عمران خان تب اور اب

سابق کرکٹ کپتان اورپاکستان کےموجودہ وزیر اعظم اب سے کم وبیش 2 سال قبل 2018 میں برسراقتدار آئے تھے۔ فوج اور ایجنسیوں کی سرگرم حمایت سے وزیر اعظم بننے والے عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے اپوزیشن کے بڑے شعلہ بیان لیڈر مانے جاتے تھے اور الیکشن سے پہلے وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا جمہوریت پسند ایماندار اور بدعنوانی کے خلاف "جہاد"کرنے والا سیاست دان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ وہ اپنی انتخابی تقریروں میں "نیا پاکستان" بنانے کا وعدہ اور دعویٰ کیا کرتے تھے۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ بہت سے سیاست دان دعووں کی بوچھار کرتے وقت بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اگلے زمانوں کے عاشق اپنے محبوب کے لئے آسمان سے چاند اور ستارے توڑ لانے کا وعدہ کرتے تھے ۔ عمران خان سب سے زیادہ زور بدعنوانی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے اور اپنے پیشرو سیاست دانوں کے خلاف مہم چلانے پر دیا کرتے تھے۔ ان کاایک وعدہ یہ بھی تھا کہ بدعنوانی کے ذریعہ جن بے ایمان لوگوں نے غیر ممالک میں موٹی موٹی رقمیں جمع کررکھی ہیں انہیں وہ اقتدار میں آنے کے دو مہینہ کے اندر ہی اندر پاکستان واپس لائیں گے۔ ان کے مطابق اس طور پر غیر ممالک میں پاکستان کی 200بلین ڈالر کی رقم پھنسی ہوئی ہے۔ واپس لانے کے بعد 100بلین ڈالر کی رقم کے ذریعہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اتارے گا اور باقی 100 بلین ڈالر غریبوں کی حالت سدھارنے پر خرچ کئے جائیں گے۔

ظاہر ہے جب کوئی لیڈر اپنی جمہوریت پسندی اور ایمانداری کا اس بڑے پیمانے پر ڈھنڈھورا پیٹے گا تو لوگ اس تعلق سے اس کی کارکردگی اور پس منظر یا دوسرے لفظوں میں اس کے کیریڈینشیلس کو بھی حقیقت کی کسوٹی پر کسنا چاہیں گے۔

سو اب پاکستان میں ان کے وعدوں کی یاد دلا کر لوگ ان سے سوال بھی پوچھنے لگے ہیں، مختلف شعبوں میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔اوراگرچہ خوف کا ماحول ہے لیکن اس کے باوجود سخت سوال کئے جارہے ہیں۔ یہاں صرف ان باتوں کا ذکر کیا جائے گا جو عمران خان بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے کے حوالے سے کیا کرتے تھے۔پاکستان کے ممتاز صحافیوں ، سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے بے خوف ہو کر ان کی گزشتہ دو سال کی کارکردگی کا ذکر کرنا شروع کردیا ہے۔

پاکستان کے ممتاز سیاست داں اور سابق سینیٹرفرحت اللہ بابر نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کہا ہے کہ اپنے غیر ملکی دوروں کے درمیان بھی عمران خان اپنے پیشروسیاست دانوں کے خلاف سخت سست کہنے سے باز نہیں آتے تھے مثلاً اپنے دورہ چین کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ وہ کرپشن سے لڑنے کے لئے چینی ماڈل اختیار کریں گے اور کم ازکم 500 کرپٹ افراد کو جیلوں میں بند کریں گے۔ ان کی کابینہ کے ایک وزیر نے تو یہ تک کہا تھا کہ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا مستقبل اسی صورت میں محفوظ ہوگا جب 5000 کے قریب افراد کو تختہ دار تک بھیجا جائے گا۔ اسی طرح ڈاووس میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کو کوستے ہوئے یہ کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت انہی دونوں پارٹیوں نے مل کر تباہ کی اور یہ کہ پاکستانی فوج ان کے کرپشن سے تنگ آچکی تھی۔

اب اس پس منظر میں فرحت اللہ بابر نے خود عمران خان اور ان کی پارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق مرکز میں اقتدار میں آنے سے قبل 2013 میں ہی ان کی پارٹی صوبہ خیبر پختون خوا میں برسراقتدار آگئی تھی اور انھوں نے وہاں ایک احتساب کمیشن قائم کیا تھا۔ پھر وزیر اعظم بننے کے بعد قومی احتساب بیورو کے ہوتے ہوئے بھی انھوں نے اثاثے واپس لانے کی ایک یونٹ قائم کی تاکہ غیر ممالک سے لوٹی گئی رقم کو واپس لایا جاسکے۔اس کے لئے انھوں نے شہزاداکبر کو خصوصی اسسٹینٹ مقرر کیا۔

ان باتوں کے پس منظر میں فرحت اللہ بابر نے خود عمران حکومت کی کارکردگی کو آئینہ دکھایا ہے کہ دو سال کے ان کے دورحکومت میں 200بلین ڈالر تو دور کی بات 20 بلین ڈالر بھی رقم واپس نہیں لائی جاسکی۔ اسی طرح گزشتہ ہفتہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ سوال اٹھایا کہ شوگرانکوائری کمیشن سے یہ کیوں نہیں پوچھا گیا کہ شکر اکسپورٹ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی جبکہ شکر کی کمی خود پاکستان محسوس کررہا تھا۔ اس پر شہزاد اختر کا جواب تھا کہ چھان بین سے پتہ چلا کہ انکوائری کمیشن نے خود خاقان عباسی پرالزام لگایا ہے کہ انھوں نے ماضی میں چینی کے اکسپورٹ میں گھپلہ کیا تھا۔ ان پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ احتساب سے متعلق دعووں کی موجودہ حکومت کی گراوٹ کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔

صوبہ خیبر پختون خوا میں جواحتساب کمیشن قائم ہوا تھا اس نے جب اپنی آزادی کا استعمال کرنا چاہا اور صوبائی حکومت کے کچھ گھپلوں پر سوال اٹھایا تو عمران خان نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس کمیشن کو ہی ختم کردیا۔ اسی طرح قومی احتساب بیورو نے جب خود عمران خان کی پارٹی کے کچھ وزیروں کے گھپلوں کی چھان بین کرنا چاہی اور اس سلسلے میں کچھ ویڈیو جب سامنے آئے تو پھر احتساب بیورو میں اچانک یہ تبدیلی دیکھی گئی کہ کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث وزیروں سے سوال کرنا ہی بیورو نے ترک کردیا۔ اب جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملے کو دیکھا جائے ۔ چونکہ انھوں نے ایک فیصلہ میں فوج اور ان کی ایجنسیوں سے یہ سوال کیا تھا کہ انھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی معاملہ میں خود کو کیوں ملوث کیا تھا؟ اس لئے حکومت نے ان کے خلاف ایک ریفرینس داخل کیا ۔ گزشتہ دنوں جسٹس عیسیٰ نے ایک درخواست پیش کی کہ ان کے اور ان کی فیملی ممبران کی املاک کے بارے میں تو تمام اطلاعات اکٹھا کرلی گئیں۔ اب یہ بھی بتایا جائے کہ خصوصی اسسٹینٹ شہزاد اکبر اور ان کی فیملی ممبران کی پرا پرٹی کے بارے میں معلومات کیوں نہیں اکٹھا کی گئیں؟ اور یہ کہ خود شہزاد اکبر نے اپنی بیوی اور بچوں کی پراپرٹی کی تفصیلات اور ان کی شہریت کیوں نہیں ظاہر کی؟ یہ ہے حقیقت عمران خان کے نام نہاد کرپشن کے خلاف جہاد کی ! متعدد پاکستانی تجزبہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب تک فوج کو مقدس گائے تصور کیا جائے گا اور اسے جوابدہ نہیں بنایا جائے گا تب تک یہاں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ