موضوع: بھارت ہوگا فتحیاب



پچھلے کچھ دنوں سے میڈیا اس غیر ضروری اور اچانک پیدا ہوئے تشدد کی برابر رپورٹنگ کر رہا ہے جوبھارت اور چین کے درمیان لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے ایک مخصوص مقام پر پھوٹ پڑا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ملکوں کے درمیان سرحدی معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہیں بھی اس لئے مسائل کے حل کے لئے ان میں سے بہت سے ملکوں کے درمیان سفارتی اور فوجی دونوں سطحوں پر کوئی نہ کوئی میکنزم موجود ہے۔بھارت اور چین کے درمیان بھی اس طرح کا میکنزم ہے۔ مسئلوں کے حل کے لئے میکنزم موجود ہونے کے باوجود چینی فوجی تشدد اور جارحیت پر اتر آئے وہ بھی ایسے وقت میں جب تمام دنیا کورونا وائرس کی بیماری کا مقابلہ کر رہی ہے جس کے لئے چین خود ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی اس نازیبا حرکت کے خلاف لوگوں میں کافی غم و غصہ ہے۔

دونوں ممالک ترقی پذیر معیشتیں ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑی معیشتوں میں ان کا دوسرا اور تیسرا مقام ہے۔ عالمی تجارت میں بڑے موثر انداز میں شرکت کرنے کے باعث ہی انہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔

قدامت پسند مارکسی نظریہ کے مطابق سرمایہ دار بین الاقوامی تجارت کے ذریعہ لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔روس کی خارجہ تجارت کو قومی ملکیت میں لینے کے لئے لینن نے سب سے پہلے ایک حکم نامہ پر دستخط کئے تھے ۔اس وقت باہری دنیا سے رابطہ رکھنے کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ تو جب انیس سو ستر کی دہائی میں معاشی اصلاحات شروع ہوئیں تو چین نے بھی باہری دنیا سے رابطہ قائم کر کے عالمی تجارت شروع کی۔

جس طرح سے جاپان نے امریکی بازار کا فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو جلا بخشی، اسی طرح چین بھی 2001 میں عالمی تجارتی تنظیم میں اپنی پہنچ کا فائدہ اٹھا کر بر آمدات پر مبنی ایک مضبوط معیشت بن گیا۔ وہ بڑے پیمانہ پر بر آمدات تو کرتا رہا لیکن خود اپنے بازار کو قدرے بند رکھا ۔ چینی بازار صرف صنعتوں کے لئے ضروری خام مال کے لئے کھلے تھے جس کا استعمال کر کے وہ مصنوعات تیار کرتا تھا اور بالآخر انہیں عالمی بازار میں فروخت کرتا تھا۔

اس طرح کی پالیسی سے چین کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بننے میں کافی مدد ملی تا ہم اس پالیسی سے اس کے تجارتی شراکت داروں میں تناو پیدا ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ صدرٹرمپ چینی بازاروں میں مزید رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کیونکہ چین برآمدات تو بہت زیادہ کرتا ہے لیکن دوسرے ملکوں سے اس کی در آمدات بہت کم ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کے درمیان گذشتہ نصف صدی سے تجارتی جنگ جاری ہے۔

بھارت کا بھی چین کے ساتھ تجارت میں کچھ اسی طرح کا معاملہ ہے لیکن نئی دہلی نے واشنگٹن کی طرح کوئی بھی معاندانہ کارروائی نہیں کی بلکہ وہ صرف تجارتی میٹنگوں میں اس مسئلہ کو اٹھاتا رہا۔ بھارت کا اس بنیادی اصول پر یقین ہے کہ اگر دونوں پارٹیاں کھلے دماغ سے کسی مسئلہ پر بات چیت کریں تو تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں۔

اس وقت چین کی معیشت کا بھی حال اچھا نہیں ہے ۔ تمام دنیا اس وقت کورونا وائرس کی وبا سے جوجھ رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ اس وبا کا عالمی معیشت پر بہت برا اثر پڑے گا۔ چین کے لئے تو یہ وبا سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی معیشت کا انحصار بر آمدات پر ہے اور جب بر آمدات رک سی جائیں گی تو معیشت کا کیا حال ہوگا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ لہذا چین کو یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ میں آ جائے اتنا اچھا ہے ۔

بھارت چینی مصنوعات کے لئے ایک بڑا بازار ہے جہاں چین میں بنی تقریباً ہر طرح کی مصنوعات دستیاب ہیں۔بہت سی چیزیں تو ایسی ہیں جو ہندوستانی بازار میں سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چین بھارت میں ایک بڑا سرمایہ کار بھی ہے ۔ دو طرفہ تجارت بھی چین کے حق میں ہے ۔ اس لئے سرحدی تنازعہ پر سیاسی اختلافات پیدا ہونے سے تجارتی تعلقات بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا سب سے برا اثر چین کی معیشت پر پڑے گا۔ چین میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں اور چین نے غربت کا خاتمہ کے لئے جو اقدامات کئے اور ان کا جو فائدہ ہوا وہ سب مٹی میں مل جائے گا۔

بھارت جو سامان چین سے منگاتا ہے اسے وہ یا تو خود بنا سکتا ہے یا دوسرے ملکوں سے منگا سکتا ہے۔چین اپنی مصنوعات کے دام کم رکھ کر غیر ملکی بازاروں پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہندوستانی کمپنیوں کے پاس بھی بہتر اور زیادہ سے زیادہ مال تیار کرنے کی صلاحیت ہے۔ ملک میں اس وقت رائے عامہ چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حق میں ہے اور بھارت جیسے جمہوری ملک میں اس طرح کا مطالبہ کافی معنی رکھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ