلے ہیں جس کا پہلا مرحلہ تقریباً پورا ہونے والا ہے ۔ بھارت کی جانب سے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر و ترقی سے چین کو تشویش پیداہو گئی ہے کیونکہ اس سے اصل کنٹرول لائن کی نگرانی کرنا قدرے آسان ہو گیا ہے جو چین کو قطعی پسند نہیں۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرحد پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ دونوں ملکوں کی فوجوں کےد رمیان پہلا تصادم اس سال کی پانچ مئی کو لداخ میں پینگ گانگ سو اور شمالی سکم کے ناکولا میں ہوا جس میں دونوں ملکوں کے فوجی زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود چین نے اصل کنٹرول لائن کے زیادہ نزدیک اپنی فوجوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔ اس نے وادی گلون،ڈیمچوک اور دولت بیگ اولڈی میں فوجیں تعینات کر کے اپنے جارحانہ انداز کا ثبوت پیش کر دیا ۔ بیجنگ کی اس حرکت کا جواب دینے کے لئے نئی دہلی کو بھی اپنی فوجیں بھیجنی پڑیں۔ وادیٔ گلون میں بھارت کی جانب سے سڑک کی تعمیر پر بھی چین کو اعتراض ہے ۔ حال ہی میں دونوں ملکوں کی فوجوں کےد رمیان جو تصادم ہوااس کی وجہ تھی چین کی جانب چوکیوں کی تعمیر، تاکہ وہ بھارت کی سرگرمیوں کی نگرانی کرسکے۔
14ویں کور آف لیہہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور چین کے جنوبی شنجیانگ ملٹری ریجن کے کمانڈر میجر جنرل لیولن کے درمیان 6جون کو کور کمانڈر سطح کی میٹنگ ہوئی، جس میں اپنی اپنی فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا۔ تاہم فوجوں کو پیچھےہٹاۓ جانے کے عمل پر جب ہندوستانی فوجوں نے نظر ڈالی تو پایا کہ چین نے دونوں ملکوں کے درمیان ہوۓ معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے، نتیجتاً دونوں ملکوں کے سپاہیوں کے درمیان وادیٔ گلون میں تصادم پھوٹ پڑا۔اس لڑائی میں بھارت کےبیس فوجی شہید ہوۓ جبکہ چین کے 45 جوانوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔
بھارت نے عہد کیا ہے کہ وہ سرحد پر سڑک کی تعمیر کا اپنا پروجیکٹ مکمل کر کے ہی دم لے گا اور پی ایل اے کے جارحانہ انداز بھی اس پروجیکٹ کو مکمل ہونے سے نہیں روک سکتا۔ سڑکوں کی تعمیر کے بعد ہندوستانی فوجوں کو فارورڈ علاقوں تک جانے میں کافی آسانی ہوگی۔ بھارت نے ڈربوک سے شائی یوک ہوکر ڈی بی او جانے والی سڑک پچھلے سال ہی مکمل کرلی تھی اور چین کی 15 جون کی اشتعال انگیزی کے باوجود گلون ندی پر بن رہے اہم پل کو بھی مکمل کرلیا گیا۔ اب اس پل کی تعمیر سے ہندوستانی فوج کی اصل کنٹرول لائن تک رسائی آسان ہوجاۓ گی۔
موجودہ صورتحال ابھی بھی کشیدہ ہے کیونکہ دونوں ملکوں نے اپنی فوجوں کی تعیناتی میں اضافہ کردیا ہے۔ چین کی جانب فوجی خیموں کو رسد پہنچانے کے لیے گاڑیوں کی آمد ورفت میں اضافہ ہوگیا ہے، جو مئی اور جون میں لگاۓ گئے تھے۔دوسری جانب بھارت نے اپنی فوجوں کو سرحد کے نزدیک تک پہنچا دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس نے اصل کنٹرول لائن پر 32 سڑکو ں کی جلد از جلد تعمیر کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ چین فوجوں کو پیچھے ہٹانے سے متعلق 24جون کو کیے گئے معاہدے پر جب تک عمل نہیں کرتا، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہے گی۔
Comments
Post a Comment