پرویز ہود بھائی کی معزولی: پاکستان میں ظلمت پرستی کی فتح یا کچھ اور؟
پرویز ہود بھائی پاکستان کے ایک ممتاز دانشور اور اسکالر ہیں۔ وہ عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے مالک ہیں اور سیاسی اور سماجی موضوعات پر بھی اکثر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ وہ لاہور کے فورمین کرشچین کالج یونیورسٹی میں فزکس اور میتھ پڑھاتے ہیں، لیکن اب وہاں سے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب انہیں یہ "پروانہ" مل گیا ہے کہ اگلے سال یعنی 2021 میں ان کے کانٹریکٹ کی تجدید نہیں کی جاۓ گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا کیا کیا کہ انہیں لاہور کی ایف سی سی یونیورسٹی نے نکال باہر کرنے کافیصلہ کیا۔ اس کےلیے ہمیں ہود بھائی کے تعلیمی علمی اور نظریاتی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ مذہبی انتہا پسندی کٹّر پن اور اُس ذہنیت کے خلاف رہے ہیں جس میں معقولیت پسندی کو قطعی پسند نہیں کرتے، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد پاکستان میں اچھی خاصی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ ایسے لوگوں کی پاکستان میں بڑی ناقدری ہوتی ہے اور اکثر ان کی کردار کشی بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان کے بہت سے مصنفین ،فنکاروں، تجزیہ کاروں اورصحافیوں کو صرف اس لیے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینی پڑی کہ انھوں نے اپنے اظہار راۓکی آزادی کا استعمال کیا۔ پرویز ہود بھائی بھی ویسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں،ا نہیں لاہور کی ایف سی سی یونیورسٹی سے ہٹاۓ جانے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ فیض کی مشہور نظم"دوعشق"کے یہ مصرعے ہیں
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں کبھی رسوا سربازار!
سو اگر پرویز ہود بھائی کو یونیورسٹی سے ہٹایا گیا تو اس پر تعجب کیا؟ ہود بھائی نے نیوکلیائی فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے۔ وہ سائنسی حقیقت پسندانہ مزاج کو فروغ دینے کے قائل ہیں اور جو لوگ مسلم سماج بطور خاص پاکستانی سماج میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سائنس کا فروغ اسلام کے خلاف ہے ان کے خیال سے وہ اتفاق نہیں رکھتے، ان کا کہنا ہے کہ مذہب یا عقیدے کا سائنس سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ دوری پیدا کرنے کی کوشش ایک گمراہ کن فعل ہوتا ہے۔ ویسے بھی علم کی کسی بھی شاخ یا ڈسپلین کو اسلام یا اسلامی تعلیمات سے متصادم بتانا نری سادہ لوحی نہیں تو کیا ہے؟جس مذہب میں علم کے فروغ پر اتنا زور دیا گیا ہو کہ علم حاصل کرنے کےلیے چین بھی جانا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں وہ مذہب بھلا سائنس کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ ہود بھائی اسلام کے خلاف ہیں۔ وہ بر صغیر کے جن دو سائنس دانوں کو اپنا آئیڈل تصور کرتے ہیں وہ دونوں اپنے اپنے مذہب یا مسلک پر پختہ یقین رکھتے ہیں، ان میں سے ایک تھے راما نوجن اور دوسرے ڈاکٹر عبدالسلام۔ ڈاکٹرعبدالسلام ایک پاکستانی سائنسداں تھے، جنھوں نے نوبل انعام حاصل کرکے پاکستان کو نام آوری دلائی تھی، پاکستان نے اس عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ ان کی قبر کی بے حرمتی تک کی۔ صرف اس لیے کہ وہ احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور احمدیوں کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔
بہر حال پرویز ہود بھائی کو یونیورسٹی میں اپنی خدمات انجام دینے سے اس لیے روکا گیا کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اسلامی معاشرے بطور خاص پاکستان کے معاشرے میں عقلیت پسندی یا معقولیت پسندی کو فروغ دینے کے حق میں ہیں۔ پاکستان کے مشہور تجزیہ کارخالد احمد نے ہود بھائی کے خلاف اٹھائے گیٔے حالیہ قدم کو افسوسناک قرار دیتے ہوۓ کہا کہ پاکستانی ریاست نے اپنے گرد نظریہ کا ایک ایسا تصور قائم کرلیا ہے، جس کے فریم ورک میں ہودبھائی کی کتاب اسلام اینڈ سائنس اور اس کے مشمولات کےلیے کوئی گنجائش نہیں پیدا ہوسکتی۔ اس کتاب میں انھوں نے اس بات سے بطور خاص بحث کی ہےکہ مذہبی قدامت پسندی،معقولیت پسندی برداشت نہیں کرپاتی اور بے وجہ کی جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ سائنس کا فروغ اسلام کے خلاف ہے۔۔بادی النظر میں بھی یہ بحث فضول سی لگتی ہے کیونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عقلیت پسندی اور علم کے فروغ پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ ہود بھائی کے انہی خیالات کے باعث ان کے خلاف یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ مذہب سے نفرت کرتےہیں، حالانکہ وہ مذہب سے نفرت نہیں کرتے،بلکہ مذہب کے نام پر غیر معقولیت کو فروغ دینے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں وہ مذہب کے ایسے ٹھیکیداروں کے خلاف ہیں جو غلط تصورات کو فروغ دیتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے عمران خان کے دور اقتدار میں معقولیت پسندی کی باتیں کرنے والے خاص طور سے نشانہ بن رہے ہیں۔ کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے سے ہود بھائی کوئی تنہا شخص نہیں ہیں ،جنہیں حال ہی میں نکالا گیا ہو۔ مصنف محمدحنیف کو چند ہفتہ قبل کراچی کی حبیب یونیورسٹی سے ہٹایا گیا۔ سوشل نیٹورک پر پروفیسر عمار علی جان نے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ انہیں بھی لاہور کی اس ایف سی سی یونیورسٹی میں جانے سے روکا گیا ہے، جہاں ان کے ذریعہ اٹھاۓ گیٔے سماجی موضوعات سے بحث کے نئے دروازے کھل رہے تھے۔
اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کےلیے عمران خان نے بڑے طمطراق سے اپنی نئی اقتصادی مشاورتی کونسل تشکیل دی تھی۔ اس کونسل میں انھوں نے ایک عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ماہر اقتصادیات کو اس کا رکن نامزد کیا، لیکن انتہا پسند حلقوں نے جب مخالفت کی تو پہلے تو انھوں نے رکن کی مدافعت کی لیکن جب مخالفت زیادہ ہوئی کیونکہ مذکورہ ماہر اقتصادیات احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا تو پھر عمران خان نے سپر ڈال دی اورچند ہی روز بعد اسے اقتصادی کونسل سے ہٹائے جانے کا حکم بھی جاری ہوگیا۔
اب پرویز ہود بھائی اوران جیسے دوسرے دانشوروں کو ہٹاکر اگر پاکستان کی نظریاتی ریاست یہ سمجھتی ہے کہ اس نے معقولیت پسندی کو شکست دے دی تو کیا واقعی معقولیت پسندی ناپید ہوجائےگی؟ اس سوال پر اسےغور کرنا چاہیے۔
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں کبھی رسوا سربازار!
سو اگر پرویز ہود بھائی کو یونیورسٹی سے ہٹایا گیا تو اس پر تعجب کیا؟ ہود بھائی نے نیوکلیائی فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے۔ وہ سائنسی حقیقت پسندانہ مزاج کو فروغ دینے کے قائل ہیں اور جو لوگ مسلم سماج بطور خاص پاکستانی سماج میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سائنس کا فروغ اسلام کے خلاف ہے ان کے خیال سے وہ اتفاق نہیں رکھتے، ان کا کہنا ہے کہ مذہب یا عقیدے کا سائنس سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ دوری پیدا کرنے کی کوشش ایک گمراہ کن فعل ہوتا ہے۔ ویسے بھی علم کی کسی بھی شاخ یا ڈسپلین کو اسلام یا اسلامی تعلیمات سے متصادم بتانا نری سادہ لوحی نہیں تو کیا ہے؟جس مذہب میں علم کے فروغ پر اتنا زور دیا گیا ہو کہ علم حاصل کرنے کےلیے چین بھی جانا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں وہ مذہب بھلا سائنس کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ ہود بھائی اسلام کے خلاف ہیں۔ وہ بر صغیر کے جن دو سائنس دانوں کو اپنا آئیڈل تصور کرتے ہیں وہ دونوں اپنے اپنے مذہب یا مسلک پر پختہ یقین رکھتے ہیں، ان میں سے ایک تھے راما نوجن اور دوسرے ڈاکٹر عبدالسلام۔ ڈاکٹرعبدالسلام ایک پاکستانی سائنسداں تھے، جنھوں نے نوبل انعام حاصل کرکے پاکستان کو نام آوری دلائی تھی، پاکستان نے اس عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ ان کی قبر کی بے حرمتی تک کی۔ صرف اس لیے کہ وہ احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور احمدیوں کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔
بہر حال پرویز ہود بھائی کو یونیورسٹی میں اپنی خدمات انجام دینے سے اس لیے روکا گیا کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اسلامی معاشرے بطور خاص پاکستان کے معاشرے میں عقلیت پسندی یا معقولیت پسندی کو فروغ دینے کے حق میں ہیں۔ پاکستان کے مشہور تجزیہ کارخالد احمد نے ہود بھائی کے خلاف اٹھائے گیٔے حالیہ قدم کو افسوسناک قرار دیتے ہوۓ کہا کہ پاکستانی ریاست نے اپنے گرد نظریہ کا ایک ایسا تصور قائم کرلیا ہے، جس کے فریم ورک میں ہودبھائی کی کتاب اسلام اینڈ سائنس اور اس کے مشمولات کےلیے کوئی گنجائش نہیں پیدا ہوسکتی۔ اس کتاب میں انھوں نے اس بات سے بطور خاص بحث کی ہےکہ مذہبی قدامت پسندی،معقولیت پسندی برداشت نہیں کرپاتی اور بے وجہ کی جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ سائنس کا فروغ اسلام کے خلاف ہے۔۔بادی النظر میں بھی یہ بحث فضول سی لگتی ہے کیونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عقلیت پسندی اور علم کے فروغ پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ ہود بھائی کے انہی خیالات کے باعث ان کے خلاف یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ مذہب سے نفرت کرتےہیں، حالانکہ وہ مذہب سے نفرت نہیں کرتے،بلکہ مذہب کے نام پر غیر معقولیت کو فروغ دینے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں وہ مذہب کے ایسے ٹھیکیداروں کے خلاف ہیں جو غلط تصورات کو فروغ دیتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے عمران خان کے دور اقتدار میں معقولیت پسندی کی باتیں کرنے والے خاص طور سے نشانہ بن رہے ہیں۔ کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے سے ہود بھائی کوئی تنہا شخص نہیں ہیں ،جنہیں حال ہی میں نکالا گیا ہو۔ مصنف محمدحنیف کو چند ہفتہ قبل کراچی کی حبیب یونیورسٹی سے ہٹایا گیا۔ سوشل نیٹورک پر پروفیسر عمار علی جان نے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ انہیں بھی لاہور کی اس ایف سی سی یونیورسٹی میں جانے سے روکا گیا ہے، جہاں ان کے ذریعہ اٹھاۓ گیٔے سماجی موضوعات سے بحث کے نئے دروازے کھل رہے تھے۔
اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کےلیے عمران خان نے بڑے طمطراق سے اپنی نئی اقتصادی مشاورتی کونسل تشکیل دی تھی۔ اس کونسل میں انھوں نے ایک عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ماہر اقتصادیات کو اس کا رکن نامزد کیا، لیکن انتہا پسند حلقوں نے جب مخالفت کی تو پہلے تو انھوں نے رکن کی مدافعت کی لیکن جب مخالفت زیادہ ہوئی کیونکہ مذکورہ ماہر اقتصادیات احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا تو پھر عمران خان نے سپر ڈال دی اورچند ہی روز بعد اسے اقتصادی کونسل سے ہٹائے جانے کا حکم بھی جاری ہوگیا۔
اب پرویز ہود بھائی اوران جیسے دوسرے دانشوروں کو ہٹاکر اگر پاکستان کی نظریاتی ریاست یہ سمجھتی ہے کہ اس نے معقولیت پسندی کو شکست دے دی تو کیا واقعی معقولیت پسندی ناپید ہوجائےگی؟ اس سوال پر اسےغور کرنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment