امریکہ میں حالات ابتر ۔ بیشتر بڑے شہروں میں کرفیو
امریکہ میں نسلی منافرت کے خلاف احتجاج کی سخت لہر دکھائی دے رہی ہے۔ احتجاج کچھ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا کہ کئی روز سے یہ سلسلہ جاری ہے اور شہر شہر اور قریہ قریہ ایک طوفان سا نظر آتا ہے۔ اس پوری ہنگامہ آرائی کی اصل جڑ یہ ہے کہ ایک سیاہ فام افریقی امریکی شہری جارج فلائڈ کو ایک غیر ذمہ دار سفید فام امریکی پولس نے بے دردی سے مار کر ہلاک کر دیاظاہر ہے یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا جو دب کر رہ جاتا۔ امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت بھی ہے جہاں آئین کو بالادستی حاصل ہے اور جہاں ہر شخص کے بنیادی اور انسانی حقوق کی گارنٹی موجود ہے۔ سو اس طرح کے واقعات پر شدید ردعمل کا آنا ایک قدرتی امر تھا۔ بلا شبہ احتجاج بہت بڑے پیمانے پر ہوا اور سیاسی حلقوں نے ایک دوسرے پر الزام لگانا بھی شروع کیا۔ جمہوریت میں بہت ساری اچھائیوں کے ساتھ کچھ برائیاں بھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جہاں کسی بات پر معمولی سا اختلاف پیدا ہوتا ہے تو یہ معاملہ سیاست سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس سال امریکہ میں صدارتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں اس لئے اس احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدارتی انتخاب نومبر کے مہینے میں ہوگا۔ بہر حال اس بات کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا کہ اپوزیشن کو حکومت کے خلاف حملہ آور ہونے کا ایک موقع مل گیا ہے لیکن سیاسی شعبدہ بازیوں سے قطع نظر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوامی احتجاج کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری ملک میں اس طرح کے واقعے پر احتجاج تو ہوگا ہی۔ پولس افسر کی کارروائی کو کسی بھی حالت میں جائز نہیں قرار دیا جا سکتا۔
جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ جمہوریت میں بہت ساری اچھائیوں کے ساتھ ساتھ کچھ عیوب بھی ہوتے ہیں سو جمہوری سیاست میں بعض غلط تصورات کی بنیادپر بعض جماعتیں عوام کے جذبات کو بھڑکانا شروع کر دیتی ہیں جس کا سماجی سطح پر بہت غلط اور منفی پیغام جاتا ہے۔ حکومت کے ہامی حلقوں میں بعض عناصر ایسے بھی ہوتے ہیں جو حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حکومت کے مخالف حلقے کی دل آزاری کرنے یا انھیں اذیت دینے سے بھی نہیں چوکتے۔ غلط یا صحیح صدر ٹرمپ کی ایک امیج یہ بھی بن گئی ہے کہ وہ جارحانہ قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے اکثریت کے جذبات بھڑکاتے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت میں آئین اور قانون کو بالا دستی حاصل ہوتی ہے لیکن بعض سیاست دانوں کے غلط رویوں کے باعث اکثریت اور اقلیت کے درمیان خلیج پیدا ہونے لگتی ہے۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان امتیاز کرنے کے کئی روپ ہوتے ہیں کہیں گورے اور کالے کی بحث چھڑتی ہے تو کہیں یہ امتیاز مذہب کے نام پر اختلاف کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ کہیں نسل اور کہیں زبان بھی وجہ اختلاف بن جاتی ہے لیکن ان بنیادوں پر تعصب یا منافرت کا فروغ پانا انتہائی قابل مذمت اور بدبختی کی بات ہوتی ہے۔
تاہم جمہوریت میں احتجاج تو ہونا چاہئے لیکن اس میں تشدد کی گنجائش نہیں ہوتی۔ امریکہ میں جو احتجاج ہو رہا ہے اس میں پر تشدد واقعات کی بھی خبریں مل رہی ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے حالانکہ احتجاج کی لہر اب امریکہ تک محدود نہیں رہی یوروپی ممالک سے آسٹریلیا تک اور ایشیا سے افریقہ تک ہر طرف احتجاج ہوا ہے۔ امریکہ میں امن پسند شہری بھی احتجاج کر رہے ہیں جن میں سفید فام بھی شامل ہیں لیکن وہ لوگوں سے تشدد سے گریز کرنے کی بھی اپیل کر رہے ہیں۔ امریکہ کی دونوں سیاسی پارٹیوں کے لیڈران بھی امن برقرار رکھنے کی لوگوں سے گزارش کر رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طاقت کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے اس بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کرے اور ایسے غلط کار افسران اور انتظامیہ سے وابستہ دوسرے اہلکاروں کو یہ احساس دلائے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے نسلی تعصب کی بو آئے اور پورے معاشرے میں ایسی آگ بھڑک اٹھے جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ حالات ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب تمام ممالک کورونا جیسی موذی وبا پر قابو پانے کی جدو جہد میں مصروف ہیں۔ احتجاج کی رو اتنی شدید تھی کہ لوگ سماجی فاصلے قائم کرنے کی بات بھی بھول گئے۔ اس سے وبا تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ امید ہے کہ مظاہرین ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے تحمل کا ثبوت دیں گے۔
Comments
Post a Comment