موضوع: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاکستان سے نئے مطالبے

تازہ خبروں کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات روک دے۔ کووڈ۔ 19 وبا کے باعث پاکستانی معیشت اس وقت بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ لہذا آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ آئندہ سال کے بجٹ میں بنیادی خسارے کو مجموعی گھریلو پیداوار کا منفی صفر اعشاریہ چار فیصد تک لانے کے لئے معاشی اصلاحات کرے۔ اس وقت بنیادی خسارہ منفی دو اعشاریہ نو فیصد ہے۔ آئندہ بجٹ میں اسے کم کرکے منفی صفر اعشاریہ چار فیصد تک لانے کے لئے تمام بڑے غیر ترقیاتی اخراجات پر لگام لگانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ نہ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روک دے بلکہ دفاعی اخراجات پر بھی روک لگائے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ایسے وقت میں پاکستان کو سخت شرائط کے ساتھ چھ ارب ڈالر کا قرض دینے کا فیصلہ کیا تھا جب کوئی بھی عالمی ادارہ اسلام آباد کو قرض دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ جب کسی بھی ملک کی معیشت خستہ حال ہو تو اسے کون قرض دے گا۔ پاکستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو اس قرض کی آئندہ قسط تبھی ملے گی جب پاکستان اگلے سال کے بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کا دھیان رکھے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو 450 ملین ڈالر کی تیسری قسط، جو کووڈ۔ 19 وبا پھیلنے کے بعد روک دی گئی تھی، پاکستان کو ملنا مشکل ہوجائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سے پاکستانی معیشت بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے قرض کی تیسری قسط روک دی تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پاکستان کے درمیان اسلام آباد میں تکنیکی سطح کی حالیہ میٹنگ میں تنظیم نے اس بات کی بھی سفارش کی کہ اسلام آباد کو سخت معاشی پالیسیاں اپنانی چاہیے۔فنڈ نے متنبہ کیا کہ اگر پاکستانی حکومت آئندہ بجٹ میں بنیادی خسارے کو مجموعی گھریلو پیداوار کے منفی دو اعشاریہ 9 فیصد سے کم کرکے منفی صفر اعشاریہ چار فیصدتک نہیں لائی تو ملک قرض کے جال میں بری طرح پھنس جائے گا اور اس جال سے اس کا نکل پانا کافی مشکل ہوگا۔ پاکستان پر اس سال مارچ تک 42820 ارب روپے کا قرض تھا جو مجموعی گھریلو پیداوار کا 98 اعشاریہ دو فیصد ہے۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ اس رفتارسے یہ مستقل قریب میں سو فیصد تک پہنچ جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کی معاشی صورتحال اتنی بدتر ہوئی کیسے؟ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت کا اتنا برا حال کبھی نہیں تھا جتنا اب ہے۔ انہیں یہ صورتحال سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں سابق حکومت سے 1250 ارب روپے کا مالی خسارہ ملا۔ نواز شریف کے دوراقتدار میں بدعنوانی کا بول بالا تھا۔ نواز شریف ایک طرف تو قرض حاصل کرنے کے لئے غیر ملکی دورے کرتے تو دوسری جانب وہ عوام کے پیسے بیرون ملک جعلی کمپنیاں کھول کر اس میں بھیجتے رہے۔ چند سال قبل پنامہ کی موسیک مونسیکا نام کی ایک لافرم نے ایک کروڑ دس لاکھ دستاویزات لیک کئے۔ ان دستاویزات میں دنیا کے بڑے اور طاقتور لوگوں کے نام شامل تھے، جنہوں نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان میں روس کے صدر ولا دیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جنپنگ کا نام بھی شامل تھا۔ لیکن پاکستانی عوام کے لئے جو سب سے اہم نام تھا، وہ تھا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا۔ ان دستاویزات کے لیک ہوتے ہی پاکستان میں تہلکہ مچ گیا۔ نواز شریف کے خلاف قومی احتساب بیورو میں کارروائی چلی جس کے بعد بالآخر سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے عہدے کے لئے انہیں نااہل قرار دے دیا اور انہیں جیل جانا پڑا۔ پاکستان کی برآمدات بھی اس وقت تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات میں تیس ارب ڈالر کا قرض ہے۔ اس کے پاس ایسا خام مال بھی نہیں ہے جو بین الاقوامی بازار کا مقابلہ کرسکے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ اگر گروپ۔ 20 کے ممالک اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرسکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا۔ لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں کیونکہ افراط زر کی شرح دو ہندسوں میں ہے اور افراط زر کا اثر ملازم پیشہ لوگوں پر سب سے زیادہ پڑا ہے۔ اس لئے پنشن اور تنخواہوں میں دس سے 15 فیصد کا اضافہ ناگزیر ہے۔ اس لئے بنیادی مالی خسارے کو اس انداز سے ایک ہی بار میں کم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس خسارے کو مجموعی گھریلو پیداوار کا منفی دو اعشاریہ 9 فیصد سے کم کرکے منفی ایک اعشاریہ دو فیصد تک تو لایا جاسکتا ہے لیکن اس سے زیادہ نہیں۔ پاکستانی حکام اس سلسلہ میں غریب ترین لوگوں کو سماجی تحفظ اور صحت کے شعبہ کو امداد فراہم کرنے کا حوالہ دے رہے ہیں۔

پاکستان اگر آئی ایم ایف کی بات مان کر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روک دیتا ہے اور دفاعی اخراجات پر بھی پابندی عائد کر دیتا ہے تو اس سے اسے سرکاری ملازمین اور فوج کے غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو اسے اس عالمی ادارے سے قرض ملنا بند ہوجائے گا ۔ پاکستان اس وقت منجھدار میں پھنسا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد اس منجھدار سے کیسے نکلتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ