بھارت نے نیپال کے نئے نقشہ کو کیا خارج
نیپالی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے ملک کے سیاسی اور علاقائی نقشہ کو تبدیل کرنے کیلئے 13 جون کو آئین میں ترمیم کیلئے ایک بل کو منظوری دے دی۔ اس نئے نقشہ میں اتراکھنڈ کے ضلع پتھوڑا گڑھ کے کچھ علاقوں کو نیپالی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک قرار داد کومنظور کرکے بل پر بحث مکمل کرلی گئی۔
نیپالی کابینہ نے پچھلے ماہ کی 18 تاریخ کو جس نئے نقشہ کو منظوری دی تھی اس میں کالاپانی، لمپیادھورا (Limpeyadhura)اور لیپولیکھ (Lipulekh)کو نیپالی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام علاقے بھارت کے حصے ہیں اور ہمیشہ سے بھارت کے ہی حصے رہے ہیں جو ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلع کے انتظامی کنٹرول میں ہیں۔ یہ پورا علاقہ 350 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے جو بھارت کیلئے اسٹریٹیجک طور پر کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے ہوکر یاتری کیلاش مانسرور کی یاترا پر جاتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھارت اور تبت کے درمیان تجارت کیلئے ایک اہم راستہ بھی ہے۔ یہ بھارت ، نیپال اور چین کے تبت کے خود مختار علاقہ کے تراہے پر واقع ہے۔
بھارت نے نیپال کے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعات پر بات چیت کرنے کی مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ نئی دہلی نے زور دے کر کہا کہ نیپال کا یہ مصنوعی دعویٰ تاریخی حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے کوئی شواہد موجود ہیں کہ علاقہ اس کا ہے اس لئے اس دعویٰ کو منظور نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پہلے بھی جب نیپال نے 20 مئی کو نیا نقشہ جاری کیا تھا تو بھارت نے امید ظاہر کی تھی کہ نیپال کی قیادت صبر وتحمل سے کام لیکر باقی ماندہ سرحدی تنازعات کے حل کی غرض سے بات چیت کیلئے ایک مثبت ماحول پیدا کرے گی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پچھلے ماہ کی آٹھ تاریخ کو اتراکھنڈ میں دھارچولا (Dharchula) شہر کو لیپولیکھ درّہ سے جوڑنے والی 80 کلو میٹر لمبی سڑک کا افتتاح کیا تھا۔ یہ راستہ کیلاش مانسرور تک پہنچاتا ہے اور یہ سڑک بھی ہندوستانی علاقہ میں تعمیر کی گئی ہے۔ بس اس کے بعد ہی نیپال نے بلاوجہ کالاپانی کا تنازعہ کھڑا کردیا۔ نیپال نے جب اس پر اعتراض کیا تو نئی دہلی نے واضح کیا کہ یہ سڑک یاتریوں اور تاجروں کی سہولت کیلئے مانسرور کے روایتی اور پرانے راستہ پر بنائی گئی ہے جو پوری طرح سے بھارت کے اندر ہی ہے ۔
اس سے قبل پچھلے سال نومبر میں بھی جب بھارت نے ریاست جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے انہیں مرکز کے زیرانتظام والے علاقے بنادیئے اور اس سلسلہ میں نیا نقشہ جاری کیا تب بھی نیپال نے کافی شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ جیسا کہ ماضی میں بھی تھا اس نئے نقشہ میں بھی کالاپانی ، لمپیادھورا اور لیپولیکھ کو بھارت کے علاقے دکھائے گئے ہیں اس پر نیپال نے سخت اعترض کیا۔ یہ بات یہاںواضح کردینا چاہئے کہ یہ تمام علاقے ہمیشہ سے بھارت کے حصے رہے ہیں اسی لئے انہیں بھارت کے نقشہ میں دکھایا گیا ہے۔ لہٰذا نیپال کے ردعمل کی کوئی مناسب وجہ نظر نہیں آتی۔
تاہم نیپال نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرحدی تنازعہ کے حل کیلئے خارجہ سکریٹری سطح کی بات چیت کا مطالبہ کیا۔ سفارتی چینلوں کے ذریعے اس بات چیت کی تاریخیں طے ہونے والی تھیں حالانکہ دونوں ملکوں کو اس وقت کووڈ-19 جیسی وبا کا سامنا ہے لیکن تبھی کے پی شرما اولی حکومت نے کافی جلد بازی میں نیپال کا ایک نیا نقشہ جاری کردیا جس میں ان علاقوں کو نیپال کے حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ پارلیمنٹ میں ایک بل لے آئے جسے 13 جون کو منظوری مل گئی۔ تاہم جناب اولی اور نیپال کے دوسرے رہنما اب بھی محسوس کرتے ہیں کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے اب بھی حل کیا جاسکتا ہے۔
اس بل کے پارلیمنٹ میں منظور ہونے سے پہلے 10 جون کو نیپالی حکومت نے متنازعہ علاقوں کے بارے میں ملک کے حق میں تاریخی حقائق اور شواہد اکٹھا کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ایسا لگتا ہے کہ بل کے منظور ہونے کے باوجود نیپالی قیادت کے ذہنوں میں شک وشبہات ابھی بھی موجود ہیں۔
بھارت اور نیپال کے درمیان ہمیشہ سے جغرافیائی ، ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رشتے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان بھی گہرے تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد سے متعلق تنازعات 98فیصد تک حل ہوچکے ہیں۔ اس لئے امید کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک سفارتی اور سیاسی چینلوں کے ذریعہ موجودہ تعطل کو بھی ختم کرنے میں کامیاب ہونگے۔
نیپالی کابینہ نے پچھلے ماہ کی 18 تاریخ کو جس نئے نقشہ کو منظوری دی تھی اس میں کالاپانی، لمپیادھورا (Limpeyadhura)اور لیپولیکھ (Lipulekh)کو نیپالی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام علاقے بھارت کے حصے ہیں اور ہمیشہ سے بھارت کے ہی حصے رہے ہیں جو ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلع کے انتظامی کنٹرول میں ہیں۔ یہ پورا علاقہ 350 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے جو بھارت کیلئے اسٹریٹیجک طور پر کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے ہوکر یاتری کیلاش مانسرور کی یاترا پر جاتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھارت اور تبت کے درمیان تجارت کیلئے ایک اہم راستہ بھی ہے۔ یہ بھارت ، نیپال اور چین کے تبت کے خود مختار علاقہ کے تراہے پر واقع ہے۔
بھارت نے نیپال کے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعات پر بات چیت کرنے کی مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ نئی دہلی نے زور دے کر کہا کہ نیپال کا یہ مصنوعی دعویٰ تاریخی حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے کوئی شواہد موجود ہیں کہ علاقہ اس کا ہے اس لئے اس دعویٰ کو منظور نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پہلے بھی جب نیپال نے 20 مئی کو نیا نقشہ جاری کیا تھا تو بھارت نے امید ظاہر کی تھی کہ نیپال کی قیادت صبر وتحمل سے کام لیکر باقی ماندہ سرحدی تنازعات کے حل کی غرض سے بات چیت کیلئے ایک مثبت ماحول پیدا کرے گی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پچھلے ماہ کی آٹھ تاریخ کو اتراکھنڈ میں دھارچولا (Dharchula) شہر کو لیپولیکھ درّہ سے جوڑنے والی 80 کلو میٹر لمبی سڑک کا افتتاح کیا تھا۔ یہ راستہ کیلاش مانسرور تک پہنچاتا ہے اور یہ سڑک بھی ہندوستانی علاقہ میں تعمیر کی گئی ہے۔ بس اس کے بعد ہی نیپال نے بلاوجہ کالاپانی کا تنازعہ کھڑا کردیا۔ نیپال نے جب اس پر اعتراض کیا تو نئی دہلی نے واضح کیا کہ یہ سڑک یاتریوں اور تاجروں کی سہولت کیلئے مانسرور کے روایتی اور پرانے راستہ پر بنائی گئی ہے جو پوری طرح سے بھارت کے اندر ہی ہے ۔
اس سے قبل پچھلے سال نومبر میں بھی جب بھارت نے ریاست جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے انہیں مرکز کے زیرانتظام والے علاقے بنادیئے اور اس سلسلہ میں نیا نقشہ جاری کیا تب بھی نیپال نے کافی شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ جیسا کہ ماضی میں بھی تھا اس نئے نقشہ میں بھی کالاپانی ، لمپیادھورا اور لیپولیکھ کو بھارت کے علاقے دکھائے گئے ہیں اس پر نیپال نے سخت اعترض کیا۔ یہ بات یہاںواضح کردینا چاہئے کہ یہ تمام علاقے ہمیشہ سے بھارت کے حصے رہے ہیں اسی لئے انہیں بھارت کے نقشہ میں دکھایا گیا ہے۔ لہٰذا نیپال کے ردعمل کی کوئی مناسب وجہ نظر نہیں آتی۔
تاہم نیپال نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرحدی تنازعہ کے حل کیلئے خارجہ سکریٹری سطح کی بات چیت کا مطالبہ کیا۔ سفارتی چینلوں کے ذریعے اس بات چیت کی تاریخیں طے ہونے والی تھیں حالانکہ دونوں ملکوں کو اس وقت کووڈ-19 جیسی وبا کا سامنا ہے لیکن تبھی کے پی شرما اولی حکومت نے کافی جلد بازی میں نیپال کا ایک نیا نقشہ جاری کردیا جس میں ان علاقوں کو نیپال کے حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ پارلیمنٹ میں ایک بل لے آئے جسے 13 جون کو منظوری مل گئی۔ تاہم جناب اولی اور نیپال کے دوسرے رہنما اب بھی محسوس کرتے ہیں کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے اب بھی حل کیا جاسکتا ہے۔
اس بل کے پارلیمنٹ میں منظور ہونے سے پہلے 10 جون کو نیپالی حکومت نے متنازعہ علاقوں کے بارے میں ملک کے حق میں تاریخی حقائق اور شواہد اکٹھا کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ایسا لگتا ہے کہ بل کے منظور ہونے کے باوجود نیپالی قیادت کے ذہنوں میں شک وشبہات ابھی بھی موجود ہیں۔
بھارت اور نیپال کے درمیان ہمیشہ سے جغرافیائی ، ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رشتے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان بھی گہرے تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد سے متعلق تنازعات 98فیصد تک حل ہوچکے ہیں۔ اس لئے امید کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک سفارتی اور سیاسی چینلوں کے ذریعہ موجودہ تعطل کو بھی ختم کرنے میں کامیاب ہونگے۔
Comments
Post a Comment