وزیر اعظم کا انڈین چیمبر آف کامرس سے خطاب
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز انڈین چیمبرآف کامرس کے 95ویں مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بحران ہمیں نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان مواقع کا پتا لگاکر خودانحصار بھارت کی تعمیر کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آب وہوا کی تبدیلی کے درمیان اس وقت ملک کو کوودڈ انیس جیسی وبا کا بھی سامنا ہے۔
ہندوستانی معیشت اس وقت کمانڈ اینڈ کنٹرول موڈ میں ہے۔ وزیر اعظم نے معیشت کو پلگ اینڈ پلے موڈ میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دقیانوسی طرز کو چھوڑکر بھارت کو ایسی گھریلو سپلائی چین تیار کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح کی ہو تاکہ وہ دنیا میں دوسرے ملکوں کا مقابلہ کرسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سرمایہ کاری سے متعلق بڑے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوسکے۔
وزیراعظم نے اوسط، چھوٹے اور بہت چھوٹے درجہ کی صنعتوں اور غیر بینکنگ اقتصادی کمپنیوں میں نقدی ڈالنے سے متعلق اصلاحات پر بھی زور دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے معاشی پیکیج کی جن قسطوں کا اعلان کیا تھا ان میں ان شعبوں میں نقدی ڈالنے سے متعلق اقدامات کا ذکر ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سرکاری شعبہ کی تعمیر نو کے لیے انڈین بینکراپسی کوڈ جیسی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سرمایہ کاری کا راستہ صاف کرنے کے لیے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیلس کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
حکومت نے حال ہی میں ایک پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت کسان اپنی فصلوں کو ملک میں کہیں بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ ہم حکومت کی اس پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں سے زراعت کے شعبے میں زیادہ دولت اکٹھا نہیں ہورہی ہے بلکہ اس میں کمی ہی واقع ہورہی ہے جس کا زرعی پیداوار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ لہذا وزیراعظم نے زراعت کے بنیادی ڈھانچہ پر بھی دوبارہ زور دیا ہے جو قابل ستائش عمل ہے۔
وزیراعظم نے مشرقی اورشمال مشرقی علاقوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ان علاقوں میں بھرپور وسائل ہیں۔انہوں نے شمال مشرق میں دیسی کھاد کے ذریعہ کھیتی کرنے کی پالیسی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح سے پیدا کی گئی فصلوں کو عالمی بازار میں قبولیت مل گئی تو اس انداز سے کھیتی کرنا اس علاقہ میں ایک بڑی مہم بن سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ تین پی پیپل، پلینٹ اور پرافٹ کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے توانائی بچانے کے طریقوں کی مثال پیش کی۔ انہوں نے ملک کو سنگل یوز پلاسٹک سے آزاد کرانے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے جوٹ کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مغربی بنگال حکومت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے جوٹ کی صنعت سے موقع سے مزید فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکمرانی میں عوام کی فلاح وبہبود مقدم ہوگی۔ جناب مودی نے معاشی ترقی میں سب کی شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی اقتصادی خدمات تک رسائی کافی اہم ہے۔ غریبوں کے بارے میں یہ بات ہرگز نہیں سوچی جاسکتی کہ وہ غیر اہم ہیں اور ان سے کوئی معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خود انحصار بھارت کے قیام میں روپے کارڈ کی شروعات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں، غریبوں اور مڈل کلاس کے لوگوں کا کافی آسانیاں فراہم ہوگئی ہیں۔ وزیراعظم نے اقتصادی کاروبار میں بھیم ایپ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیلف ہیلپ گروپ اور ایم ایس ایم ای کی مدد کے لیے گورنمنٹ-ای مارکیٹ پلیٹ فارم کی اہمیت پر بھی زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایپ کے ذریعہ ایم ایس ایم ای اور سیلف ہیلپ گروپ اپنے سامان اور اپنی خدمات براہ راست حکومت کو فراہم کرسکتے ہیں۔
جناب مودی نے صنعتوں سے تحقیق و ترقی میں سرمایہ لگانے کی اپیل کی۔انہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ سولر پینلوں کی بجلی اسٹور کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اچھی بیٹریاں بنائیں۔وزیر اعظم نے ملک کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں کی ترقی میں انڈین چیمبر آف کامرس کی رول کی ستائش کی اور کہا کہ وہ علاقوں کی مزید ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔
ہندوستانی معیشت اس وقت کمانڈ اینڈ کنٹرول موڈ میں ہے۔ وزیر اعظم نے معیشت کو پلگ اینڈ پلے موڈ میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دقیانوسی طرز کو چھوڑکر بھارت کو ایسی گھریلو سپلائی چین تیار کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح کی ہو تاکہ وہ دنیا میں دوسرے ملکوں کا مقابلہ کرسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سرمایہ کاری سے متعلق بڑے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوسکے۔
وزیراعظم نے اوسط، چھوٹے اور بہت چھوٹے درجہ کی صنعتوں اور غیر بینکنگ اقتصادی کمپنیوں میں نقدی ڈالنے سے متعلق اصلاحات پر بھی زور دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے معاشی پیکیج کی جن قسطوں کا اعلان کیا تھا ان میں ان شعبوں میں نقدی ڈالنے سے متعلق اقدامات کا ذکر ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سرکاری شعبہ کی تعمیر نو کے لیے انڈین بینکراپسی کوڈ جیسی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سرمایہ کاری کا راستہ صاف کرنے کے لیے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیلس کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
حکومت نے حال ہی میں ایک پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت کسان اپنی فصلوں کو ملک میں کہیں بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ ہم حکومت کی اس پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں سے زراعت کے شعبے میں زیادہ دولت اکٹھا نہیں ہورہی ہے بلکہ اس میں کمی ہی واقع ہورہی ہے جس کا زرعی پیداوار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ لہذا وزیراعظم نے زراعت کے بنیادی ڈھانچہ پر بھی دوبارہ زور دیا ہے جو قابل ستائش عمل ہے۔
وزیراعظم نے مشرقی اورشمال مشرقی علاقوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ان علاقوں میں بھرپور وسائل ہیں۔انہوں نے شمال مشرق میں دیسی کھاد کے ذریعہ کھیتی کرنے کی پالیسی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح سے پیدا کی گئی فصلوں کو عالمی بازار میں قبولیت مل گئی تو اس انداز سے کھیتی کرنا اس علاقہ میں ایک بڑی مہم بن سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ تین پی پیپل، پلینٹ اور پرافٹ کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے توانائی بچانے کے طریقوں کی مثال پیش کی۔ انہوں نے ملک کو سنگل یوز پلاسٹک سے آزاد کرانے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے جوٹ کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مغربی بنگال حکومت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے جوٹ کی صنعت سے موقع سے مزید فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکمرانی میں عوام کی فلاح وبہبود مقدم ہوگی۔ جناب مودی نے معاشی ترقی میں سب کی شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی اقتصادی خدمات تک رسائی کافی اہم ہے۔ غریبوں کے بارے میں یہ بات ہرگز نہیں سوچی جاسکتی کہ وہ غیر اہم ہیں اور ان سے کوئی معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خود انحصار بھارت کے قیام میں روپے کارڈ کی شروعات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں، غریبوں اور مڈل کلاس کے لوگوں کا کافی آسانیاں فراہم ہوگئی ہیں۔ وزیراعظم نے اقتصادی کاروبار میں بھیم ایپ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیلف ہیلپ گروپ اور ایم ایس ایم ای کی مدد کے لیے گورنمنٹ-ای مارکیٹ پلیٹ فارم کی اہمیت پر بھی زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایپ کے ذریعہ ایم ایس ایم ای اور سیلف ہیلپ گروپ اپنے سامان اور اپنی خدمات براہ راست حکومت کو فراہم کرسکتے ہیں۔
جناب مودی نے صنعتوں سے تحقیق و ترقی میں سرمایہ لگانے کی اپیل کی۔انہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ سولر پینلوں کی بجلی اسٹور کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اچھی بیٹریاں بنائیں۔وزیر اعظم نے ملک کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں کی ترقی میں انڈین چیمبر آف کامرس کی رول کی ستائش کی اور کہا کہ وہ علاقوں کی مزید ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔
Comments
Post a Comment