پاکستان میں احمدیہ فرقہ پر ظلم و ستم

احمدیہ فرقہ اسلام کا وہ فرقہ ہے جو 23 مارچ 1889 میں وجود میں آیا اور جس کے بانی پنجاب کے ایک علاقہ قادیان کے رہنے والے مرزا غلام احمد تھے۔ ان کا دعوی تھا کہ خدا نے انہیں مہدی اور مسیح بنا کر بھیجا ہے۔ 1908 میں مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد اس فرقہ کے مختلف خلیفہ ہوئےاور موجودہ دور میں ان کے خلیفہ مرزا مسرور احمد ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد اس کا صدر دفتر قادیان سے منتقل ہر کر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقہ ربوہ چلا گیا اور اب اس کا صدر دفتر انگلینڈ میں ہے۔ یہ فرقہ اب تک 210 سے زیادہ ملکوں یا علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ ان کی تعداد تمام دنیا میں تقریباً 20ملین ہے۔ ان کی سب سے زیادہ آبادی پاکستان میں ہے۔ جو دو سے پانچ ملین کے درمیان ہے۔

پاکستان میں اس فرقہ کو جسے قادیانی بھی کہا جاتا ہے، لوگ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ حضرت محمدﷺ کو آخری پیغمبر تصور نہیں کرتے۔1947 میں پارلیمنٹ کی ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد 1984 میں جنرل ضیاء الحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ ان کے مذہبی حقوق چھین لئے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو دبانے اور کچلنے کی ہمیشہ کوششیں کی گئیں اور یہ کوشش آج بھی جاری ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کی بہت سی مشہور و معروف شخصیات کا تعلق اسی فرقہ سے ہے ان میں سب سے اہم نام مشہور سائنسداں اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کا ہے جس کے مرنے کے بعد ان کی قبر پر لگے پتھر پر سے لفظ مسلم ہٹا دیا گیا۔ اس سے قبل 1953میں لاہور میں جو فسادات ہوئے ان میں سیکڑوں قادیانی مارے گئے ۔ 1974 میں بھی احمدیہ مخالف فسادات ہوئے جن میں کافی تعداد میں اس فرقہ کے لوگ ہلاک ہوئے۔ مئی 2010 میں احمدیہ مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ آج بھی لوگوں کا دل دہلا دیتا ہے۔ اس حملہ میں 84 قادیانیوں کی جانیں تلف ہوئی تھیں۔ 2012 میں فیصل آباد کی پولیس نے قادیانیوں کی قبروں پر کندہ قرآنی آیتوں کو ہٹا دیا ۔ لاہور میں بھی ان کی بہت سی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ 8 مارچ 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقلیتوں اور احمدیہ فرقہ کے خلاف ایک فیصلہ سنایا جس کے تحت سرکاری ملازمت کے لیے اپنے مذہبی عقائد کا بتانا ضروری ہوگیا۔ اب چونکہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے اس لئے ان کا سرکاری ملازمت میں آنا نا ممکن سا ہو گیا۔ ابھی پچھلے سال 25 اکتوبر کو بہاولپور کے مراد ضلع میں قادیانیوں کی 70 سالہ تاریخی مسجد کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں بھی ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ملک کے میڈیا میں بھی اسلامی شدت پسندی بھری ہوئی ہے اسلئے اس نے بھی قادیانیوں کے خلاف نفرت کی مہم چلا رکھی ہے۔ پاکستان کا آئین قادیانیوں کو برابر کے شہری حقوق دینے کی بات کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہے کہ انہیں یہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ وہ اگر ایسا نہیں کرتے تو انہیں ووٹ دینے کا حق بھی نہیں ہوگا۔

اس سال اپریل میں عمران خان حکومت نے قادیانیوں کو بھی قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمران حکومت کے اس فیصلہ سے پاکستانی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک حصہ وہ تھا جس کا تعلق حکمراں پارٹی تحریک انصاف سے تھا۔ اس نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نےوہ فیصلہ کیا ہے جو اس سے پہلے کوئی بھی حکومت نہ کر سکی تاہم اس فیصلہ کے مخالف لوگوں کا کہنا ہے کہ قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ بہت بڑی بھول ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس فرقہ کی سرکوبی کے بجائے اس کی عزت افزائی کر کے عمران خان نے اچھا نہیں کیا ہے۔ چونکہ ایسے لوگ شدت پسند ہیں اسلئے انہوں نے اس فیصلہ کے خلاف آواز اٹھانی شروع کر دی اور اس فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنانے لگے۔ بالآخر مجبور ہو کر وفاقی حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں پاکستانی میڈیا بھی اپنا رول ادا کرتا ہے، اس نے بھی اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر جب اس فیصلہ کے خلاف مہم چلی تو مذہبی امور کے وزیر نورالحق قادری کو یہ کہنا پڑا کہ قادیانیوں کو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ غیر مسلم ہیں ۔ جب تک وہ ایسا نہیں کرتے وہ کسی بھی اقلیتی کمیشن کا حصہ نہیں بن سکتے۔ قابل ذکر ہے کہ قادیانی خود کو مسلم کہتے ہیں اور وہ خود کو غیر مسلم قرار دینے سے متعلق آئینی ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ حال ہی میں جو اقلیتی کمیشن قائم کیا گیا اس میں اپنی پسند کے اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ملاوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے اور یہ ادارہ بہت زیادہ خود مختار بھی نہیں ہے۔ احمدیہ فرقہ کو کمیشن میں شامل کرنے کا معاملہ جیسے ہی سامنے آیا پنجاب اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا کہ اس برادری کے اعلی رہنما یہ لکھ کردیں کہ ان کی برادری غیر مسلم ہے تبھی ان کو اقلیتی کمیشن میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی گارنٹی دی گئی ہے اور اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا نہایت ہی خطرناک اور افسوسناک اقدام ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو اقلیتی درجہ نہ دیئے جانے کے مطالبہ پر حکومت کا جھکنا کافی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسلامی شدت پسند عناصر انہیں کافر کے زمرہ میں رکھنے کیلئے بضد ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں یہ فرقہ شدت پسند گروپوں کے رحم و کرم پر جینے کیلئے مجبور ہے کیونکہ حکومتیں سیاسی حکمت عملی کے تحت اس طرح کے معاملات میں کوئی فیصلہ لینے سے گریز کرتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ