پاکستانی حکومت میں فوج کا عمل دخل
قیام پاکستان کے بعد 1958 میں جب جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرکے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا تو پاکستانی عوام کو فوجی حکومت کا پہلی بار تجربہ ہوا۔ جنرل ایوب خان کا خیال تھا کہ سارے سیاستداں بدعنوان اور نااہل ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ہزاروں سیاستدانوں کو انتخاب لڑنے کیلئے نااہل قرار دے دیا۔ وہ تقریباً دس سال تک اقتدار پر قابض رہے۔ اس کے بعد تو فوج کو حکومت کرنے کی جیسے عادت سی پڑ گئی تھی۔ جنرل ایوب سے لیکر اب تک جتنے بھی فوجی سربراہ آئے انہوں نے ملک کی منتخبہ حکومت کو کبھی بھی آزادی کے ساتھ کام کرنے نہیں دیا۔ اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے بھی فوج کی حمایت سے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ فوج کو شاید پہلے سے ہی اس بات کا یقین تھا کہ اگر عمران خان وزیراعظم بنے تو اسے حکومت میں اپنا کردار ادا کرنے کا پورا موقع ملے گا اور ہوا بھی یہی۔ عمران خان حکومت نے فوج کو بالکل مایوس نہیں کیا اور مختلف عہدوں پر فوج کے افسروں کی تعیناتی کردی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو پچھلے سال نومبر میں سی پی ای سی اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔ اس کے علاوہ بہت سے سبکدوش فوجی افسروں کو بھی ریلویز، ہاؤسنگ اور صحت کے شعبوں میں تعینات کیا گیا۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کار میں بھی تین سال کی توسیع کردی گئی۔ ان تمام اقدامات نے سول حکومت پر فوج کااعتماد برقرار رکھنے میں کافی مدد کی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب اپوزیشن تقریباً نہ کے برابر ہو اور عوامی مظاہروں اور احتجاجات کے امکانات بھی معدوم ہوں، عمران خان نے شہری انتظامیہ میں فوجی افسروں کی تقرری کرکے اپنا مستقبل محفوظ کرلیا ہے۔ اپوزیشن خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما احتساب بیورو کی کارروائیوں سے پریشانی ہیں ان سے برابر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے اس لئے وہ اس وقت اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
موجودہ پاکستان میں فوج کو جس طرح سے سول حکومت میں عمل دخل کی اجازت دی گئی اس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ ملک کے سیاستداں خواہ وہ حکمراں پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں یا اپوزیشن سے، فوج کو شہری انتظامیہ میں کوئی نہ کوئی رول دینے کیلئے تیار رہتے ہیں تاکہ فوجی بغاوت سے بچا جاسکے اور ان کے خلاف بدعنوانی کے معاملات میں انہیں کوئی سزا بھی نہ ہو۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو اس کا خیال ہے کہ اگر بغیر کسی بغاوت کے اسے حکمرانی کا موقع مل رہا ہے تو اس میں برا کیا ہے ؟
اب چونکہ فوج کا حکومت میں کافی زیادہ عمل دخل ہے تو اس کی نگاہ ملک کی معاشی صورتحال پر بھی ہے کیونکہ بدحال معیشت کا اثر ملک اور سماج کے استحکام پر بھی پڑتا ہے۔ درحقیقت فوجی سازو سامان خریدنے اور فوج کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے معیشت کا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر معیشت کا حال اچھا نہ ہو، تو عوامی ناراضگی کے امکانات بڑ ھ جاتے ہیں اور اگر عوامی احتجاجات ہوئے تو اس سے اپوزیشن کو فائدہ حاصل کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی معاشی صورتحال کافی خراب ہے۔ نواز شریف حکومت کے دوران مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو پانچ اعشاریہ دو فیصد تھی جو 19-2018 کی پہلی سہ ماہی میں گر کر تین اعشاریہ آٹھ فیصد ہوگئی۔ اس معاشی بدحالی کے باعث بے روزگاری بڑھنے لگی اور چیزوں کے دام آسمان چھونے لگے۔
نتیجتاً لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے، سماج میں بے چینی پھیلنے لگی۔ لیکن اسی دوران کورونا وائرس کی وبا بھی پھیلنے لگی جس نے پاکستان کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ اس وبا نے عالمی معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو سال کی باقی ماندہ مدت کیلئے منفی ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہی رفتار 2020 کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں ایک فیصد سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔
ملک کے نظم و نسق کو چلانے اور معیشت کو جلا بخشنے کیلئے سول انتظامیہ اور فوج مل کر کام کرنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن یہ چلن سیاست اور جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ فوج کے دخل سے انتظامیہ میں آمریت کار جحان پیداہونے کااندیشہ بنارہتا ہے۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ شہری انتظامیہ اور فوج کے درمیان تعلقات موجودہ دور کو چھوڑ کر ہمیشہ عدم استحکام کا شکار رہے ہیں جس کے باعث ملک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام بنارہا ہے۔ لیکن فوج اور شہری انتظامیہ کی یہ دوستی بہت دنوں تک شاید چلنے والی نہیں ہے۔ فوج سول حکومت کا ساتھ دیتی ہے تو اپنے فائدے کیلئے ،اسی طرح اگر کوئی سول حکومت فوج کی حمایت حاصل کرتی ہے تو خود کے فائدے کیلئے۔ سبھی اپنے اپنے فائدے کیلئے ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کی کسی کو پروا نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال بھی بہت دنوں تک برقرار رہنے والی نہیں ہے اور اگر ماضی پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ فوج نے کسی بھی سیاسی پارٹی کا بہت دنوں تک ساتھی نہیں دیا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت صحیح معنوں میں پروان تبھی چڑھے گی جب اس کے ہر ادارے کااحترام کیا جائے۔ اسے ملک کے قانون اور آئین کے مطابق کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان میں سیاسی عدم استحکام یونہی بنارہے گا اور وہاں کے عوام اسی طرح پستے رہیں گے جس طرح آج پس رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment