چین کے رویے پر بھارت کا سخت احتجاج
مغربی لداخ کی وادئ گلوان اور پینگونگ علاقے میں15 جون کو چینی افواج کی جارحیت نے حالات کو اس قدر سنگین بنا دیا کہ بھارتی فوج کے 20 جانباز شہید ہو گئے اور تقریباً 43 چینی فوجی بھی ہلاک ہو ئے۔ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بجا طور پر اپنے چینی ہم منسب سے گفتگو کے دوران اس واقعے پر سخت احتجاج درج کرایا۔ انھوں نے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مقامی کمانڈروں کی سطح کے منصوبے کی خلاف ورزی پر بھی اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی۔ چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی زمینی سطح پر حالات کو جوں کا توں بنائے رکھنے کی بجائے رخنہ اندازی کا سلسلہ جاری رکھا۔
ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ لداخ کے اس غیر متوقع سانحہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس مسئلہ کو ذمہ داری کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔
مئی کی پانچ تاریخ سے ہی سکم کے ناکو لا، لداخ کے پینگونگ اور گلوان علاقے میں چینی فوجوں کی دراندازی سے علاقے میں سلامتی اور تحفظ کے مسائل پیدا ہوتے گئے اور صورتحال ابتر ہوتی جا رہی تھی۔ ناکولا میں حالات کو بگڑنے نہیں دیا گیا لیکن لداخ کے علاقوں میں چینی فوجوں کے ساز وسامان کے ساتھ ایل اے سی کے بھارت میں پڑنے والے حصے میں داخل ہونے کی کوشش کے نتیجے میں ہاتھا پائی اور سنگباری جیسے واقعات رونما ہوئے۔
ہر چند کہ ایل اے سی کا حتمی طور پر تعین نہیں ہو پایا ہے اور یہ دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کو ساتھ بیٹھ کر طے کرنا ہے لیکن دونوں ممالک سرحد پر صورتحال کو جوں کا توں بنائے رکھنے کے لئے عہد بستہ ہیں۔ اس مقصد سے کئے گئے سمجھوتے کے باوجود چین نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی علاقوں میں اپنی نازیبا پیش رفت اور قابل اعتراض حرکتیں جاری رکھیں۔
سرحدی علاقوں میں چین ماضی میں بھی خواہ مخواہ دراندازی کرتا رہا ہے۔2013میں بھی چینی فوجیں اسی طرح لداخ میں گھس آئی تھیں۔ ستمبر2014 میں جب چینی صدر شی جن پنگ بھارت میں تھے اس دوران بھی چمار میں در اندازی کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ مغربی خطے میں واقع چمار میں ستمبر اور نومبر 2015 میں بھی بڑے پیمانے پر دراندازی کی کوششیں ہوئیں۔ مئی 2016 میں وسطی علاقے باراہوتی میں بھی ایک بار پھر چین نے دراندازی کر کے بھارت کو چونکا دیا کیونکہ عام طور سے یہ خطہ اتنا متنازع بھی نہیں مانا جاتا۔
بھوٹان چین سرحد کے پاس جون سے اگست 2017کے دوران ڈوکلام کا واقعہ کافی خطرناک تھا۔ 73 دنوں تک جاری رہنے والی یہ کشاکش بھی چین کی جانب سے ان سمجھوتوں کی خلاف ورزی کے سبب پیدا ہوئی تھی جن کا احترام لازم تھا۔ 2012میں خصوصی نمائندوں کے درمیان حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا یہ معاہدہ اس نے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ بھوٹان کے ساتھ بھی کیا تھا۔
ان تمام حقائق سے ایک بات واضح ہے کہ چین بزعم خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کوعملی جامہ پہنانے کے لئے زمینی صورتحال کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے۔ 2017 اور 2018 میں ارونا چل پردیش کے سرحدی علاقوں میں ٹوٹنگ اور دیبانگ کا واقعہ پیش آیا جبکہ 2019 میں پنگانگ سو لیک سے پتھر بازی کی خبر موصول ہوئی تھی۔
چین تبت اور شنجیانگ میں سڑک، ریلویز اور فائبر آپٹکس جیسے بنیادی ڈھانچہ کے بہت سے پروجیکٹ تعمیر کر رہا ہے۔ بیجنگ مقامی جغرافیائی صورتحال کو ہی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اصل کنٹرول لائن تک اپنی فوجیں بھیج سکے۔ وہ سرحدی علاقوں میں زیر زمین دفاعی نیٹ ورک اور دوسری فوجی سہولیات بھی تعمیر کر رہا ہے۔ چین کے اس اقدام سے علاقائی ڈائنمکس کافی بدل گئی ہے جیسا کہ بھارت نے کئی بار ذکر کیا ہے۔
چین کی جانب سے بھارت کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی ان تمام خلاف ورزیوں کے بعد اب گلوان کا تازہ ترین واقعہ پیش آیا ہے۔ 1978 میں مغربی سیکٹر میں چوشول کے مقام پر فلیگ میٹنگ کے بعد سے اعتماد سازی کے بہت سے اقدامات کئے گئے۔ ان میں 1993 کا امن معاہدہ، 1996 میں فوجی شعبہ میں اعتماد سازی کے اقدامات اور اکتوبر 2013 کا سرحد پر دفاعی تعاون معاہدہ شامل ہیں۔ ان تمام معاہدوں میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان تصادم روکنے کے تمام ضوابط موجود ہیں۔
تاہم 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت سے ان تمام ادارہ جاتی انتظامات کو نقصان پہنچا ہے جو دسیوں سال کی محنت کے بعد تیار کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ نے 1962، 1667 اور 1975 کے پرتشدد واقعات کی بھی یاد دلادی ہے۔
جناب جے شنکر کے بیان کا مقصد چین کو دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے معاہدوں کے نفاذ کی صرف یاد دہانی کرانی نہیں ہے بلکہ ہندوستانی سرحدوں پر چینی فوجیوں کی سرگرمیوں کے نتائج سے بھی آگاہ کرنا ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت امن چاہتا ہے تاہم وہ کسی بھی نازیبا حرکت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Comments
Post a Comment