سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ جسٹس عیسیٰ کے حق میں
آج کل پاکستان کے میڈیا اور بطورِ خاص سوشل میڈیا میں سپریم کورٹ ہی کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ کے کیس اور اس کیس کے فیصلے کا بہت چرچہ ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تو خیر ابھی چند روز قبل ہی آیا ہے لیکن اس کیس کا ذکر بہت عام تھا۔ دراصل جسٹس فائز عیسیٰ نے 2017 کے ایک مقدمہ کا فیصلہ سنایا تھا جس سے پاکستان کا فوجی ٹولہ چراغ پا ہوگیا تھا۔ ہوا یوں کہ 2017 کے اواخر میں ایک انتہا پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ نے راجدھانی اسلام آباد کو ایک طرح سے یرغمال بنا لیا تھا اور پورے شہر کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔ مظاہرین تشدد پر اتر آئے تھے اور پولیس نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تھی تو انہوں نے پولیس نفری پر بھی حملہ کردیا تھا۔ اسی زمانے میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مظاہرین کو فوج کی در پردہ حمایت حاصل ہے اور وہ انہیں اکسا بھی رہی ہے۔ ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے تھے جن میں یہ دکھایاگیا تھا کہ فوجی اہلکار مظاہرین کو کچھ رقم بھی دے رہے ہیں۔ ویسے یہ بات بھی عوامی طور پر سامنے آگئی تھی کہ خود آرمی چیف نے ’’بیچ بچاؤ‘‘ کرنے کی پہل کی تھی اور ثالث کا رول ادا کیا تھا۔ مظاہرین کے دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ اس وقت کے وزیرقانون استعفیٰ دیں۔ آرمی چیف نے وزیراعظم سے مل کر اس معاملے کو یوں ختم کرایا کہ وزیراعظم کو بیشتر مطالبات تسلیم کرنے پڑے جس میں وزیر قانون کا استعفیٰ بھی شامل تھا۔ تب کہیں جا کر تحریک لبیک نے اپنا احتجاج ختم کیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب سابق وزیراعظم نوازشریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی کا ماحول تھا اور نواز شریف کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا توو زیر اعظم خاقان عباسی تھے۔
بہر حال اسی پسِ منظر میں تحریک لبیک کے احتجاج کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ فوج کا رول عام گفتگو کا موضوع بنا ہوا تھا۔ یہ معاملہ عدالت میں بھی پہنچا تھا۔ اس کا فیصلہ کچھ ہی عرصہ قبل آیا تھا ، وہ فیصلہ جسٹس فائز عیسیٰ نے ہی سنایا تھا جس میں انہوں نے فوجی اہلکاروں کی یہ کہہ کر سرزنش کی تھی کہ وہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں جو ان کے فرائض منصبی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ اس سے متصادم ہونا ہے۔ اسی فیصلہ میں انہوں نے فوج کے تمام بازؤوں کے سربراہوں کو وزارت دفاع کے توسط سے یہ ہدایت بھی کی تھی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے ان اہلکاروں کا پتہ لگائیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی کریں جو اپنے حلف اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں ملوث ہوئے۔ ان کے مطابق آئین کی رو سے انہیں اپنے فرائض کے دائرے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
ظاہر ہے یہ فیصلہ فوجی ہیڈ کوارٹر کو بے حد ناگوار گزرا۔ لہٰذا حکومت پاکستان کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس عدالت میں داخل کیا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے بیٹوں اور بیوی کی املاک غیرممالک میں ہیں۔ اس ریفرنس سےوکلاء کی بیشتر تنظیمیں برافروختہ ہوئی تھیں کیونکہ جسٹس عیسیٰ کو ایک انتہائی ایماندار اور بے داغ جج مانا جاتا ہے اور وہ ماہرین قانون میں بھی احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ بہر حال جسٹس عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کیاجس میں انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ ان کے فیصلے سے ایک طاقتور طبقہ خوش نہیں تھا اس لئے انہیں عدالت سے ہٹانے کے لئے ایک پلان بنایا گیا ہے۔یاد رہے کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سے خود ایڈیشنل اٹارنی بھی ناراض تھے اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔حکومت کی طرف سے فروغ نسیم بطور وکیل مقرر کئے گئے تھے جو ایک سیاست داں ہیں اور عمران حکومت میں وزیر بھی تھے لیکن اس مقدمہ میں حکومت کی پیروی کرنے کے لئے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ وہ پارٹیاں بدلنے کے لئے بھی مشہور ہیں۔ بہر حال جسٹس عیسیٰ کے پٹیشن کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو بنچ کے بعض جج صاحبان کے کچھ چبھتے ہوئے سوالات نے خاصا پریشان کیا تھا۔
اسی کا فیصلہ چند روز قبل سامنے آیا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نےپڑھ کر فیصلہ سنایا۔ انہوں نے جیسے ہی یہ کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا پٹیشن منظور کرلیا گیا ہے،کمرۂ عدالت میں دبی دبی جوش بھری آوازیں سنائی دینے لگیں۔ صحافیوں نے فوراً اپنے اپنے دفتروں کو فیصلہ کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کیا۔ سرکاری وکیل فروغ نسیم صحافیوں کے سوالوں سے بچتے ہوئے نکل گئے، جبکہ جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تو جسٹس عیسیٰ کے حق میں آیا ہے لیکن ابھی کہا نہیں جاسکتا کہ حکومت کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ معاملہ سپریم جوڈیشیل کونسل کے پاس جائے اور ابھی قطعی فیصلے کا انتظار کرنا پڑے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو فوج کے دباؤ کے باعث سپریم جوڈیشیل کونسل ہی کے ایک فیصلے کے تحت عدالت سے ہٹا دیا گیا تھاکیونکہ انہوں نے اپنے ایک فیصلے میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بارے میں یہ کہا تھا کہ وہ عدالتوں کے ججوں پر ناجائز طور پر یہ دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ مقدمے کا فیصلہ ہر حال میں اسی کے حق میں سنائیں۔
پاکستان کے سسٹم میں یہ بات بطور خاص محسوس کی جاتی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ جب کسی بھی عہدیدار کے خلاف ہوجاتا ہے تو پھر وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اسے ہٹا کر ہی دم لیتا ہے ۔پھر وہ اسلام آباد کے ہائی کورٹ کے کسی جج کا معاملہ ہو یا کسی بھی وزیراعظم کا معاملہ! یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ سے جسٹس فائز عیسیٰ کے مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں آجانے کے بعد بھی یہ سوال ابھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر معاملہ سپریم جوڈیشیل کونسل تک گیا تو کیا وہاں بھی انہیں کامیابی ملے گی؟
Comments
Post a Comment